🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
809. ذكر عبد الله بن عباس بن عبد المطلب رضي الله عنهما
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6408
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن أبي بَكْر، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: تُوفِّي رسول الله ﷺ وأنا ابن خمسَ عشرةَ وقد خُتِنتُ (2) . قال القاضي ﵀: اختَلَف أبو إسحاق وأبو [بِشْر] (1) على سعيد بن جُبير في سنِّ ابن عبّاس، وروايةُ أبي إسحاق أقربُ إلى الصواب.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وهو أَوْلى من سائر الاختلاف في سنِّه.
سعید بن ابی عروبہ، ابن اسحاق کے واسطے سے، سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس وقت میری عمر 15 سال تھی، اور میرا ختنہ ہو چکا تھا۔ اسماعیل بن اسحاق قاضی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر کے بارے میں ابواسحاق اور ابوعلی سعید بن جبیر میں اختلاف ہے۔ اور ابواسحاق کی روایت درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6408]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6408 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأبو بشر هذا: هو جعفر بن أبي وحشية، وروايته عن سعيد بن جبير عند أحمد 4/ (2283) و 4 / (2601) و 5 / (3357)، والبخاري (5035)، وفيها أنَّ ابن عبّاس قال: وأنا ابن عشر سنين.
📌 اہم نکتہ: یہاں "ابو بشر" سے مراد جعفر بن ابی وحشیہ ہیں؛ ان کی سعید بن جبیر سے روایت مسند احمد 4/ (2283)، 4/ (2601)، 5/ (3357) اور صحیح بخاری (5035) میں موجود ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "اس وقت میری عمر دس سال تھی"۔
ورواية أبي بشر هذه تكلَّم فيها غير واحدٍ من أهل العلم وردُّوها كما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد" (2283).
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو بشر کی اس روایت پر متعدد اہلِ علم نے کلام کیا ہے اور اسے رد کر دیا ہے، جیسا کہ ہم نے "مسند احمد" (رقم 2283) کے حاشیے میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "صحیح" ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (373) عن محمد بن أبي بكر المقدَّمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے اپنی کتاب "الآحاد والمثانی" (373) میں محمد بن ابی بکر المقدمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
لكن وقع في مطبوعه: شعبة، مكان سعيد!
📝 نوٹ / توضیح: البتہ اس (ابن ابی عاصم) کے مطبوعہ نسخے میں ایک غلطی واقع ہوئی ہے کہ وہاں "سعید" کے نام کی جگہ "شعبہ" لکھا ہوا ہے۔
تنبيه: قد ذَهَل المصنف ﵀ عن إخراج رواية إدريس بن يزيد التي أشار إليها سابقًا، وهي مخرَّجة عند البخاري برقم (6300) تعليقًا عن عبد الله بن إدريس، عن أبيه إدريس الأودي، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: قُبض النبي ﷺ وأنا ختين. وقد وصله ابن أبي عاصم (374) والطبراني (10579) من طريقين عن عبد الله بن إدريس.
📌 اہم نکتہ: (تنبیہ) مصنف (امام احمد) رحمہ اللہ ادریس بن یزید کی اس روایت کو درج کرنا بھول گئے ہیں جس کی طرف انہوں نے پہلے اشارہ کیا تھا۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت امام بخاری کے ہاں نمبر (6300) کے تحت عبد اللہ بن ادریس عن ابیہ ادریس الاودی عن ابی اسحاق عن سعید بن جبیر عن ابن عباس کے طریق سے "تعلیقاً" موجود ہے جس کے الفاظ ہیں: "نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو میرا ختنہ ہو چکا تھا"۔ اسے ابن ابی عاصم (374) اور امام طبرانی (10579) نے عبد اللہ بن ادریس کے دو مختلف طریقوں سے "موصولاً" (مکمل سند کے ساتھ) روایت کیا ہے۔
وقد بيَّن إسرائيل في روايته عن جدِّه أبي إسحاق السبيعي عند البخاري (6299) أنهم كانوا لا يختنون الرجل حتى يُدرِك. أي: حتى يبلغ الحُلُم.
📝 نوٹ / توضیح: اسرائیل بن یونس نے اپنے دادا ابواسحاق السبیعی سے مروی روایت میں (جو صحیح بخاری رقم 6299 پر موجود ہے) یہ واضح کیا ہے کہ وہ لوگ کسی مرد کا ختنہ اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک وہ "یدرک" نہ ہو جائے، یعنی جب تک وہ بلوغت کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔
(1) سقط لفظ "بشر" من نسخنا الخطية، ولا بدَّ منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں سے لفظ "بشر" ساقط (حذف) ہو گیا ہے، حالانکہ سند کی درستی کے لیے اس کا ہونا لازمی ہے۔