🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
796. ذكر إفتاء عبد الله بن عمرو بن العاص
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے فتاویٰ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6376
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مسَلَمة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن عَمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه قال: قلت: يا رسول الله، أتأذنُ لي فأكتُبَ ما أسمعُ منك؟ قال:"نعم" قلت: في الرِّضا والغضب؟ قال:" نَعَم، فإنه لا يَنبَغي أن أقولَ عند الرِّضا والغضبِ إِلَّا حقًّا" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6246 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے جو بات بھی سنوں اس کو لکھ لیا کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرما دی۔ میں نے کہا: عام حالت کی بھی اور غصے کی حالت کی بھی سب لکھ لیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سب لکھ لیا کرو، کیونکہ طبیعت نارمل ہو یا غصے کی کیفیت، ہر حالت میں میری زبان سے حق ہی نکلتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6376]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6376 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن مسلمة. وهو أبو جعفر الواسطي. لكنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اگرچہ اس کا یہ اسناد محمد بن مسلمہ (ابو جعفر الواسطی) کی وجہ سے "ضعیف" ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن محمد بن مسلمہ کی متابعت (تائیدی روایت) موجود ہے۔
فقد رواه أحمد في "مسنده" 11/ (1930) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقرن به محمدَ بنَ يزيد الكلاعي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی "مسند" 11/ (1930) میں یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اس میں (محمد بن مسلمہ کے ساتھ) محمد بن یزید الکلاعی کو بھی بطورِ تائید ذکر کیا گیا ہے۔
ومحمد بن إسحاق - وإن كان مدلسًا وقد عنعن - توبع أيضًا فيما سلف عند المصنف برقم (363).
🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق اگرچہ "مدلس" ہیں اور انہوں نے یہاں "عن" سے روایت کی ہے، مگر مصنف (امام احمد) کے ہاں سابقہ حدیث نمبر (363) میں ان کی متابعت بھی گزری ہے۔