🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
617. ذكر مناقب عقبة بن الحارث القرشي - رضى الله عنه -
سیدنا عقبہ بن الحارث قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5942
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: لما افتَتَح عبدُ الرحمن بن سَمُرة بن حَبيب سِجِسْتانَ وكان معه أبو رِفاعةَ عبدُ الله بن الحارث بن عبد الحارث بن الحارث بن أسَد بن عَدِيّ بن مالك بن تَميم بن الدُّؤَل بن حَمَل (1) بن عَديّ بن عبد مَنَاةِ بن أُدّ بن طابِخَةَ، وله صحبةٌ، فسارَ في الجيش، فلما كان في الليل قام يُصلِّي، ثم رَقَد في آخر الليل ونَسِيَه أصحابُه، فأتاهُ نفرٌ من العَدوِّ فذبَحُوه (2) . ذكر مناقب عُقْبة بن الحارث القرشي ﵁ -
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں: جب عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب نے سجستان کو فتح کیا، اس وقت ان کے ہمراہ سیدنا ابورفاعہ عبداللہ بن حارث بن اسد بن عدی بن مالک بن تمیم بن دؤل بن جبل بن عدی بن عبدمناۃ بن اد بن طابحہ بھی تھے، ان کو بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے، یہ ایک لشکر میں شریک تھے، رات کے وقت لشکر نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، سارا لشکر رات کے وقت سو گیا جبکہ یہ رات کا اکثر حصہ عبادت کرتے رہے، اور رات کے آخری حصے میں سو گئے، ان کے ساتھی، بیدار ہو کر چلے گئے اور ان کو ساتھ لے جانا بھول گئے، دشمن کی ایک جماعت نے ان کو شہید کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5942]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5942 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا جاء في نسخنا الخطّية بالحاء المهملة ثم الميم بعدها لام، وفي أكثر مصادر النسب تسمية هذا الرجل جَلّ، بالجيم المعجمة المفتوحة ثم اللام. انظر "تاج العروس" 28/ 219 مادة (جلل).
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام "حمل" (حاء، میم اور لام کے ساتھ) آیا ہے، جبکہ اکثر کتبِ انساب میں اس شخص کا نام "جَلّ" (جیم مفتوح اور لام کے ساتھ) ہے۔ دیکھیں: "تاج العروس" (28/ 219، مادہ: جلل)۔
(2) وانظر "طبقات ابن سعد" 9/ 67 - 68 فقد روى قصة استشهاده عن عبد الرحمن بن سَمُرة بسند رجاله ثقات لكنه مرسلٌ.
📖 حوالہ / مصدر: "طبقات ابن سعد" (9/ 67-68) دیکھیں، انہوں نے عبدالرحمن بن سمرہ سے ان کی شہادت کا قصہ ایسی سند سے روایت کیا ہے جس کے رجال ثقہ ہیں لیکن وہ "مرسل" ہے۔