المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
604. شَهَادَةُ عُمَيْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنا عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ کی بدر کے دن شہادت
حدیث نمبر: 5915
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْرِيّ، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا سليمان بن المُغيرة، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ يومَ بدر:"قوموا إلى جَنَّةٍ عَرضُها السماواتُ والأرضُ" قال: يقول عُمير بن الحُمَام الأنصاري: يا رسول الله، عرضُها السماواتُ والأرضُ، بَخٍ بَخٍ، لا واللهِ يا رسولَ الله، لا بُدّ أن أكُونَ من أهلِها؟ قال:"فإنك من أهلها"، فأخرجَ تُميراتٍ فجعل يأكُل، ثم قال: لَئِن حَيِيتُ حتى أكُلَ تَمَراتي إنها لحياةٌ طويلةٌ، قال: فرَمَى بما كان معه من التمر، ثم قاتَلَهم حتى قُتِل (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! ذكرُ مناقب خِرَاش بن الصِّمَّة بن عَمرو بن الجَمُوح ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5798 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5798 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے دن فرمایا: ”اس جنت کی طرف اٹھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ اس پر سیدنا عمیر بن الحمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ واہ واہ! (بخ بخ)، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! کیا میں اس کے رہنے والوں میں سے ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تم اس کے رہنے والوں میں سے ہو۔“ پھر انہوں نے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانے لگے، پھر کہنے لگے: اگر میں اپنی ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ تو بہت طویل زندگی ہو جائے گی، راوی کہتے ہیں کہ چنانچہ انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوریں پھینک دیں اور دشمن سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5915]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5915]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو النَّضْر: هو هاشم بن القاسم البغدادي، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 5915] [ترقيم الشركة 5851] [ترقيم العلميه 5798]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5915 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو النَّضْر: هو هاشم بن القاسم البغدادي، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو النضر سے مراد ہاشم بن القاسم البغدادی اور ثابت سے مراد ابن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12398)، ومسلم (1901) من طريق أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (19/ 12398) اور مسلم (1901) نے ابو النضر ہاشم بن القاسم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اس کا استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5915 in Urdu