المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
811. دعاء النبى لابن عباس
نبی کریم ﷺ کی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے دعا
حدیث نمبر: 6412
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا مُسدَّد ابن مُسرهَد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي يونس - وهو حاتم بن أبي صَغيرة - عن عمرو بن دينار، عن كُرَيب، عن ابن عبّاس قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يصلِّي من آخر الليل، فقمتُ وراءَه، فأَخذني فأقامني حِذاءَه، فلما أَقبَل على صلاته انخَنَستُ، فلما انصرف قال:"ما لك؟ أَجعَلُك حِذائي فتَخنُسَ؟" قلت: ما ينبغي لأحد أن يصلِّيَ حِذاءَك وأنت رسولُ الله، فأَعجَبه، فدعا الله أن يزيدَني فَهْمًا وعلمًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6279 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6279 - على شرط البخاري ومسلم
ابوکریب روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: میں رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر مجھے اپنے برابر کھڑا کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہو گئے تو میں پیچھے کی طرف کھسک گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پیچھے کھسکنے کی وجہ پوچھی، تو میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، کسی امتی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ بات بہت اچھی لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر ان کے لئے دعا فرمائی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ میری فہم و فراست میں برکت عطا فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6412]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6412 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. كريب: هو مولى ابن عبّاس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "کریب" سے مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) کریب بن ابی مسلم ہیں۔
وأخرجه أحمد 5/ (3060) عن عبد الله بن بكر السهمي عن حاتم بن أبي صغيرة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے مسند (5/ 3060) میں عبداللہ بن بکر السہمی کے طریق سے، انہوں نے حاتم بن ابی صغیرہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
انخنستُ: تأخرت عنه.
📝 نوٹ / توضیح: روایت میں مستعمل لفظ "انخنستُ" کا لغوی و فنی معنی "میں پیچھے ہٹ گیا" یا "میں نے تاخیر کی" کے ہیں۔
(2) أصل القصة عندهما بغير هذه السياقة كما قال الحاكم: البخاري (138) و (859) ومسلم (763) (186) من طريق سفيان بن عيينة، والبخاري (726) من طريق داود العطار، كلاهما عن عمرو بن دينار.
🧩 متابعات و شواہد: امام حاکم کے بقول اس قصے کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں اس سیاق کے علاوہ موجود ہے: صحیح بخاری (138، 859) اور صحیح مسلم (763، 186) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے، اور بخاری (726) میں داود العطار کے طریق سے مروی ہے؛ یہ دونوں عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں۔