المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
744. اسْتِجَابَةُ دُعَاءِ سَعْدٍ فِي حَقِّ رَاكِبٍ سَبَّ عَلِيًّا
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
حدیث نمبر: 6241
فحدَّثنا بشَرْح هذا الحديث الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد السُّرّي، حَدَّثَنَا حامد بن يحيى - هو البَلْخي - بمكة، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كنتُ بالمدينة، فبَيْنا أنا أطوفُ في السوق إذ بَلَغَتُ أحجارَ الزيت، فرأيتُ قومًا مجتمعين على فارسٍ قد رَكِبَ دابّةً وهو يَشتِمُ عليَّ بن أبي طالب والناسُ وقوفٌ حوالَيه، إذْ أقبَلَ سعدُ بن أبي وقّاص فوَقَفَ عليهم، فقال: ما هذا؟ فقالوا: رجل يَشتِمُ عليَّ بن أبي طالب، فتقدَّم سعدٌ فأَفرَجوا له حتَّى وقفَ عليه، فقال: يا هذا، علَامَ علي بن أبي طالب؟ ألم يكنَ أولَ من أسلمَ؟ ألم يكن أولَ من صلَّى مع رسول الله ﷺ؟ ألم يكن أزهدَ الناس؟ ألم يكن أعلمَ الناس؟ وذكر حتَّى قال: ألم يكن خَتَنَ رسولِ الله ﷺ على ابنتِه؟ ألم يكن صاحبَ رايةِ رسول الله ﷺ في غَزَواته؟ ثم استقبَلَ القِبلةَ ورفع يديه، وقال: اللهمَ إنَّ هذا يَشتِمُ وليًّا من أوليائك، فلا تُفرِّقُ هذا الجمعَ حتَّى تُرِيَهم قُدرتَك. قال قيس: فوالله ما تفرَّقْنا حتَّى ساخَتْ به دابَّتُه فرَمَتْه على هامَتِه في تلك الأحجار، فانفلَقَ دماغُه ومات (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6121 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6121 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا اور بازار کا چکر لگا رہا تھا کہ جب میں ”احجار الزیت“ کے مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ایک گھڑ سوار کے گرد جمع ہے جو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور لوگ اس کے ارد گرد کھڑے سن رہے تھے، اتنے میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر پوچھا: ”یہ کیا ہو رہا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ شخص علی بن ابی طالب کو برا کہہ رہا ہے،“ پس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو لوگوں نے ان کے لیے راستہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اے شخص! تو علی بن ابی طالب کو کس بنیاد پر برا بھلا کہہ رہا ہے؟ کیا وہ سب سے پہلے اسلام لانے والے نہیں تھے؟ کیا وہ پہلے شخص نہیں تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے زیادہ زاہد نہیں تھے؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے بڑے عالم نہیں تھے؟“ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل ذکر کیے یہاں تک کہ فرمایا: ”کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور آپ کی صاحبزادی کے شوہر نہیں تھے؟ کیا وہ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار نہیں تھے؟“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ قبلہ رخ ہوئے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: ”اے اللہ! یہ شخص تیرے ولیوں میں سے ایک ولی کو گالیاں دے رہا ہے، تو اس ہجوم کے منتشر ہونے سے پہلے ان لوگوں کو اپنی قدرت کا نشان دکھا دے،“ قیس کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! ہم ابھی منتشر نہیں ہوئے تھے کہ اس کی سواری نے اسے پٹخ دیا اور وہ ان پتھروں پر اپنے سر کے بل گرا جس سے اس کا دماغ پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6241]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِين من جهة الحسن بن علي بن زياد، فهو - وإن روى عنه غير واحد - لم يؤثر فيه جرح أو تعديل، فهو مستور الحال وتُقبَل روايته في المتابعات والشواهد، لكنّ خبره هذا الذي ساقه المصنّف لم يتابعه عليه أحد بهذا السياق، ولم نقف عليه عند غير المصنّف، ...» [ترقيم الرساله 6241] [ترقيم الشركة 6178] [ترقيم العلميه 6121]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لِين من جهة الحسن بن علي بن زياد
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6241 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لِين من جهة الحسن بن علي بن زياد، فهو - وإن روى عنه غير واحد - لم يؤثر فيه جرح أو تعديل، فهو مستور الحال وتُقبَل روايته في المتابعات والشواهد، لكنّ خبره هذا الذي ساقه المصنّف لم يتابعه عليه أحد بهذا السياق، ولم نقف عليه عند غير المصنّف، وباقي رجال الإسناد ثقات. سفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند میں حسن بن علی بن زیاد کی وجہ سے 'لین' (کمزوری) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن بن علی اگرچہ متعدد راویوں کے استاد ہیں مگر ان پر کوئی جرح یا تعدیل منقول نہیں، لہٰذا وہ 'مستور الحال' ہیں اور ان کی روایت متابعات و شواہد میں قبول کی جا سکتی ہے، مگر مصنف کے اس سیاق پر کسی نے ان کی متابعت نہیں کی۔ باقی راوی ثقہ ہیں اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6241 in Urdu