المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
765. ذكر الفرق الضالة التى تخالف عن حديث أبى هريرة
ان گمراہ فرقوں کا ذکر جو ابو ہریرہ کی حدیث کی مخالفت کرتے ہیں
حدیث نمبر: 6299
حدَّثَناه (1) إبراهيم بن بِسْطامَ الزَّعفَراني، حَدَّثَنَا سعيد بن سفيان الجَحْدَري، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أشعثَ بن أبي الشَّعثاء قال: سمعت أَبي يحدِّث قال: قَدِمتُ المدينةَ فإذا أبو أيوب يحدِّث عن أبي هريرة، فقلت: تحدِّثُ عن أبي هريرة وأنت صاحبُ مَنزِلةِ (2) رسول الله؟! فقال: لأَنْ أحدِّثَ عن أبي هريرة أحبُّ إليَّ من أن أحدِّثَ عن النَّبِيّ ﷺ (3) . قال الإمام أبو بكر: فمِن حِرْصِ أبي هريرة على العِلم روايتُه عمَّن كان أقلَّ روايةً عن النَّبِيّ ﷺ منه، حرصًا على العلم، فقد روى عن سهل بن سعدٍ الساعديّ:
اشعث بن ابی شعثاء اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں مدینہ منورہ میں گیا، وہاں پر سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث پاک بیان کر رہے تھے، میں نے کہا: آپ ابوہریرہ کے حوالے سے حدیث بیان کر رہے ہیں؟ حالانکہ آپ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میزبان ہیں۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرنے سے بھی زیادہ پسند ہے۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی علم پر حریص ہونے کی یہ بین دلیل ہے کہ آپ نے ایسے صحابہ کرام سے بھی حدیث روایت کی ہے جن کی اپنی روایات کی تعداد بہت کم ہے۔ مثلاً سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6299]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6299 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل: حدثناه، هو أبو بكر بن خزيمة، فإنَّ إبراهيم بن بسطام من شيوخه، وقد روى عنه في "صحيحه"، وإبراهيم هذا ذكره ابن حبان في "ثقاته" 8/ 85.
🔍 ناموں کی تحقیق: "حدثناہ" کہنے والے امام ابو بکر بن خزیمہ ہیں، کیونکہ ابراہیم بن بسطام ان کے استاد ہیں جن سے انہوں نے اپنی "صحیح" میں روایت کی ہے۔
(2) المَنزِلة: موضع النزول يريد أنه صاحب موضع نزول رسول الله ﷺ وقت الهجرة إلى المدينة.
📝 نوٹ / توضیح: 'المنزلہ' سے مراد جائے قیام ہے؛ یعنی وہ ہجرتِ مدینہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے میزبان (حضرت ابو ایوب انصاری) تھے۔
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن بسطام وشيخه سعيد الجحدري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ ایک صحیح خبر ہے اور ابراہیم بن بسطام اور سعید الجحدری کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
وأخرجه الخطيب البغدادي في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 2/ 136 - 137 من طريق علي بن إسماعيل بن حماد البزاز، عن إبراهيم بن بسطام، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے خطیب بغدادی نے "موضح اوہام الجمع والتقریق" (2/ 136) میں اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو زرعة الدمشقي في "تاريخ دمشق" 1/ 545، وابن عساكر 67/ 358 من طرق عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو زرعہ الدمشقی اور ابن عساکر نے امام شعبہ کے متعدد طریقوں سے روایت کیا ہے۔