🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
638. ذكر مناقب عبد الرحمن بن سمرة القرشي - رضى الله عنه -
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5990
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا عبد الله بن يزيدَ المُقرئ، حدثنا عُيَينة بن عبد الرحمن بن جَوْشَن، عن أبيه، قال: خرجتُ في جِنازة عبد الرحمن بن سَمُرة وزيادٌ يمشي أمامَ الجِنازة، فجعل رِجالٌ من مَوالِيه يَمشُون على أعقابِهم أمامَ الجِنازة، ويقولون: رُويدًا رويدًا، بارك الله فيكم، قال: فلَحِقَنا أبو بَكْرةَ في بعض طريق المِرْبَد، فلما رأى أولئكَ وما يَصنَعُون حَمَل عليهم بالبَغْلة (3) ، وأَهْوى إليهم بالسَّوْط، وقال: خَلُّوا، فوالذي كَرَّم وجهَ أبي القاسم ﷺ، لقد رأيتُنا مع رسول الله ﷺ وإنا لَنَكادُ أن نَرمُلَ بها رَمَلًا (4) .
عیینہ بن عبدالرحمن بن جوشن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شرکت کے لئے نکلا، میں نے دیکھا کہ زیاد جنازے کے آگے آگے چل رہا تھا اور اس کے کچھ حاشیہ بردار بھی زیاد کی اتباع میں جنازے کے آگے چل رہے تھے اور لوگوں کو آہستہ چلنے کی تلقین کر رہے تھے، راوی کہتے ہیں، راستے میں ایک مقام پر ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گئے، جب انہوں نے ان لوگوں کی اس حرکت کو دیکھا تو کوڑا لے کر ان لوگوں پر پل پڑے، ان کو مارتے ہوئے کہنے لگے: پیچھے ہٹو، اس ذات کی قسم جس نے ابوالقاسم کے چہرے کو رونق بخشی ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنازہ میں شرکت کیا کرتے تھے، ہم بہت تیز چلا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5990]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5990 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى الغلبة والتصويب من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الغلبہ" بن گیا ہے، اس کی تصحیح تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔