🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. أحكام الاستحاضة
استحاضہ کے احکام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 626
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا أبو المغيرة، عن الأوزاعيِّ، عن الزُّهْري، عن عُرْوة وعَمْرة، عن عائشة قالت: استُحيضت أمّ حَبِيبة وهي تحت عبد الرحمن بن عوف سبعَ سنين، فأمرها النَّبِيّ ﷺ قال:"إذا أقبَلَت الحيضةُ فدَعِي الصلاةَ، فإذا أدبَرَت فاغتسلي وصلِّي" (3) . حديث عمرو بن الحارث والأوزاعي صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج مسلم حديث سفيان بن عُيينة وإبراهيم بن سعد عن الزُّهْري بغير هذا اللفظ (1) . وقد تابع محمدُ بنُ عمرو بن علقمة الأوزاعيَّ على روايته هذه عن الزُّهْري على هذه الألفاظ، وهو صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 617 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں، انہیں سات سال تک استحاضہ رہا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا اور فرمایا: جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر لو اور نماز پڑھو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حارث اور اوزاعی کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے زہری سے سفیان بن عیینہ اور ابراہیم بن سعد کی روایت دوسرے الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ محمد بن عمرو نے بھی اوزاعی کی متابعت کی ہے اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 626]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 626 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوالمغیرہ سے مراد عبدالقدوس بن الحجاج ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 41/ (24538) بأطول مما هنا، لكن وقع فيه: عروة عن عمرة! وانظر تتمة تخريجه فيه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" 41/ (24538) میں یہاں سے زیادہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے، مگر وہاں سند میں "عروہ عن عمرہ" واقع ہوا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی مکمل تخریج مسند احمد کے اسی مقام پر دیکھی جا سکتی ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (626) عن محمد بن يحيى، عن أبي المغيرة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (626) میں محمد بن یحییٰ عن ابی المغیرہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائيّ (209) و (210)، وابن حبان (1353) من طرق عن الأوزاعي، به وقُرن بالأوزاعي عند النسائيِّ النعمانُ بن المنذر وحفص بن غيلان، وعند ابن حبانَ الليثُ بن سعد، ¤ ¤ وحديث الليث عند أحمد 41 / (24523)، ومسلم (334) (63)، وأبي داود (290)، والنسائي (205) عن عروة وحده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (209، 210) اور ابن حبان (1353) نے امام اوزاعی کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام نسائی کے ہاں اوزاعی کے ساتھ نعمان بن منذر اور حفص بن غیلان کو، جبکہ ابن حبان کے ہاں لیث بن سعد کو مقرون کیا گیا ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث احمد، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں صرف عروہ کے واسطے سے ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25095)، والبخاري (327) من طريق ابن أبي ذئب، عن الزُّهْري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/ 25095) اور امام بخاری نے (327) میں ابن ابی ذئب عن امام زہری کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) بل أخرجه مسلم أيضًا من طريق عمرو بن الحارث بإسناده ومتنه كما سبق.
📌 اہم نکتہ: بلکہ اسے امام مسلم نے بھی عمرو بن الحارث کے طریق سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے جیسا کہ پہلے ذکر گزرا۔