🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
706. ذِكْرُ مَنَاقِبِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6140
أخبرنا أبو نعيم محمد بن عبد الرحمن الغِفَارِي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، قال: سمعتُ أحمد بن زُهير يقول: كعبُ بن عُجْرة بن عَدِيّ بن عُبيدِ (2) الحارث بن عمرو بن عَوف بن غَنْم بن سُوَادٍ (3) ، ويقال لآبائه: القَواقِل، وكان أحرَمَ من الشام حين خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ إلى الحُديبيَة؛ يريد العُمرةَ، فوافق قُدومُه خروجَ النَّبِيّ ﷺ فخَرَجَ معه. وكعبُ بن عُجْرة حَلِيفُ بني عَوف بن الحارث بن الخَزرَج (1) .
سیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ احمد بن زہیر سے روایت ہے کہ کعب بن عجرہ بن عدی انصاری، جن کے آباؤ اجداد کو ”القواقل“ کہا جاتا تھا، انہوں نے اس وقت شام سے احرام باندھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادے سے حدیبیہ کی طرف نکلے تھے، ان کی آمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے وقت ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گئے، کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بنو عوف بن حارث کے حلیف تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6140]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6140] [ترقيم الشركة 6082]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6140 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد مكبرًا، والتصويب من كتب الأنساب والتراجم.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "عبد مکبرا" تحریف ہو گیا ہے، انساب اور تراجم کی کتب کی روشنی میں اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(3) في نسخنا الخطية: سوادة، بالتاء، وهو خطأ، والصواب: سُواد، بضم السين المهملة وتخفيف الواو، بدون تاء، وهو سُواد بن مري، وإليه يُنسب السُّوَادي، كذا ضبطه الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 3/ 1234 وابن ماكولا في "الإكمال" 4/ 391 والسمعاني في "الأنساب" 7/ 284، وابن ناصر الدين في "توضيح المشتبه" 5/ 202.
📌 اہم نکتہ: ہمارے نسخوں میں یہ "سوادہ" (تاء کے ساتھ) لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "سُواد" (بغیر تاء کے) ہے، یہ سُواد بن مری ہیں جن کی طرف "السوادی" کی نسبت ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: دارقطنی، ابن ماکولا، سمعانی اور ابن ناصر الدین نے اسی طرح اس نام کو ضبط کیا ہے۔
(1) انظر لمعرفة الصحابة لأبي نعيم 5/ 2370، و "تاريخ دمشق" لابن عساكر 50/ 144، و "أسد الغابة" لابن الأثير 4/ 181.
📖 حوالہ / مصدر: مزید مطالعہ کے لیے ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابہ" (5/ 2370)، ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (50/ 144) اور ابن اثیر کی "اسد الغابہ" (4/ 181) دیکھیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6140 in Urdu