المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
694. ذكر مناقب عبد الرحمن بن أبى بكر الصديق - رضي الله عنهما -
سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6111
فحدَّثني أبو الحسين محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله البَيْروتي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن يعقوب الجُوزجاني، قال: مات زياد بن عُبيد أخو فَضالةَ بن عبيدُ بالكوفة، ودُفن بالثَّوِيّ، وكان يُكْنَى أبا المغيرة، فرَثَاه حارثةُ بن بَدْر (3) فقال: صلَّى الإلهُ على قبرٍ وطَهَّرهُ … عند الثَّوِيَّةِ يَسفِي فوقَه المُورُ زَفَّت إليه قريشٌ نَعشَ سيِّدِها … فالجُودُ والحزمُ فيه اليومَ مقبورُ أبا المُغيرةِ والدنيا مُفجَّعَةٌ … وإِنَّ مَن غرَّه الدُّنيا لَمغرورُ قد كان عندَكَ للمعروفِ معروفٌ … وكان عندكَ للنَّكراءِ تَنكيرُ وكنتَ تُغشَى وتُعطي المالَ من سَعَةٍ … إن كان بابُكَ أَضحَى وَهُوَ محجورُ والناسُ بعدَكَ قد خَفَّتْ حُلُومُهُمُ … كأَنَّها نَسَجَتْ فيها العصافيرُ (4) ذكرُ مناقب عبد الرحمن بن أبي بكر الصَّدِّيق ﵄
ابراہیم بن یعقوب جوزجانی فرماتے ہیں: فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا زیاد بن عبید رضی اللہ عنہ کا کوفہ میں انتقال ہوا، مقام ثوی میں ان کو دفن کیا گیا۔ ان کی کنیت ابومغیرہ تھی۔ حارثہ بن بدر نے ان کا مرثیہ کہتے ہوئے اشعار کہے جن کا مفہوم یہ ہے۔ * اللہ تعالیٰ مقام ثوی میں اس کی قبر باد نسیم کے ساتھ رحمتوں کی برکھا برسائے اور ان کو خوب پاک کر دے۔ قریش اپنے سردار کی میت سنوار کر اس مقام میں لے گئے ہیں۔ آج جودو کرم کا منبع اس شہر میں دفن کر دیا گیا۔ * میری مراد ” ابومغیرہ “ ہے۔ اس کی اچانک موت کی خبر دنیا کو ملی، اور یہ بھی دنیا کے دھوکوں میں سے ایک دھوکا ہے۔ * اے ابومغیرہ! تیرے پاس نیکیوں کی پہچان تھی اور تیرے پاس برائی کو کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ * تیرا دروازہ بند بھی ہو، تب بھی تو سب کو جھولیاں بھر بھر کے دیتا ہے۔ * اے ابومغیرہ! تیرے بعد لوگوں کے حوصلے پست ہو گئے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے چڑیوں نے گھونسلے بنا لیے ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6111]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6111 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في (ص) و (م): زيد، وكذلك هي في (ز) لكن ضبب عليها، وكتب في هامشها: بدر، وأشير عليه بعلامة صح، والمثبت من (ب)، وهو الصواب، فهو حارثة بن بدر الغُدَاني، فقد كان حارثة بن بدر هذا صديقًا لزياد بن معاوية كما ذكر البلاذري في "أنساب الأشراف"، وهو الذي رثاه بهذه الأبيات كما سيأتي توضيحه.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ص) اور (م) میں "زید" لکھا ہے، نسخہ (ز) میں بھی یہی تھا مگر حاشیے میں "بدر" لکھ کر صحیح کا نشان لگایا گیا ہے۔ درست نام "حارثہ بن بدر الغدانی" ہے جو زیاد بن معاویہ کے دوست تھے؛ انہوں نے ہی زیاد کا مرثیہ ان اشعار میں کہا ہے جیسا کہ آگے واضح ہوگا۔
(4) وهم إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني في قوله: زياد بن عبيد أخو فضالة بن عبيد، فزياد بن عبيد هذا هو الذي كان يسمى زياد بن معاوية، وزياد بن أبيه، وهو الذي توفي سنة ثلاث وخمسين في الثوية قرب الكوفة، وقد خالفه - يعني الجوزجانيَّ - محمدُ بنُ عبيد الله العُتبي فيما رواه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 19/ 208 من طريق أبي عبيد محمد بن عمران بن موسى، عن أحمد بن محمد المكي، عن أبي العيناء محمد بن القاسم بن خلاد، عنه قال: لما مات زياد بن أبيه قال حارثة بن بدر الغداني يرثيه … فذكر الأبيات. وهو الصواب، فإنَّ حارثة بن بدر كان صديقًا لزياد بن معاوية وفيه قال هذه الأبيات.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی سے یہ "وہم" ہوا ہے کہ انہوں نے زیاد بن عبید کو فضالہ بن عبید کا بھائی قرار دیا؛ حقیقت میں یہ زیاد وہی ہیں جنہیں زیاد بن معاویہ یا "زیاد بن ابیہ" کہا جاتا ہے، جن کی وفات 53 ہجری میں کوفہ کے قریب الثویہ میں ہوئی۔ 📝 نوٹ / توضیح: محمد بن عبید اللہ العتبی نے الجوزجانی کی مخالفت کی ہے (جیسا کہ ابن عساکر نے نقل کیا) کہ جب زیاد بن ابیہ کا انتقال ہوا تو حارثہ بن بدر الغدانی نے ان کا مرثیہ کہا۔ یہی بات درست ہے کیونکہ حارثہ، زیاد کے گہرے دوست تھے۔
وقد ذكر هذه القصة وهذه الأبيات البلاذري في "أنساب الأشراف" 5/ 281، والمبرد في "الكامل" 1/ 251، وفي "التعازي والمراثي" ص 111، وابن عبد ربه الأندلسي في "العقد الفريد" 3/ 198، وأبو إسحاق القيرواني في "زهر الآداب وثمر الألباب" 4/ 985، وياقوت الحموي في "معجم البلدان" 1/ 87 وعلي بن أبي الفرج البصري في "الحماسة البصرية" 1/ 258.
📖 حوالہ / مصدر: اس قصے اور اشعار کا ذکر بلاذری (5/ 281)، مبرد (1/ 251)، ابن عبد ربہ (3/ 198)، ابو اسحاق القیروانی (4/ 985)، یاقوت حموی (1/ 87) اور البصری نے اپنی کتب میں کیا ہے۔