🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

744. اسْتِجَابَةُ دُعَاءِ سَعْدٍ فِي حَقِّ رَاكِبٍ سَبَّ عَلِيًّا
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6239
أخبرنا الحسين بن علي التَّميمي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمامُ، أخبرنا يونس بن عبد الأعلى، أخبرنا ابن وهب أخبرني بكر بن مُضَر، عن سعيد بن عبد الرحمن (1) قال: قال ابنٌ لسعد بن أبي وقَّاص: أنا ابن مستجابِ الدُّعا والسّادِّ … للثُّلْمةِ للمصطفى من العَرَبِ يَكلؤُها للنبيِّ محتسِبًا … خُصَّ بها دونَ كلِّ محتسِبِ واختلَفَ الناسُ بينَهْم فأَبى … قتالَ أهلِ التوحيدِ والكُتُبِ سلَّمَه الله لم يُصِبْ أَحدًا … منهمْ بسهمٍ إذًا ولم يُصَبِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: * میں مستجاب الدعوات شخص کا بیٹا ہوں اور اہل عرب میں سے اس شخص کا بیٹا ہوں جو مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تمام رخنے بند کرنے والا تھا۔ * وہ ثواب کی نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے، اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس عمل پر مامور کیا تھا۔ * اور لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوا، آپ نے اہل توحید اور اہل کتاب سے جہاد کرنے سے منع کیا۔ * اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے، ان میں سے کسی کا تیر ان تک نہیں پہنچا اور نہ آپ نے ان کو تیر مارا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6239]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6240
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مَرزُوق، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي بَلْج، عن مصعب بن سعد، عن سعد: أنَّ رجلًا نالَ من عليّ، فدعا عليه سعدُ بنُ مالك، فجاءتْه ناقةٌ أو جملٌ فقتله، فأَعتَقَ سعدٌ نَسَمةً وحَلَفَ أن لا يدعوَ على أَحد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6120 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے بددعا کر دی، ایک اونٹنی یا اونٹ آیا اور اس کو کچل گیا، اس پر پریشان ہو کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک غلام آزاد کیا اور قسم کھائی کہ آئندہ کبھی بھی کسی کو بددعا نہیں دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6240]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6241
فحدَّثنا بشَرْح هذا الحديث الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد السُّرّي، حَدَّثَنَا حامد بن يحيى - هو البَلْخي - بمكة، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كنتُ بالمدينة، فبَيْنا أنا أطوفُ في السوق إذ بَلَغَتُ أحجارَ الزيت، فرأيتُ قومًا مجتمعين على فارسٍ قد رَكِبَ دابّةً وهو يَشتِمُ عليَّ بن أبي طالب والناسُ وقوفٌ حوالَيه، إذْ أقبَلَ سعدُ بن أبي وقّاص فوَقَفَ عليهم، فقال: ما هذا؟ فقالوا: رجل يَشتِمُ عليَّ بن أبي طالب، فتقدَّم سعدٌ فأَفرَجوا له حتَّى وقفَ عليه، فقال: يا هذا، علَامَ علي بن أبي طالب؟ ألم يكنَ أولَ من أسلمَ؟ ألم يكن أولَ من صلَّى مع رسول الله ﷺ؟ ألم يكن أزهدَ الناس؟ ألم يكن أعلمَ الناس؟ وذكر حتَّى قال: ألم يكن خَتَنَ رسولِ الله ﷺ على ابنتِه؟ ألم يكن صاحبَ رايةِ رسول الله ﷺ في غَزَواته؟ ثم استقبَلَ القِبلةَ ورفع يديه، وقال: اللهمَ إنَّ هذا يَشتِمُ وليًّا من أوليائك، فلا تُفرِّقُ هذا الجمعَ حتَّى تُرِيَهم قُدرتَك. قال قيس: فوالله ما تفرَّقْنا حتَّى ساخَتْ به دابَّتُه فرَمَتْه على هامَتِه في تلك الأحجار، فانفلَقَ دماغُه ومات (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6121 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں بازار میں جا رہا تھا، میں مقام احجارالزیت پر پہنچا، میں نے دیکھا کہ ایک شخص سواری پر سوار تھا، کافی سارے لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، وہ شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا، اسی اثناء میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے اور وہ بھی وہیں کھڑے ہو گئے، لوگوں سے پوچھا: کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک آدمی سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے، سیدنا سعد آگے بڑھے، لوگوں نے ان کو راستہ دے دیا، سیدنا سعد اس آدمی کے قریب آ گئے اور فرمایا: ارے، تم علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں کیوں دے رہے ہو؟ کیا وہ سب سے پہلے مسلمان نہیں ہوئے تھے؟ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے والے سب سے پہلے شخص نہیں تھے؟ کیا وہ سب سے زیادہ دنیا سے بے رغبت نہیں تھے؟ کیا وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں تھے؟ اس کے علاوہ بھی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کافی فضائل گنوائے، حتیٰ کہ یہ بھی کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد نہیں تھے؟ کیا وہ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار نہیں تھے۔ اس کے بعد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ قبلہ رو ہو کر ہاتھ بلند کر کے یوں دعا مانگی اے اللہ! یہ شخص تیرے ایک ولی کو گالی دے رہا ہے، یا اللہ! یہ مجمع ختم ہونے سے پہلے تو اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا دے (اور لوگ تیرے ولی کو گالی دینے والے کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں) سیدنا قیس کہتے ہیں: خدا کی قسم! ہم ابھی وہاں سے ہٹے نہیں تھے کہ اس کی سواری بدک گئی، اس سواری نے اس آدمی کو سر کے بل پتھروں میں گرا دیا جس کی وجہ سے اس کی کھوپڑی کھل گئی اور اس کا بھیجا باہر آ گیا اور وہ وہیں پر عبرتناک موت مر گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6241]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6242
وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا العبّاس بن الفضل الأَسْفاطي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن يحيى الشَّجَري [حدثني أبي] (2) حدثني موسى بن عُقْبة، حدثني إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن سعد بن أبي وقّاص قال: قال لي رسول الله ﷺ:"اللهمَّ سدِّدْ رميتَه، وأجِبْ دعوتَه" (1) .
هذا حديثٌ تفرَّدَ به يحيى بنُ هانيء (2) الشَّجَري، وهو شيخٌ ثقةٌ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6122 - تفرد به الشجري وهو ثقة
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں یہ دعا مانگی اے اللہ، اس کا نشانہ درست فرما اور اس کی دعا کو قبول فرما ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6242]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6243
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب قال: كنت جالسًا مع سعدٍ، فجاء رجل يقال له: الحارثُ ابن بَرْصاءَ، وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إن كنت آنِفًا عند مروانَ فسمعتُه وهو يقول: إنَّ هذا المالَ مالُنا، نُعطيهِ من نشاءُ (3) ، قال فرفع سعدٌ يده وقال: أفَأَدْعُو؟! فَوَثَبَ مروانُ وهو على سريره فاعتنقَه، قال: أَنشُدُكَ يا أبا إسحاق أن تدعوَ، فإنما هو مالُ الله (4) .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، حارث بن برصاء نامی ایک شخص بازار سے آیا اور آ کر کہنے لگا: اے ابواسحاق! میں ابھی ابھی مروان کے پاس تھا، میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ مال ہمارا ہے، ہم جس کو چاہیں دے سکتے ہیں۔ سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ بلند کر کے کہا: کیا میں دعا مانگوں؟ تو مروان اپنے تخت سے اچھل کر اٹھا اور ان کو زور سے پکڑ کر بولا: اے ابواسحاق! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں آپ میرے لئے کوئی بددعا نہ کیجئے، وہ مال اللہ کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6243]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں