المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
695. هجرة عبد الرحمن بن أبى بكر قبل الفتح
فتحِ مکہ سے پہلے سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ہجرت
حدیث نمبر: 6115
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الإمام وعليُّ بن حَمْشاذ العدل، قالا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حدثني يحيى (1) بن يحيى الغَسّاني، قال: سمعتُ عُرْوة بن الزُّبير يقول: أخبرني عبد الرحمن بن أبي بكر الصدِّيق: أنهم خرجوا إلى الشام في رَكَبَةٍ من أهل مكة يَمْتارُون (2) ، فأَتَوا امرأةً يقال لها: ليلى، فرأَوا من هيئتها وجمالها، فرجع عبد الرحمن بن أبي بكر وهو يتشبَّب بها: تذكَّرتُ ليلى والسَّماوَةُ دونَها (3) … فما لابنةِ الجُودِيِّ ليلى وما لِيَا وأَنَّى تَعاطَى (4) قَلْبُهُ (5) حارِثِيَّةً … تَحُلُّ بِبُصْرَى أو تَحُلُّ المَآتِيَا فلمّا كان زمنُ خالد بن الوليد وافتَتَحَ الشام، أصابوها فيما أصابوا من السَّبْي، فكلَّم عبدُ الرحمن بن أبي بكر فيها خالدًا، فكتب في ذلك إلى أبي بكرٍ، فكتب أبو بكرٍ أن يُعطُوها إياه (6) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6002 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6002 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما اہل مکہ کے ایک قافلہ کے ہمراہ ملک شام کی طرف جہاد کے لئے گئے، یہ لوگ ایک عورت کے پاس پہنچے، جس کو لیلی کے نام سے پکارا جاتا تھا، ان لوگوں نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا، سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر واپس آئے تو ان کو اس کی بہت یاد آیا کرتی تھی۔ * میں نے ساری رات اس کو یاد کیا، جودی کی بیٹی لیلی کے ساتھ یہ میرا کیسا رشتہ قائم ہو گیا ہے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام فتح ہوا اور قیدیوں میں لیلی بھی آئی، سیدنا عبدالرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے سیدنا خالد بن ولید سے اس سلسلہ میں بات چیت کی تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب خط لکھا (اور اجازت مانگی) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جوابی مکتوب میں فرمایا: کہ عبدالرحمن کو لیلی عطا کر دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6115]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6115 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمير، والتصويب من مصادر الترجمة، ومصادر التخريج.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں نام "عمیر" تحریف ہو گیا ہے، تراجم اور تخریج کے مصادر کی روشنی میں اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) في (ص) و (م): يتمارون، والمثبت من (ب) وهو الصواب، ومعنى يمتارون: يجلبون الطعام، من المِيرة بكسر الميم وهي جَلَبُ الطعام، انظر: "القاموس المحيط" مادة (مير).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں "یتمارون" لکھا ہے، جبکہ درست لفظ "یمتارون" ہے جس کا مطلب ہے غلہ یا کھانا لانا؛ یہ لفظ "المِیرۃ" سے مشتق ہے۔ (دیکھئے: القاموس المحیط)۔
(3) في (ص) و (م): دوننا، والمثبت من (ب) وغالب مصادر التخريج والأدب، ووقع في بعض المصادر: بيننا.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ص) اور (م) میں "دوننا" منقول ہے، تاہم درست لفظ وہی ہے جو نسخہ (ب) اور ادب و تخریج کی اکثر کتب میں ہے، جبکہ بعض مآخذ میں "بیننا" بھی آیا ہے۔
(4) في النسخ الخطية: أعاطي، والمثبت من مصادر التخريج وكتب الأدب.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "اعاطی" لکھا ہے، لیکن مراجعِ تخریج اور کتبِ ادب کے مطابق متن کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(5) في (ب): قبلة، وتُقرأ في (ص) و (م): مقله، أو نحو ذلك، ولا معنى لها، والمثبت من سائر المصادر.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں "قبلہ" ہے، اور نسخہ (ص) و (م) میں اسے "مقلہ" پڑھا جا رہا ہے جس کا یہاں کوئی معنی نہیں بنتا، لہذا دیگر معتبر مصادر کے مطابق درست لفظ ثابت کیا گیا ہے۔
(6) رجاله ثقات. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: الحمیدی سے مراد عبد اللہ بن زبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" 4/ 415، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 35/ 33 عن أبي معمر الهذلي، عن سفيان بن عيينة، عن يحيى بن يحيى الغساني، عن عروة بن الزبير: أنَّ عبد الرحمن بن أبي بكر … فذكره. وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (927) من طريق إبراهيم بن هاشم بن يحيى بن يحيى، عن أبيه، عن جده، عن عروة، عن عبد الرحمن بن أبي بكر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بغوی نے "معجم الصحابہ" (4/ 415) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے یحییٰ بن یحییٰ الغسانی عن عروہ بن زبیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز ابن الاعرابی نے اپنے "معجم" (927) میں اسے ابراہیم بن ہاشم کے واسطے سے حضرت عروہ عن عبد الرحمن بن ابی بکر سے نقل کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبيد في "الأموال" (813)، وابن زنجويه في "الأموال" (1188)، وابن شبة في "تاريخ المدينة" 3/ 850، وابن عساكر 35/ 32 - 33 و 70/ 56 من طريق عبد الله بن عون، عن يحيى بن يحيى الغساني: أنَّ عبد الرحمن بن أبي بكر … فذكره، ولم يذكر عروةَ بن الزبير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید اور ابن زنجویہ نے "الاموال" میں، ابن شبہ نے "تاریخ المدینہ" میں اور ابن عساکر نے عبد اللہ بن عون عن یحییٰ بن یحییٰ الغسانی کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں عروہ بن زبیر کا ذکر نہیں ہے۔
وقصة عبد الرحمن بن أبي بكر هذه وقع فيها اختلاف بين الروايات، ففي رواية هشام بن عروة عن أبيه المخرجة في الموضع السابق أنَّ الذي نفلَّه إياها هو عمر بن الخطاب، وفي رواية يحيى بن يحيى الغساني عن عروة كما هنا أنَّ الذي أمر بإعطائه إياها هو أبو بكر، واختلف أيضًا في رواية يحيى نفسها، ففي بعضها أنَّ الذي كان على الجيش وكتب إلى أبي بكر هو خالد بن الوليد، وفي بعضها: يعلى بن منية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے اس قصے میں روایات کا اختلاف پایا جاتا ہے؛ ہشام بن عروہ کی روایت کے مطابق نفل دینے والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ یحییٰ بن یحییٰ الغسانی کی اس روایت میں حکم دینے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بتائے گئے ہیں۔ خود یحییٰ کی اپنی روایت میں بھی اختلاف ہے کہ لشکر کے امیر خالد بن ولید تھے یا یعلیٰ بن منیہ۔
قال أبو عبيد في "الأموال" (814) بعد أن أخرج حديث يحيى بن يحيى الغساني، وأنَّ الذي أمر بإعطائه إياها أبو بكر، قال: فحدثت بهذا الحديث أبا مسهر الغساني، فعرف الحديث، وقال: إنما نفَّلها عمر إياه بالشام.
📝 نوٹ / توضیح: امام ابو عبید فرماتے ہیں کہ جب میں نے یحییٰ بن یحییٰ الغسانی کی یہ حدیث (جس میں ابوبکر کا ذکر ہے) ابو مسہر الغسانی کو سنائی تو انہوں نے اسے پہچان لیا مگر وضاحت کی کہ: اصل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ نفل شام کے مقام پر عطا کیا تھا۔