🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
692. ذِكْرُ مَنَاقِبِ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَخِيهِ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَلَهُ أَيْضًا صُحْبَةٌ
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری اور ان کے بھائی زیاد بن عبید رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان، اور دونوں صحابی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6110
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمَيرٍ قال: أبو محمد فَضَالةُ بن عُبيد بن الناقد بن صُهيب ابن جَحْجَبَى ابن كُلْفةَ (1) بن عوف الأنصاري، وأمُّه ابنة محمد بن عُقبة بن أُحَيحَة بن الجُلَاح، مات بدمشق سنة ثلاثٍ وخمسين، وفيها مات أخوه زياد بن عُبيد، ويقال: بعدَه بسنة (2) .
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری اور ان کے بھائی سیدنا زیاد بن عبید رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر، اور ان (زیاد) کو بھی شرفِ صحابیت حاصل ہے۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ابو محمد فضالہ بن عبید بن نافذ بن صہیب انصاری، جن کی والدہ محمد بن عقبہ بن احیحہ بن جلاح کی صاحبزادی تھیں، ان کی وفات 53 ہجری میں دمشق میں ہوئی، اور اسی سال ان کے بھائی زیاد بن عبید کی وفات ہوئی، جبکہ ایک قول کے مطابق وہ ان کے ایک سال بعد فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6110]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6110] [ترقيم الشركة 6052]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6110 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: علقمة، والتصويب من مصادر ترجمته وكتب الأنساب.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "علقمہ" تحریف ہو گیا ہے، تراجم اور انساب کی کتب کے مطابق اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) لم يذكر أحدٌ ممن ترجم لفضالة بن عبيد نسب أمه، وكذلك لم يذكروا أنَّ له أخًا اسمه زياد، لذلك تعقبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: لا أعرف زيادًا، إلا أن يكون ابن ابنه، وأحسب ابن نمير وهم في جعله أخًا له.
🔍 فنی نکتہ / علّت: فضالہ بن عبید کے کسی سوانح نگار نے ان کی والدہ کا نسب ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے کسی "زیاد" نامی بھائی کا ذکر ملتا ہے۔ اسی لیے امام ذہبی نے "تلخیص" میں تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "میں کسی زیاد کو نہیں جانتا، سوائے اس کے کہ وہ ان کا پوتا ہو؛ میرا خیال ہے کہ ابن نمیر کو انہیں (فضالہ کا) بھائی قرار دینے میں وہم ہوا ہے"۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6110 in Urdu