🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
810. صَلَاةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ النَّبِيِّ فِي بَيْتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی کریم ﷺ کے گھر میں نماز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6412
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا مُسدَّد ابن مُسرهَد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي يونس - وهو حاتم بن أبي صَغيرة - عن عمرو بن دينار، عن كُرَيب، عن ابن عبّاس قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يصلِّي من آخر الليل، فقمتُ وراءَه، فأَخذني فأقامني حِذاءَه، فلما أَقبَل على صلاته انخَنَستُ، فلما انصرف قال:"ما لك؟ أَجعَلُك حِذائي فتَخنُسَ؟" قلت: ما ينبغي لأحد أن يصلِّيَ حِذاءَك وأنت رسولُ الله، فأَعجَبه، فدعا الله أن يزيدَني فَهْمًا وعلمًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6279 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رات کے آخری حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنے برابر کھڑا کر دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پیچھے ہٹ گیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟ میں تجھے اپنے برابر کھڑا کرتا ہوں اور تو پیچھے ہٹ جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز پڑھے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری یہ بات پسند آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ میری سمجھ اور علم میں اضافہ فرمائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6412]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،كريب: هو مولى ابن عبّاس.» [ترقيم الرساله 6412] [ترقيم الشركة 6338] [ترقيم العلميه 6279]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6412 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. كريب: هو مولى ابن عبّاس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "کریب" سے مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) کریب بن ابی مسلم ہیں۔
وأخرجه أحمد 5/ (3060) عن عبد الله بن بكر السهمي عن حاتم بن أبي صغيرة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے مسند (5/ 3060) میں عبداللہ بن بکر السہمی کے طریق سے، انہوں نے حاتم بن ابی صغیرہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
انخنستُ: تأخرت عنه.
📝 نوٹ / توضیح: روایت میں مستعمل لفظ "انخنستُ" کا لغوی و فنی معنی "میں پیچھے ہٹ گیا" یا "میں نے تاخیر کی" کے ہیں۔
(2) أصل القصة عندهما بغير هذه السياقة كما قال الحاكم: البخاري (138) و (859) ومسلم (763) (186) من طريق سفيان بن عيينة، والبخاري (726) من طريق داود العطار، كلاهما عن عمرو بن دينار.
🧩 متابعات و شواہد: امام حاکم کے بقول اس قصے کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں اس سیاق کے علاوہ موجود ہے: صحیح بخاری (138، 859) اور صحیح مسلم (763، 186) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے، اور بخاری (726) میں داود العطار کے طریق سے مروی ہے؛ یہ دونوں عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6412 in Urdu