🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
748. فَضِيلَةُ مَكَّةَ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
مکہ مکرمہ کی فضیلت بیت المقدس پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6252
قال ابن عمر: وحدثني محمد بن عمران بن هِنْد، عن أبيه قال: حَضَرَت الأرقمَ بنَ أبي الأرقم الوفاةُ، فأوصى أن يصلِّيَ عليه سعد، فقال مروان: أيُحبَسُ صاحبُ رسول الله ﷺ لرجلٍ غائب؟! وأراد الصلاةَ عليه، فأَبى عبدُ الله بن الأرقم ذلك على مروان، وقامت معه بنو مَخزُوم، ووقع بينهم كلام، ثم جاء سعدٌ فصلَّى عليه. وذلك سنة خمس وخمسين بالمدينة، وهَلَكَ الأرقمُ وهو ابن بِضعٍ وثمانين سنة (1) .
محمد بن عمران بن ہند اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ ان کا جنازہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پڑھائیں، (اس وقت مروان گورنر تھا اور سعد مدینہ سے باہر تھے) تو مروان نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا جنازہ ایک غائب شخص کی خاطر روکا جائے گا؟“ اور اس نے خود نمازِ جنازہ پڑھانے کا ارادہ کیا، لیکن عبداللہ بن ارقم نے مروان کو اس سے روک دیا اور بنو مخزوم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے جنازہ پڑھایا، یہ واقعہ 55 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیش آیا، اور سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ کی وفات اسی سال سے کچھ زائد کی عمر میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6252]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6252]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6252 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) محمد بن عمران وأبوه لم نقف على ترجمتهما كما سبق.
🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمران اور ان کے والد کا ترجمہ (حالات) دستیاب نہیں ہیں۔
وهذا الخبر ذكره عن محمد بن عمر الواقدي بهذا الإسناد الطبريُّ في "ذيل المذيَّل" كما في "منتخبه" 11/ 519.
📖 حوالہ / مصدر: اس خبر کو امام طبری نے واقدی کی اسی سند کے ساتھ "ذیل المذیّل" میں ذکر کیا ہے۔
ورواه ابن سعد 3/ 225، ومن طريقه ابن عساكر 37/ 404 عن الواقدي، عن عمران بن هند، عن أبيه قال: حضرت … إلخ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (3/ 225) نے اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (37/ 404) نے واقدی عن عمران بن ہند کے طریق سے روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6252 in Urdu