المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
582. لا يدخل الجنة من كان فى قلبه مثقال حبة من خردل من كبر
جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا
حدیث نمبر: 5865
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سفيان، حدثنا أبو المغيرة عبد القُدُّوس بن الحجّاج، حدثنا صفوان بن عمرو، حدثني عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشْجَعي، قال: انطلقَ النبيُّ ﷺ وأنا معه حتى دخلْنا كنيسةَ اليهودِ، فقال:"يا معشرَ اليهود، أرُوني اثني عشر رجلًا يَشْهَدُون أن لا إله إلَّا الله وأن محمدًا رسول الله، يُحبِطِ اللهُ عن كل يهوديّ تحت أَدِيم السماء الغضبَ الذي غَضِبَ عليه" قال: فأَسكَتُوا ما أجابه منهم أحدٌ، ثم رَدّ عليهم فلم يُحبه منهم أحدٌ، فقال:"أبَيتُم؟! فواللهِ لأنا الحاشِرُ، وأنا العاقِبُ، وأنا النبيُّ المصطفى، آمنتُم أو كذَّبْتُم" ثم انصرف وأنا معه حتى كِدْنا أن نخرُجَ، فإذا رجلٌ من خَلْفِنا يقول: كما أنتَ يا محمدُ، فأقبل، فقال ذلك الرجلُ: أي رجل تَعلَمُوني فيكم يا معشَرَ اليهود؟ قالوا: والله ما نعلمُ أنه كان فينا رجلٌ أعلمَ بكتابِ الله منك، ولا أفقَهَ منك، ولا من أبيك قبلَك، ولا من جَدِّك قبلَ أبيك، قال: فإني أشهدُ له بالله أنه نَبيُّ الله الذي تَجِدُونه في التَّوراة، فقالوا: كَذَبْتَ، ثم ردُّوا عليه قولَه، وقالوا فيه شرًّا، فقال رسول الله ﷺ:"كذَبْتُم، لن يُقبل قولُكم، أما آنِفًا فتُثنُون عليه مِن الخَير ما أثنيتُم، وأما إذْ آمَنَ فَكَذَّبْتُموه وقلتُم فيه ما قلتُم؛ فلن يُقبَلَ قولُكم" قال: فخرجْنا ونحن ثلاثةٌ: رسولُ الله ﷺ وأنا وعبدُ الله بنُ سَلَام، وأنزل الله تعالى فيه: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ﴾ الآية [الأحقاف: 10] (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث حُميد عن أنس:"أيُّ رجلٍ عبدُ الله بن سَلَام فيكم؟" مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5756 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5756 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، چلتے چلتے ہم دونوں یہودیوں کی عبادت گاہ میں جا پہنچے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے یہودیو! تم مجھے دس آدمی ایسے پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر یہودی سے اپنی ناراضگی ختم فرما دے گا۔ راوی کہتے ہیں، یہ سن کر تمام یہودی خاموش ہو گئے اور کسی نے کوئی جواب نہ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی بات دہرائی لیکن دوسری مرتبہ بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم انکار کرتے ہو، تم میری بات مانو یا نہ مانو، خدا کی قسم! میں ” حاشر “ ہوں، میں ” عاقب “ ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کا چنا ہوا نبی ہوں۔ پھر ہم دونوں وہاں سے واپس لوٹے۔ ہم وہاں سے نکلا ہی چاہتے تھے کہ ایک آدمی نے پیچھے سے آواز دی اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، کچھ دیر رکیے، پھر اس نے یہودیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے یہودیو! کیا تم اپنے اندر میرا مقام جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، خدا کی قسم! ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اندر تجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا کوئی نہیں ہے اور تجھ سے پہلے تمہارا والد اسی مقام پر تھا اور اس سے پہلے تیرا دادا سب سے بڑا عالم تھا، اس آدمی نے کہا: تو سن لو میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کا وہی نبی ہے جس کا تورات میں تم سے وعدہ لیا گیا تھا۔ یہ سن کر وہ لوگ بولے: تم جھوٹ بول رہے ہو، یہ کہہ کہ انہوں نے اس کی بات کو رد کر دیا، اور کہنے لگے: اس میں برائی اور فتنہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جھوٹے ہو، تمہاری بات نہیں مانی جائے گی، کیونکہ ابھی تو تم لوگ اس کی شان کے قصیدے گا رہے تھے اور جب یہ ایمان لے آیا تو تم نے اس کو جھٹلا دیا ہے، اور اس کے بارے میں نازیبا باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم (جب اس عبادت گاہ میں گئے تو ” 2 “ تھے اور جب) واپس آئے تو تین تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ (جنہوں نے وہاں پر اسلام قبول کیا تھا) ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ} [الأحقاف: 10] ” تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ البتہ ان دونوں نے حمید کی انس سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے جس کے الفاظ یوں ہیں۔ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ فِيكُمْ، تم میں ” عبداللہ بن سلام “ کون ہے؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5865]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5865 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، لكن قد يقع في حديث صفوان وعبد الرحمن بن جبير ما يُستنكَر، وقصة إسلام عبد الله بن سلام قد رُويَت عند أحمد 19/ (12057) والبخاري (3329) بسياق آخر مشهور، وإسناده أصحُّ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن صفوان اور عبدالرحمن بن جبیر کی حدیث میں بعض اوقات منکر باتیں آ جاتی ہیں۔ عبداللہ بن سلام کے قبولِ اسلام کا قصہ احمد (19/ 12057) اور بخاری (3329) میں ایک دوسرے مشہور سیاق کے ساتھ مروی ہے، اور اس کی سند زیادہ صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23984)، وأخرجه ابن حبان (7162) من طريق أبي نَشِيط محمد بن هارون النَّخَعي، كلاهما (أحمد وأبو نشيط) عن أبي المغيرة عبد القدوس بن الحجاج، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (39/ 23984) اور ابن حبان (7162) نے ابو نشیط محمد بن ہارون النخعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (احمد اور ابو نشیط) ابو المغیرہ عبدالقدوس بن حجاج سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
(2) بل أخرجه البخاري (3329) و (3938) مطوّلًا، ولم يخرّجه مسلم.
📌 اہم نکتہ: بلکہ اسے بخاری (3329 اور 3938) نے طویل روایت کیا ہے، اور مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی۔