🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
702. ذكر مناقب عبد الله بن أبى بكر الصديق - رضي الله عنهما -
سیدنا عبد اللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6134
أخبرني أبو عبد الله محمد بن العبّاس الشهيد ﵀، حَدَّثَنَا أبو العبّاس الدَّغُولي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الكريم، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدي، حَدَّثَنَا أسامة بن زيد، عن القاسم بن محمدٍ قال: رُمي عبدُ الله بن أبي بكر بسَهمٍ يومَ الطائف، فانتَقضَتْ به بعدَ وفاة رسول الله ﷺ بأربعين ليلةً فمات، فدخل أبو بكر على عائشة فقال: أيْ بُنيّةُ، واللهِ لكأنما أُخذَ بأُذُن شاةٍ فأُخرِجتْ من دارنا، فقالت: الحمد لله الذي رَبَط على قلبك، وعَزَمَ لك على رُشْدِك. فخرج ثم دخل فقال: أي بُنيَّة، أتخافون أن تكونوا دَفنتُم عبدَ الله وهو حيّ؟ فقالت: إنا الله وإنا إليه راجعون يا أَبَهْ، فقال: أَستعيذُ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم؛ أيْ بُنيَّة إنه ليس أحدٌ إِلَّا وله لَمَّتانِ: لَمَّة من الملَك، ولَمَّة من الشيطان، قال: فقَدِمَ عليه وفدُ ثقيف، ولم يَزَلْ ذلك السهمُ عنده، فأُخرِجَ إليهم فقال: هل يعرفُ هذا السَّهمَ منكم أحد؟ فقال سعيد بن عبيد أخو بني العَجْلان: هذا سهمٌ أنا بَرَيتُه ورِشْتُه وعَقَبْتُه، وأنا رميتُ به (1) ، فقال أبو بكر: فإنَّ هذا السهمَ الذي قَتَلَ عبدَ الله بن أبي بكر، فالحمد لله الذي أكرمَه بيدِك ولم يُهِنْكَ بيده، فإنه واسعُ الحِمَى (2) .
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ طائف کے محاصرے کے موقع پر سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو تیر لگا تھا، اس کے چالیس دن بعد اس تیر کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا اور یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہے۔ عبداللہ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: اے میری پیاری بیٹی! خدا کی قسم، یوں لگتا ہے جیسے کسی بکری کو کان سے پکڑ کر ہمارے گھر سے نکال دیا گیا ہو، ام المومنین نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کے دل کو مضبوطی عطا فرمائی ہے اور آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھا ہے، یہ کہہ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر چلے گئے، تھوری دیر بعد واپس آئے اور فرمایا: کیا تمہیں یہ خدشہ ہے کہ عبداللہ کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے؟ ام المومنین نے کہا: ابا جی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: استعیذ باللہ السمیع العلیم میں الشیطن الرجیم (میں سننے والے اور علم رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی پنا مانگتا ہوں مردود شیطان سے) اے میری پیاری بیٹی ہر شخص کو دو طرح کے خیالات آتے ہیں۔ کچھ خیالات فرشتے کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ شیطان کی طرف سے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ثقیف کا وفد آیا، ابھی تک وہ تیر ہمارے پاس سنبھال کر رکھا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ تیر نکالا اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس تیر کو پہچانتا ہے؟ بنی عجلان کے بھائی سیدنا سعد بن عبید نے کہا: یہ تیر تو میرے ہاتھ کا تیار کیا ہوا ہے، اور یہ پھینکا بھی میں نے ہی تھا۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہ تیر ہے جس نے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔ شکر ہے اس ذات کا جس نے تمہارے ہاتھ سے اس کو عزت بخشی اور اس کے ہاتھ سے تمہیں رسوا نہیں کیا۔ بے شک اللہ رب العزت بہت برکت والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6134]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6134 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع اضطراب في النسخ هنا في هذه العبارة، والمثبت من "السنن الكبرى" للبيهقي، حيث رواه عن المصنّف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں اس عبارت میں اضطراب پایا جاتا ہے، چنانچہ ہم نے اسے امام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" کے مطابق ثابت کیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف (امام احمد) کے حوالے سے روایت کیا ہے۔
وقوله: بريتُه، بمعنى: نحتُّه، ومنه: بريتُ العود، وبريتُ القلم.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "بَرَيْتُهُ" کا مطلب ہے اسے تراشنا یا چھیلنا، جیسے لکڑی یا قلم تراشنے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
ورِشْتُه، بوزن بِعْتُه من راشَ السهم، أي: ألزَقَ عليه الريش.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "رِشْتُهُ" کا مطلب ہے تیر پر پر (ریش) لگانا تاکہ وہ سیدھا اڑ سکے۔
وعَقَبْتُه: أي: شددتُه بالعَقَب، والعَقَب: العَصَب الذي تُعمل منه الأوتار.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "عَقَبْتُهُ" کا مطلب ہے اسے پٹھوں (اعصاب) کے ریشوں سے مضبوطی سے باندھنا، "عقب" اس پٹھے کو کہتے ہیں جس سے تانت یا تانت کے دھاگے بنائے جاتے ہیں۔
(2) إسناده تالف، الهيثم بن عدي ساقط متهم بالكذب.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "تالف" (کالعدم) ہے کیونکہ الہیثم بن عدی ساقط الحدیث ہے اور اس پر جھوٹ کا الزام (متہم بالکذب) ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 9/ 98 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "السنن" (9/ 98) میں ابوعبد اللہ الحاکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔