🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. المسح على الخفين
موزوں پر مسح کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن سِنَان القزَّاز، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا جعفر بن أحمد بن نصر، حَدَّثَنَا علي بن الحسين الدِّرهمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود، عن بُكَير بن عامر، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير: أنَّ جريرًا بالَ ثم توضَّأ ومسح على الخفَّين، وقال: ما يَمنعُني أن أمسحَ وقد رأيتُ رسول الله ﷺ يمسح، قالوا: إنما كان ذلك قبلَ نزول المائدة، قال: ما أسلمتُ إلّا بعدَ نزول المائدة (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ المحتاج إليه، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن إبراهيم عن همَّام (2) عن جرير، وفيه: قال إبراهيم: كان يُعجبهم حديثُ جرير لأنَّهُ أسلمَ بعد نزول المائدة. وبُكَير بن عامر البَجَلي كوفي ثقة عزيزُ الحديث، يُجمَع حديثه في ثقات الكوفيين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 604 - صحيح وبكير ثقة
ابوزرہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے موزوں پر مسح کیا اور فرمایا: مجھے مسح کرنے سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا: شاید یہ سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے کی بات ہوگی، انہوں نے فرمایا: میں تو اسلام ہی سورہ مائدہ کے نزول کے بعد لایا ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان ضروری الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اس کے ہم معنی دیگر روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اس کے راوی بکیر بن عامر ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 613]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 613 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف بكير بن عامر مختلف فيه والراجح ضعفه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ خاص سند بکیر بن عامر کے بارے میں اختلاف کی وجہ سے ضعیف ہے اور راجح یہی ہے کہ وہ ضعیف راوی ہے۔
وأخرجه أبو داود (154) عن علي بن الحسين الدرهمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (154) میں علی بن حسین الدرہمی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الترمذيّ (94) من طريق شهر بن حوشب، عن جرير وشهر يعتبر به في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت امام ترمذی نے (94) میں شہر بن حوشب عن جریر کی سند سے روایت کی ہے، اور شہر بن حوشب کا اعتبار متابعات و شواہد میں کیا جاتا ہے۔
وأصل حديث جرير صحيح، روي في "الصحيحين" وغيرهما، كما سيأتي لاحقًا.
📌 اہم نکتہ: حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی اصل "صحیحین" وغیرہ میں موجود ہے، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
(2) إبراهيم هذا: هو ابن يزيد النَّخَعي، وهمام: هو ابن الحارث النخعي. والحديث من هذا الطريق عند البخاريّ برقم (387) ومسلم (272).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابراہیم سے مراد ابراہیم بن یزید النخعی اور ہمام سے مراد ہمام بن الحارث النخعی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس طریق سے یہ روایت بخاری (387) اور مسلم (272) میں موجود ہے۔