المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
748. فَضِيلَةُ مَكَّةَ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
مکہ مکرمہ کی فضیلت بیت المقدس پر
حدیث نمبر: 6250
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني عثمان بن هِنْد بن عبد الله بن عثمان بن الأرقَم بن أبي الأرقَم المخزومي قال: أخبرني أَبي، عن يحيى بن عثمان بن الأرقَم، حدثني جدِّي عثمان بن الأرقَم أنه كان يقول: أنا ابن سُبعِ الإسلام؛ أسلمَ أبي سابعَ سبعةٍ، وكانت دارُه على الصَّفَا، وهي الدار التي كان النَّبِيُّ ﷺ يكون فيها في الإسلام، وفيها دَعَا الناسَ إلى الإسلام، فأسلَمَ فيها قومٌ كثير، وقال رسول الله ﷺ ليلةَ الاثنين فيها:"اللهم أعِزَّ الإسلام بأحبِّ الرجلين إليك: عمرَ بن الخطَّاب، أو عَمْرِو بن هشام"، فجاء عمرُ بن الخطَّاب من الغدِ بُكْرةً، فأسلَمَ في دار الأرقم، وخرجوا منها وكبَّروا، وطافُوا بالبيت ظاهرين. ودُعِيَت دارُ الأرقم دارَ الإسلام، وتَصدَّق بها الأرقمُ على ولدِه، فقرأتُ نسخةَ صدقةِ الأرقم بداره: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما قَضَى الأرقمُ في رَبْعِه ما حازَ الصَّفَا، أنها صدقةٌ بمكانها من الحَرَم لا تُباعُ ولا تُورَثُ؛ شَهِدَ هشامُ بن العاص وفلانٌ مولى هشام بن العاص، قال: فلم تَزَلْ هذه الدارُ صدقةً قائمةٌ، فيها ولدُه يَسكُنون ويُؤاجِرون ويأخذون غَلَّتَها حتَّى كان زمنُ أبي جعفر (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6129 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6129 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عثمان بن ارقم فرمایا کرتے تھے کہ میں سبع الاسلام (ساتویں نمبر پر اسلام لانے والے شخص) کا بیٹا ہوں، میرے والد ساتویں نمبر پر اسلام لائے تھے، ان کا گھر صفا پر تھا، یہ وہی گھر ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز فرمایا، اور اس گھر میں بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں پیر کی شب کو یہ دعا فرمائی ” اے اللہ! دو آدمیوں عمر بن خطاب اور عمر بن ہشام میں سے جو تجھے پسند ہے تو اس کے سبب دین اسلام کو عزت بخش “ اگلے ہی دن صبح سویرے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور دارارقم میں اسلام قبول کیا، (آپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد) تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے دارارقم سے باہر آئے اور کھلے عام بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ دارارقم کو دارالاسلام کا نام دیا گیا۔ سیدنا ارقم نے اپنے بیٹے کے نام پر وہ مکان صدقہ کر دیا، میں نے خود دارارقم میں صدقہ کرنے کی دستاویز پڑھی، اس کی تحریر یوں تھی ” بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ دستاویز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ارقم نے اپنا یہ مکان جو کہ صفاء کے بالمقابل ہے یہ حرم کیلئے صدقہ ہے، اس کو نہ وراثت کے طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو بیچا جا سکتا ہے، ہشام بن عاص اور ہشام بن عاص کے فلاں آزاد کردہ غلام اس بات کے گواہ ہیں۔ اس کے بعد ابوجعفر کے زمانے تک یہ گھر صدقہ کے طور پر رہا، اس گھر میں سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ کی اولادیں کرایہ دے کر رہتی رہیں۔ محمد بن عمر کہتے ہیں: یحیی بن عمران بن عثمان بن ارقم فرماتے ہیں: مجھے آج بھی وہ بات یاد ہے جس کی بناء پر ابوجعفر کے دل میں اس مکان کے بارے میں خیال پیدا ہوا۔ (واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ) جب ابوجعفر حج کے لئے آیا، وہ صفا مروہ کی سعی کر رہا تھا، ہم اپنے مکان کی چھت پر تھے، وہ ہمارے نیچے سے گزرا، (وہ اتنے قریب سے گزرا) کہ اگر ہم اس کی ٹوپی اتارنا چاہتے تو اتار سکتے تھے، وہ جب وادی سے نیچے اترتا تو ہمیں دیکھتا تھا، پھر وہ صفا پر چڑھ جاتا۔ جب محمد بن عبداللہ بن حسن نے مدینہ میں بغاوت کی تو اس موقع پر عبداللہ بن عثمان بن ارقم نے ان کی بیعت کر لی تھی اور محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ بغاوت میں ان کا ساتھ نہیں دیا تھا، ابوجعفر نے اس بات کا سخت نوٹس لیا، اس نے مدینہ میں اپنے عامل کی جانب خط لکھا کہ اس کو گرفتار کر کے زنجیروں میں جکڑ دیا جائے، پھر کوفہ کے رہنے والے ایک شہاب بن عبدرب نامی شخص کو بھیجا اور اس کے ساتھ مدینہ کے عامل کے نام ایک مکتوب بھی بھیجا جس میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ شہاب بن عبدرب جو کہے اس پر عمل کیا جائے، چنانچہ شہاب بن عبدرب نے جا کر عبداللہ بن عثمان کو گرفتار کر لیا، عبداللہ بن عثمان اس وقت اسی سال سے زائد عمر کے بزرگ انسان تھے، قید اور زنجیروں کی وجہ سے بہت گھبرا گئے تھے، شہاب نے کہا: اگر تم یہ مکان مجھے بیچ دو تو میں تمہیں اس تکلیف سے نجات دلا سکتا ہوں۔ امیرالمومنین یہ مکان لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اگر آپ یہ بیچ دیں تو میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں رہا کر دیں۔ سیدنا عبداللہ بن عثمان نے فرمایا: یہ مکان تو صدقہ کا ہے، ہاں البتہ میں اپنا حق ان کو دے سکتا ہوں، لیکن اس مکان میں صرف میں ہی نہیں ہوں بلکہ میرے ہمراہ میرے دیگر بھائی بھی (شریک) ہیں۔ اس نے کہا: آپ اپنے حق کے ذمہ دار ہیں، آپ اپنا حق ہمیں دے دیں تو تم اس سے بری ہو، شہاب نے اس بات پر گواہ قائم کئے، اور ابوجعفر کی طرف خط لکھ دیا کہ میں نے وہ مکان 17 ہزار دینار کے بدلے میں خرید لیا ہے، اس کے بعد ان کے بھائیوں کو ڈھونڈا، ان کو بہت زیادہ مال و دولت کی لالچ دی، انہوں نے اپنا حصہ بیچ دیا۔ اس طرح وہ مکان ابوجعفر اور اس کے حصہ داروں کا ہو گیا۔ اس کے بعد یہ مکان مہدی نے موسیٰ و ہارون کی والدہ خیزران کو دیا، اس نے اس کی تعمیر نو کی، وہی اس کی پہچان بن گئی، پھر یہ مکان جعفر بن موسیٰ ہادی کا ہو گیا، اس کے بعد سطوی اور عدنی لوگ اس کے مالک رہے، پھر اس کے اکثر حصص کو جعفر بن موسیٰ کے بیٹے غسان بن عباد نے خریدا۔ اور دارارقم مدینہ بنی زریق میں ہے۔ محمد بن عمر کہتے ہیں: مجھے محمد بن عمران بن ہند نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا ہے کہ ارقم بن ابی ارقم کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ سیدنا سعد پڑھائیں، مروان نے کہا: کیا تم ایک ایسے آدمی کے انتظار میں جو یہاں سے غائب ہے ایک صحابی رسول کو روک رہے ہو؟ وہ جنازہ پڑھانا چاہتا تھا۔ لیکن عبداللہ بن ارقم نے مروان کو اپنے والد کا جنازہ پڑھانے سے منع کر دیا۔ اور بنو مخزوم ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے، ان میں بات بڑھ گئی، اتنی دیر میں سیدنا سعد تشریف لے آئے اور ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ یہ 55 ہجری کا واقعہ ہے۔ سیدنا ارقم کی عمر اسی سال سے کچھ اوپر تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6250]
حدیث نمبر: 6251
قال محمد بن عمر: فأخبَرني أَبي، عن يحيى بن عِمران بن عثمان بن الأرقَم قال: إني لأعلمُ اليومَ الذي وَقَعَ في نفس أبي جعفرٍ (1) ؛ إنه يَسعَى بين الصَّفا والمَرْوة في حَجَّةٍ حجَّها، ونحن على ظَهْر الدار، فيمرُّ تحتَنا لو أَشَاءُ أن آخذَ قَلَنسُوَتَه لأخذتها، وإنه لينظُرُ إلينا من حِين يَهبِطُ الوادي حتَّى يصعدَ إلى الصَّفا، فلما خرج محمدُ بنُ عبد الله بن حَسَن بالمدينة كان عبدُ الله بن عثمان بن الأرقَم ممَّن بايَعَه ولم يَخرُجْ معه، فتعلَّقَ عليه أبو جعفر بذلك، فكتب إلى عاملِه بالمدينة أن يَحبِسَه ويَطرَحَه في الحديد، ثم بعث رجلًا من أهل الكوفة يقال له: شِهاب بن عبد ربٍّ، وكتب معه إلى عامله بالمدينة أن يفعلَ ما يَأمرُه، فدخل شِهاب على عبد الله بن عثمان الحبسَ وهو شيخٌ كبيرٌ ابن بِضْعٍ وثمانين سنة، وقد ضَجِرَ في الحديد والحبس، فقال: هل لك أن أخلِّصَك ممَّا أنت فيه وتبيعَني دارَ الأرقم؟ فإنَّ أمير المؤمنين يريدها، وعسى إن بِعتَه إياها أن أكلِّمَه فيك فيَعفُوَ عنك، قال: إنها صدقةٌ، ولكنْ حقِّي منها له، ومعي فيها شركاءُ إخْوتي وغيرُهم، فقال: إنما عليك نفسَك، أَعطِنا حقَّكَ وبَرِئتَ، فَأَشْهَدَ له وكَتَب عليه كتابَ شِرًى على سبعةَ عشرَ ألفَ دينار، ثم تتبَّع إخوتَه ففَتَنَهم كثرةُ المال فباعوه، فصارت لأبي جعفر ولمن أقطَعَها، ثم صيَّرها المهديُّ للخَيزُران أمَّ موسى وهارون، فبَنَتْها وعُرِفَت بها، ثم صارت لجعفر بن موسى الهادي، ثم سكنها أصحابُ الشَّطَوي والعَدَني، ثم اشترى عامَّتَها أو أكثرها غسّانُ بن عبّاد من ولد جعفر بن موسى، وأما دارُ الأرقم بالمدينة في بني زُرَيقٍ فَقَطِيعةٌ من النَّبِيّ ﷺ.
6251 - یحییٰ بن عمران بن عثمان بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ: "میں وہ دن (اچھی طرح) جانتا ہوں جب ابو جعفر (منصور) کے دل میں (دارِ ارقم کے حصول کا) خیال پیدا ہوا؛ وہ اپنے ایک حج کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہا تھا اور ہم گھر کی چھت پر موجود تھے۔ وہ ہمارے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا، اگر میں چاہتا کہ اس کی ٹوپی اتار لوں تو اتار سکتا تھا۔ وہ وادی میں اترنے سے لے کر صفا پر چڑھنے تک مسلسل ہماری طرف (گھر کو) دیکھتا رہا۔ پھر جب مدینہ میں محمد بن عبداللہ بن حسن (نفس زکیہ) نے خروج کیا، تو عبداللہ بن عثمان بن ارقم ان بیعت کرنے والوں میں شامل تھے جنہوں نے ان کا ساتھ تو دیا مگر ان کے ساتھ نکلے نہیں تھے۔ ابو جعفر نے اسی بات کو ان کے خلاف بطور حجت استعمال کیا اور مدینہ کے گورنر کو لکھا کہ انہیں قید کر کے بیڑیاں ڈال دی جائیں۔ پھر اس نے کوفہ کے ایک شخص شہاب بن عبد رب کو بھیجا اور گورنر کو لکھا کہ یہ جو کہے وہی کیا جائے۔ شہاب جیل میں عبداللہ بن عثمان کے پاس گیا، وہ اس وقت بیاسی بیاسی سال کے بوڑھے ہو چکے تھے اور قید و بند کی سختیوں سے تنگ آ چکے تھے۔ شہاب نے کہا: 'کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو اس مصیبت سے چھڑا دوں؟ آپ دارِ ارقم مجھے بیچ دیں، کیونکہ امیر المومنین اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں، شاید اگر آپ اسے بیچ دیں تو میں آپ کے حق میں بات کروں اور وہ آپ کو معاف کر دیں'۔ انہوں نے جواب دیا: 'وہ تو صدقہ (وقف) ہے، البتہ اس میں میرا جو حصہ ہے وہ ان کا ہوا، جبکہ اس میں میرے بھائی اور دیگر شریک بھی ہیں'۔ شہاب نے کہا: 'آپ صرف اپنی فکر کریں، اپنا حصہ ہمیں دے دیں اور بری الذمہ ہو جائیں'۔ چنانچہ انہوں نے گواہی دی اور سترہ ہزار دینار کے عوض بیع نامہ لکھ دیا گیا۔ پھر شہاب نے ان کے بھائیوں کا پیچھا کیا، وہ کثیر مال دیکھ کر فتنے میں پڑ گئے اور انہوں نے بھی (اپنے حصے) بیچ دیے۔ یوں وہ گھر ابو جعفر کی ملکیت میں آ گیا اور پھر اس نے جسے چاہا جاگیر کے طور پر دے دیا۔ بعد ازاں (خلیفہ) مہدی نے اسے (اپنی زوجہ) خیزران (امِ موسیٰ و ہارون) کو دے دیا، جس نے اسے تعمیر کروایا اور وہ اسی کے نام سے مشہور ہوا۔ پھر وہ جعفر بن موسیٰ الہادی کی ملکیت میں رہا، اور بعد میں وہاں شطوی اور عدنی کے اصحاب مقیم رہے۔ پھر اس کا بڑا حصہ غسان بن عباد نے جعفر بن موسیٰ کی اولاد سے خرید لیا۔ جہاں تک مدینہ میں بنو زریق میں واقع دارِ ارقم کا تعلق ہے، تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ جاگیر ہے"۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6251]
حدیث نمبر: 6252
قال ابن عمر: وحدثني محمد بن عمران بن هِنْد، عن أبيه قال: حَضَرَت الأرقمَ بنَ أبي الأرقم الوفاةُ، فأوصى أن يصلِّيَ عليه سعد، فقال مروان: أيُحبَسُ صاحبُ رسول الله ﷺ لرجلٍ غائب؟! وأراد الصلاةَ عليه، فأَبى عبدُ الله بن الأرقم ذلك على مروان، وقامت معه بنو مَخزُوم، ووقع بينهم كلام، ثم جاء سعدٌ فصلَّى عليه. وذلك سنة خمس وخمسين بالمدينة، وهَلَكَ الأرقمُ وهو ابن بِضعٍ وثمانين سنة (1) .
محمد بن عمران بن ہند اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ: "جب ارقم بن ابی الارقم (رضی اللہ عنہ) کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کی نمازِ جنازہ سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) پڑھائیں۔ (اس وقت) مروان نے کہا: 'کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی (کے جنازے) کو ایک ایسے شخص کے لیے روکا جائے گا جو یہاں موجود نہیں ہے؟' اور اس نے خود جنازہ پڑھانے کا ارادہ کیا۔ لیکن عبداللہ بن ارقم نے مروان کی اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور بنو مخزوم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جس پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ پھر سعد (بن ابی وقاص) تشریف لائے اور انہوں نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ یہ واقعہ سن 55 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیش آیا، اور ارقم (رضی اللہ عنہ) کی وفات بیاسی بیاسی برس کی عمر میں ہوئی"۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6252]
حدیث نمبر: 6253
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أَسد بن موسى، حَدَّثَنَا العَطَّاف بن خالد المخزومي، عن عثمان بن عبد الله بن الأرقَم، عن جدِّه الأرقم؛ وكان بدريًّا، وكان رسول الله ﷺ أَوى في داره عند الصَّفا حتَّى تَكامَلوا أربعين رجلًا مسلمين، وكان آخرَهم إسلامًا عمرُ بن الخطّاب ﵃، فلما كانوا أربعين خرجوا إلى المشركين. قال الأرقمُ: فجئتُ رسول الله ﷺ لأودِّعَه، وأردتُ الخروجَ إلى بيت المقدِس، فقال لي رسول الله ﷺ: أين تريدُ؟" قلت: بيتَ المقدِس، قال:"وما يُخرِجُك إليه، أفي تجارةٍ؟" قلت: لا، ولكنْ أُصلَّي فيه، فقال رسول الله ﷺ:"صلاةٌ هاهنا خيرٌ من ألفِ صلاةٍ ثَمَّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6130 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6130 - صحيح
عثمان بن عبداللہ بن ارقم مخزومی اپنے دادا ارقم کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بدری صحابی تھے، اور کوہ صفا کے قریب انہی کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے اور اسی گھر میں پورے چالیس لوگ مسلمان ہوئے تھے، اور اس گھر میں سب سے آخر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے۔ جب چالیس آدمی پورے ہو گئے تو یہ لوگ مشرکین کی جانب نکلے، سیدنا ارقم فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آپ سے الوداع ہونے کے لئے آیا، کیونکہ میں بیت المقدس کی جانب روانگی کا ارادہ کر چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم کدھر کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: بیت المقدس جانا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم وہاں کیوں جانا چاہتے ہو؟ کیا تجارت کے لئے جا رہے ہو؟ میں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارت کے لئے نہیں جا رہا بلکہ میں وہاں نماز پڑھنے کے لئے جا رہا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں پر نماز پڑھنا، وہاں کی ہزار نمازوں سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6253]
حدیث نمبر: 6254
حَدَّثَنَا علي بن عيسى الحِيرِي، حَدَّثَنَا علي بن إبراهيم النَّسَوي، حَدَّثَنَا أبو مُصعَب، حَدَّثَنَا يحيى بن عِمران بن عثمان، عن جدِّه عثمان بن الأرقَم بن أبي الأرقَم، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ:"ضَعُوا ما كان معكم من الأنفال (2) "، فرَفَعَ أبو أُسيد الساعدي سيفَ ابن عائذٍ المَرزُبانَ، فعرفه الأرقمُ بن أبي الأرقم فقال: هَبْهُ لي يا رسول الله، فأعطاه إيَّاه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6131 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6131 - صحيح
عثمان بن ارقم بن ابی ارقم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر ارشاد فرمایا: تمہارے پاس جو بوجھ ہے سب اتار دو۔ تو سیدنا ابواسید ساعدی نے ابن عائذ مرزبان کی تلوار اتار دی۔ سیدنا ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ نے وہ تلوار پہچان لی اور کہنے لگے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار مجھے عطا فرما دیجئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار انہی کو عطا فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6254]