🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
613. ذكر مناقب عبد الرحمن بن أزهر - رضى الله عنه -
سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5934
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عمر بن حفص، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا موسى بن عبد الملك بن عُمير، عن أبيه، عن جابر بن سَمُرَةَ، عن نافع بن عُتبة، قال: قَدِم ناسٌ من العَرب على رسولِ الله ﷺ يُسلِّمون عليه، عليهم الصُّوفُ، فقُمتُ فقلتُ: لأحُولَنّ بين هؤلاءِ وبين رسولِ الله ﷺ، ثم قلتُ في نفسي: هو نَجِيُّ القَومِ، ثم أبَتْ نفْسي إلَّا أن أقومَ إليه، قال: فسمعته يقول:"تَغْزُون جَزِيرَةَ العَرَب فيَفتَحُها اللهُ، ثم تَغْزُون فارسَ فيَفتَحُها اللهُ، ثم تَغْزُونَ الدَّجّالَ فيَفتَحُه اللهُ" (2) . ذكرُ مناقب عبد الرحمن بن أزهَرَ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5822 - موسى بن عبد الملك واه
سیدنا نافع بن عتبہ فرماتے ہیں: عرب کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے لئے آئے، انہوں نے اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، میں یہ سوچ کر کہ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حائل ہو جاؤں، اٹھ کر کھڑا ہوا، پھر میرے دل میں خیال آیا کہ آپ تو قوم کے نجات دہندہ ہیں۔ (اس لئے آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا) لیکن پھر میرے دل نے مجبور کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے اس وقت سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جزیرہ عرب کے ساتھ جنگ ہو گی اور اللہ تعالیٰ ہمیں فتح و نصرت سے ہمکنار کرے گا، پھر ایران سے جنگ ہو گی، اس میں بھی اللہ پاک ہمیں فتح دے گا، پھر دجال کے ساتھ جنگ ہو گی، اللہ پاک اس پر بھی فتح دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5934]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5934 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف موسى بن عبد الملك بن عُمير، لكنه لم ينفرد به، فقد تابعه عليه جماعةٌ منهم يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي فيما تقدَّم عند المصنف برقم (5795)، والمَسعُودي كما سيأتي برقم (8517)، وزادوا ذكر فتح الروم أيضًا. عمر بن حفص: هو السَّدوسيّ، وعاصم بن علي: هو ابن عاصم الواسطي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، جبکہ موجودہ سند موسیٰ بن عبدالملک بن عمیر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن وہ اس میں منفرد نہیں ہیں، بلکہ ایک جماعت نے ان کی متابعت کی ہے، جن میں یونس بن ابی اسحاق السبیعی (مصنف کے ہاں 5795 پر گزرا) اور مسعودی (آگے 8517 پر آئے گا) شامل ہیں، اور انہوں نے "روم کی فتح" کا ذکر بھی زیادہ کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن حفص سے مراد السدوسی اور عاصم بن علی سے مراد ابن عاصم الواسطی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (3691) عن عمر بن حفص السَّدُوسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الأوسط" (3691) میں عمر بن حفص السدوسی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم بن بشران في "أماليه" (1640) من طريق الحسن بن مُكرَم، وأبو بكر بن فُورَك في "جزء فيه أحاديث ابن حَيَّان" (91) من طريق محمد بن يحيى بن سليمان المروزي، كلاهما عن عاصم بن علي الواسطي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم بن بشران نے "أماليه" (1640) میں حسن بن مکرم کے طریق سے؛ اور ابو بکر بن فورک نے "احادیث ابن حیان" (91) میں محمد بن یحییٰ بن سلیمان المروزی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں عاصم بن علی الواسطی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔