🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. إذا أراد أحدكم أن يذهب إلى الخلاء وقامت الصلاة فليبدأ بالخلاء
جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جانا چاہے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے بیت الخلاء جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حَدَّثَنَا المُعافى بن سليمان، حَدَّثَنَا زهير، حَدَّثَنَا هشام بن عُرْوة، عن عُرْوة، عن عبد الله بن أَرقَمَ: أنه خرج حاجًّا، أو معتمرًا ومعه الناس وهو يؤمُّهم، فلما كان ذاتَ يومٍ أقام الصلاةَ - صلاة الصبح - ثم قال: ليتقدَّم أحدُكم، وذهب إلى الخَلَاء ثم قال: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا أراد أحدُكم أن يذهبَ إلى الخَلَاء وقامت الصلاةُ، فليبدَأْ بالخلاء" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شهودٌ بأسانيد صحيحة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 597 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے لیے نکلے اور وہ لوگوں کی امامت کروا رہے تھے، ایک دن جب صبح کی نماز کی اقامت ہوئی تو انہوں نے کہا: تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر امامت کرائے، اور خود قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو اور نماز کھڑی ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 606]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 606 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل المعافى، وقد توبع. زهير: هو ابن معاوية الجَعْفي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور معافی بن عمران کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، نیز اس کی متابعت بھی موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: زہیر سے مراد زہیر بن معاویہ الجعفی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (88) عن أحمد بن يونس عن زهير بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (88) میں احمد بن یونس عن زہیر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15959)، وابن ماجه (616)، والترمذيّ (142)، والنسائي (927)، وابن حبان (2071) من طرق عن هشام بن عروة، به. وقال الترمذيّ: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (25/ 15959)، ابن ماجہ (616)، ترمذی (142)، نسائی (927) اور ابن حبان (2071) نے ہشام بن عروہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" قرار دیا ہے۔