🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
674. ذكر مناقب أبى أيوب الأزدي - صحابي من الزهاد -
سیدنا ابو ایوب ازدی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان، جو زاہد صحابی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6061
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العدل، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، حَدَّثَنَا عيسى بن إبراهيم البِرَكي، حَدَّثَنَا المُعلّى بن راشد النَّبّال أبو اليَمَان، حدثتني أمُّ عاصم - وكانت أمَّ ولد سِنان بن سَلَمة بن المُحبَّق الهُذَلي - قالت: دَخَلَ علينا نُبيشةُ، وكان رسولُ الله ﷺ سمّاه نُبيشةَ الخَيرِ؛ دخل على رسول الله ﷺ وعندَه أُسارى، فقال: يا رسولَ الله، إما أن تَمُنَّ عليهم، وإما أن تُفادِيَهم؛ فقال رسولُ الله ﷺ:"أَمرتَ بخيرٍ، أنت نُبَيشةُ الخَيرِ" (2) . ذكرُ مناقب أبي أيوب الأزديِّ، صحابيٍّ من الزُّهاد (3)
سنان بن سلمہ بن محبق ہذلی کی ام ولد سیدنا ام عاصم فرماتی ہیں: میرے پاس نبیشہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام نبیشۃ الخیر رکھا تھا۔ (اس کا واقعہ یوں ہے کہ آپ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی تھے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں پر احسان کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دیا جائے، یا ان سے فدیہ لیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے بہت اچھا مشورہ دیا ہے۔ آج کے بعد تم نبیشۃ الخیر (بھلائی افشاء کرنے والے) ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6061]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6061 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة حال أم، عاصم، وهي جدة المعلى بن راشد النبال.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند امِ عاصم کے "مجہول الحال" (نا معلوم) ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جو کہ معلی بن راشد النبال کی دادی/نانی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 21/ (219 - ملحق) عن محمد بن الربيع بن شاهين البصري، عن عيسى بن إبراهيم البركي بهذا الإسناد. وحسَّن إسناده الهيثمي في "مجمع الزوائد" 9/ 391.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (21/ 219 - ملحق) میں محمد بن الربیع بن شاہین البصری عن عیسیٰ بن ابراہیم البرکی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: علامہ ہثیمی نے "مجمع الزوائد" (9/ 391) میں اس کی سند کو "حسن" قرار دیا ہے۔
(3) هو نفسه أبو أيوب الأنصاري، فقد ينسب أزديًا، فإنَّ نسبه يصل إلى الأزد بن الغوث بن نبت بن مالك بن زيد بن كهلان بن سبأ، كما في تاريخ بغداد 1/ 493، ومن هنا فإنَّ البعض ربما نسبه أزديًّا كما قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 7/ 33، والله تعالى أعلم.
📌 اہم نکتہ: یہ وہی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہی ہیں، کبھی انہیں "ازدی" بھی کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا نسب الازد بن الغوث تک پہنچتا ہے (دیکھئے: تاریخ بغداد 1/ 493)۔ اسی وجہ سے بعض لوگ انہیں ازدی نسبت سے ذکر کرتے ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (7/ 33) میں صراحت کی ہے۔ واللہ اعلم۔
وقد تقدَّم ذكر مناقبه في الأحاديث (6040 - 6057).
📖 حوالہ / مصدر: ان کے مناقب کا ذکر پہلے احادیث نمبر (6040 سے 6057) تک گزر چکا ہے۔