المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
720. ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ
سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6173
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يضعُ لحسَّان مِنبرًا في المسجد يقومُ عليه قائمًا يفاخرُ عن رسول الله ﷺ، ويقول رسول الله ﷺ:"إنَّ الله يؤيِّدُ حسَّانَ برُوحِ القُدُس ما نافَحَ - أو فاخَرَ - عن رسول الله ﷺ" (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ایک منبر رکھواتے تھے جس پر وہ کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے (مشرکین کے مقابلے میں) فخریہ اشعار پڑھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بے شک اللہ تعالیٰ روح القدس (سیدنا جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے حسان کی تائید فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فخریہ جواب دیتے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6173]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون ذكر وضع المنبر في المسجد لحسان، فهو شاذٌّ تفرد به عبد الرحمن بن أبي الزناد، وهو حسن الحديث ليس بذاك القوي، وباقي رجال الإسناد ثقات. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، وعروة: هو ابن الزبير.» [ترقيم الرساله 6173] [ترقيم الشركة 6113]
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون ذكر وضع المنبر في المسجد لحسان
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6173 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح دون ذكر وضع المنبر في المسجد لحسان، فهو شاذٌّ تفرد به عبد الرحمن بن أبي الزناد، وهو حسن الحديث ليس بذاك القوي، وباقي رجال الإسناد ثقات. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، وعروة: هو ابن الزبير.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، سوائے مسجد میں حضرت حسان بن ثابت کے لیے منبر رکھنے کے ذکر کے، کیونکہ یہ ٹکڑا 'شاذ' ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: منبر کے ذکر میں عبد الرحمن بن ابی الزناد منفرد ہیں، وہ 'حسن الحدیث' ہیں مگر اتنے قوی نہیں، جبکہ سند کے باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔ ابو الزناد سے مراد عبد اللہ بن ذکوان اور عروہ سے مراد عروہ بن زبیر ہیں۔
وأخرجه أحمد (40/ 24437)، وأبو داود (5015)، والترمذي (2846 م) من طرق عن ابن أبي الزناد، بهذا الإسناد. وقُرن بأبي الزناد عند أبي داود هشامُ بن عروة. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (40/ 24437)، ابو داود (5015) اور ترمذی (2846 م) نے ابن ابی الزناد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابو داود کے ہاں ابو الزناد کے ساتھ ہشام بن عروہ کو بھی بطورِ متابع ذکر کیا گیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے 'حسن صحیح غریب' قرار دیا ہے۔
وأخرجه دون ذكر المنبر: مسلم (2490) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، وابن حبان (7147) من طريق شداد بن أوس الأنصاري، كلاهما عن عائشة.
🧾 تفصیلِ روایت: منبر کے ذکر کے بغیر اسے امام مسلم (2490) نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے طریق سے اور ابن حبان (7147) نے شداد بن اوس انصاری کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
ويشهد له - دون ذكر المنبر - حديث البراء بن عازب، وسيأتي لاحقًا عند المصنّف برقم (6177).
🧩 متابعات و شواہد: منبر کے ذکر کے بغیر اس روایت کا شاہد حضرت براء بن عازب کی حدیث ہے، جو مصنف کے ہاں آگے چل کر رقم (6177) پر آئے گی۔
وهو في "الصحيحين".
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "صحیحین" (بخاری و مسلم) میں موجود ہے۔
وحديث حسّان نفسه - واستشهد أبا هريرة عليه - عند البخاري (453) و (6152) ومسلم (2485) بلفظ: "يا حسان، أجب عن رسول الله، اللهم أيِّده بروح القدس".
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت حسان بن ثابت کی اپنی روایت (جس میں انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو گواہ بنایا) بخاری (453) و (6152) اور مسلم (2485) میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: "اے حسان! رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعے ان کی تائید فرما"۔
وروح القدس: هو جبريل ﵇.
📝 نوٹ / توضیح: روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6173 in Urdu