🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
556. ذكر مناقب صهيب بن سنان مولى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان، جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5803
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: صُهَيب بن سِنانِ بن مالك بن عبد عَمرو بن عُقيل بن عامر، وكان أبوه سِنانُ بن مالك عامِلًا لكِسْرى على الأُبُلّة، وكانت مَنازلُهم بأرضِ المَوصِل في قريةٍ على شَطِّ الفُرات ممّا يلي الجَزيرةَ والمَوصِلَ، فأغارت الرومُ على تلك الناحية، فسُبِيَ صهيبٌ وهو غلام صغير، فقال عمُّه: أَنشُدُ باللهِ الغُلامَ النَّمَريّ … دَجَّ به الرُّومُ وأهلي بالثَّنِيّ (1) قال: والثَّنِيُّ (1) اسمُ القرية التي كان بها أهلُه، فنشأ صهيبٌ بالروم، فابتاعه منهم كَلْبٌ، ثم قَدِمَت به مكةَ، فاشتراهُ عبدُ الله بن جُدْعان التَّيْمي، فأعتقه، فأقام معه بمكة حتى هَلَكَ عبدُ الله بن جُدعان وبُعِثَ النبيُّ ﷺ (2)
محمد بن عمر نے ان نسب یوں بیان کیا ہے صہیب بن سنان بن مالک بن عبد عمرو بن عقیل بن عامر ان کے والد سنان بن مالک ایلہ میں کسریٰ کے گورنر تھے، نہر فرات کے کنارے والی پٹی پر جزیرہ اور موصل کے مقام پر آپ کا خاندان آباد تھا، روم سے اس علاقے پر حملہ کیا تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ قیدی ہوئے، اس وقت آپ چھوٹے بچے تھے۔ ان کے چچا نے یہ اشعار کہے: انشد باللہ الغلام النمری، دج بہ الروم واھلی بالنبی راوی کہتے ہیں: اس شعر میں لفظ نبی ایک علاقے کا نام ہے جہاں ان کے اہل و عیال رہتے تھے، صہیب رضی اللہ عنہ نے روم میں پرورش پائی، رومیوں سے کلب نے ان کو خریدا اور مکہ میں لے آئی، یہاں پر کلب سے عبداللہ بن جدعان تیمی نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر سیدنا صہیب، انہی کے ہمراہ مکہ میں رہے، جب عبداللہ بن جدعان کی وفات ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5803]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5803 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحفت في النسخ الخطية في الموضعين إلى: النبي، بنون ثم موحدة، بدل الثاء المثلثة ثم النون.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں دونوں مقامات پر یہ لفظ تصحیف کا شکار ہو کر "النبی" (نون اور پھر باء موحدہ) بن گیا ہے، جبکہ صحیح "الثنی" (ثاء مثلثہ اور پھر نون) ہے۔
(2) ومثلُه قولُ ابن سعد في "طبقاته" 3/ 206، وابن سعد كاتب محمد بن عمر الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کا قول ابن سعد نے اپنی "طبقات" (3/ 206) میں نقل کیا ہے، اور ابن سعد محمد بن عمر الواقدی کے کاتب (شاگرد) ہیں۔
(3) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 208 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابن سعد کی "الطبقات الكبرى" (3/ 208) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
(1) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 211 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 211) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
قوله: لم يَرِم، أي: لم يَبْرح.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "لم یَرِم" کا مطلب ہے: وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا۔
(2) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 211 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 211) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5803M1
قال ابن عُمر: فحدثني عبد الله بن أبي عُبيدة، عن أبيه، قال: قال عمار بن ياسر: لقيتُ صُهيب بن سِنانٍ على باب دارِ الأرقم ورسول الله ﷺ فيها، فقلتُ له: ما تريدُ؟ فقال لي: ما تريدُ أنتَ؟ فقلتُ: أردتُ أن أدخُلَ على محمدٍ فأَسمعَ كلامَه، قال: وأنا أُريد ذلك، فدخلْنا عليه، فعَرَض علينا الإسلام فأسلَمْنا، ثم مَكَثْنا يومَنا على ذلك حتى أمسَينا، ثم خَرَجنا ونحن مُستَخْفُون (3)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابی عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کا یہ بیان سنایا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صہیب بن سنان کے ساتھ میری ملاقات دارارقم کے دروازے پر ہوئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارارقم ہی میں موجود تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ کیا ارادہ لے کر آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: تم کیا ارادہ لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان کی گفتگو سننا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی ارادہ ہے۔ ہم دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبول اسلام کی دعوت دی، ہم نے اسلام قبول کر لیا وہ سارا دن ہم وہیں پر رہے، اور شام کے وقت چھپتے چھپاتے وہاں سے نکلے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5803M1]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5803M2
قال ابن عُمر: وحدثني عاصم بن سُوَيد من بني عَمرو بن عوف، عن محمد بن عُمارة بن خُزيمة بن ثابت، قال: قَدِمَ آخِرُ الناس في الهجرة إلى المدينة، عليٌّ وصُهيبُ بن سِنان، وذلك للنصف من ربيع الأول، ورسولُ الله ﷺ بقُباءٍ لم يَرِمْ بعدُ. وشهد صهيبٌ بدرًا واحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ في قول جَميعِهم (1) .
محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سب سے آخر میں ہجرت کر کے مدینہ شریف آئے۔ یہ 15 ربیع الاول کی بات ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں تھے۔ تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5803M2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5803M3
قال ابن عُمر: وحدثني أبو حُذيفة رجلٌ من وَلَد صُهيب، عن أبيه، عن جده، قال: توفي صهيبٌ في شوّال سنة ثَمانٍ وثلاثين وهو ابن سبعين سنةً بالمدينة، ودُفن بالبقيع، وكان يُكنى أبا يحيى (2) .
ابن عمر کہتے ہیں: مجھے ابوحذیفہ نے بتایا ہے کہ صہیب کی اولادوں میں سے کسی نے اپنے والد سے، اور اس نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ سیدنا صہیب ماہ شوال میں سن 38 ہجری کو مدینہ شریف میں فوت ہوئے اور ان کو بقیع پاک میں دفن کیا گیا، ان کی کنیت ابویحیی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5803M3]