🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
615. ذكر مناقب حبيب بن مسلمة الفهري - رضى الله عنه -
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5939
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيٍّ، حدثنا بِشْر بن شعيب، عن أبيه، عن الزُّهْري، أخبرني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، أنَّ عَبد الله بن عَديّ بن الحَمْراء أخبره، أنه سمعَ النبيَّ ﷺ، وهو واقِفٌ بالحَزْوَرَةِ (2) بمكةَ:"واللهِ إنكِ لَخيرُ أرضِ الله وأحبُّ أرضِ الله إلى الله، ولولا أني أُخْرِجْتُ منكِ ما خَرَجتُ" (3) . ذكرُ مناقب حَبِيب بن مَسْلَمة الفِهْري ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں مقام حزورہ پر کھڑے ہو کر (مکہ مکرمہ کو مخاطب کر کے) ارشاد فرمایا: (اے سرزمین مکہ) تو پوری روئے زمین سے افضل ہے، اور اللہ پاک کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں کبھی یہاں سے نہ جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5939]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5939 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ضُبطت الواو في هذه الكلمة في نسخنا الخطية بالتشديد، وهو خطأ نبَّهنا عليه عند طريق الحديث السالفة برقم (4316).
📝 نوٹ / توضیح: اس لفظ میں "واؤ" پر تشدید لگی ہوئی ہے جو غلطی ہے۔ ہم نے پچھلی حدیث نمبر (4316) کے تحت اس پر تنبیہ کر دی ہے۔
(3) إسناده صحيح. شعيب: هو ابن أبي حمزة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ شعیب سے مراد ابن ابی حمزہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (18715) عن أبي اليمان الحكم بن نافع، عن شعيب بن أبي حمزة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (31/ 18715) نے ابو الیمان حکم بن نافع سے، انہوں نے شعیب بن ابی حمزہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (4316) من طريق عُقيل بن خالد عن الزهري.
📝 نوٹ / توضیح: یہ پہلے نمبر (4316) پر عقیل بن خالد کے طریق سے زہری سے گزر چکا ہے۔
وبرقم (5303) من طريق ابن أخي ابن شهاب الزهري، عن عمِّه، عن محمد بن جبير بن مُطعم، عن عبد الله بن عدي، هكذا سمَّى التابعيَّ مخالفًا سائر أصحاب الزهري كعُقيل وشعيب وصالح بن كيسان وغيرهم الذين اتفقوا على ذكر أبي سلمة.
📝 نوٹ / توضیح: اور نمبر (5303) پر ابن شہاب الزہری کے بھتیجے کے طریق سے، ان کے چچا سے، وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے اور وہ عبداللہ بن عدی سے مروی ہے۔ یہاں انہوں نے تابعی کا نام (عبداللہ بن عدی) ذکر کر کے زہری کے دیگر شاگردوں (جیسے عقیل، شعیب، صالح بن کیسان وغیرہ) کی مخالفت کی ہے، جو سب "ابو سلمہ" کے ذکر پر متفق ہیں۔