المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
799. هند بن حارثة الأسلمي رضى الله عنه
سیدنا ہند بن حارثہ اسلمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6383
أخبرني أبو الحسين محمد بن بن الأَصَمِّ بقَنطَرة بَرَدانَ، حدثنا أحمد أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا يزيد بن أبي عُبيدٍ، حدثنا سَلَمةُ بن الأكوَع: أَنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ رجلًا من أسلم يوم عاشوراءَ، فقال:"من أكل وشَرِبَ فليُتِمَّ صومَه، ومن لم يكن أكلَ فليَصُمْ بقيّة يومِه" (2) . قد تقدَّمَت الرواية بأن أسماءَ هو الرسوُل بذلك، ورُوِي أنه هند:
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن اسلم قبیلے کے ایک آدمی کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ جس نے بھی کچھ کھا، پی لیا ہے وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ اور جس نے کچھ نہیں کھایا، پیا وہ دن کا باقی حصہ بھی روزے سے گزارے۔ پیچھے یہ روایت گزر چکی ہے جس میں یہ ثابت ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام لے جانے والے ” سیدہ اسماء بن حارثہ “ تھے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ ” سیدنا ہند بن حارثہ رضی اللہ عنہ “ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6383]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6383 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة وهو عبد الملك بن محمد الرقاشي، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کا یہ اسناد ابو قلابہ (عبد الملک بن محمد الرقاشی) کی وجہ سے "قوی" ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
فقد رواه عن أبي عاصم - وهو الضحاك بن مخلد - البخاريُّ في"صحيحه" (1924)، ويعقوبُ ابن إبراهيم الدورقي عند ابن حبان (3619).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عاصم (ضحاک بن مخلد) سے امام بخاری نے اپنی "صحیح" (1924) میں اور یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے امام ابن حبان (3619) کے ہاں روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16507) و (16512) و (16526)، والبخاري (2007) و (7265)، ومسلم (1135)، والنسائي (2642) من طرق عن يزيد بن أبي عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" 27/ (16507، 16512، 16526) میں، امام بخاری نے (2007، 7265)، امام مسلم نے (1135) اور امام نسائی نے (2642) میں یزید بن ابی عبید کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔