🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
813. كان ابن عباس يسمى البحر لكثرة علمه .
علم کی کثرت کی وجہ سے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو البحر کہا جاتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6417
وحدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقفي، حدثنا عمر بن محمد بن الحسن، حدثنا أبَي، حدثنا شَرِيك، عن مُنذِر الثَّوري، عن محمد ابن الحَنفيَّة قال: كان ابن عبّاس حَبْرَ هذه الأُمَّة (3) .
محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس امت کے بڑے عالم ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6417]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6417 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن إن شاء الله. شريك: هو ابن عبد الله النخعي. وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 1/ 316 عن أبي حامد بن جبلة، عن أبي العبّاس السراج - وهو محمد بن إسحاق الثقفي، بهذا الإسناد - إلَّا أنه أدخل بين شريك ومنذر الثوري سعيدَ بن مسروق الثوري والد سفيان.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود "شریک" سے مراد شریک بن عبداللہ النخعی ہیں۔ ابونعیم (الحلیہ 1/ 316) نے اسے ابوحامد بن جبلہ کے واسطے سے ابوالعباس السراج (محمد بن اسحاق الثقفی) سے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے شریک اور منذر الثوری کے درمیان "سعید بن مسروق الثوری" (جو سفیان الثوری کے والد ہیں) کا اضافہ کیا ہے۔
(1) القائل هو محمد بن إسحاق الثقفي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں قول کے قائل محمد بن اسحاق الثقفی (ابو العباس السراج) ہیں۔
(2) إسناده قوي من أجل محمد بن الصباح. سفيان هو ابن عيينة، وابن أبي نجيح: هو عبد الله بن يسار.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "قوی" ہے جس کی وجہ محمد بن الصباح کی موجودگی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں "سفیان" سے مراد سفیان بن عیینہ اور "ابن ابی نجیح" سے مراد عبداللہ بن یسار مکی ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (1898)، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 540 - 541، والطبراني في "تهذيب الآثار" 1/ 179 من طريق سفيان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد (1898)، یعقوب بن سفیان الفسوی (1/ 540-541) اور طبرانی نے "تہذیب الآثار" (1/ 179) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) محمد بن علي: هو ابن أبي طالب، المعروف بابن الحنفية.
📌 اہم نکتہ: سند میں مذکور "محمد بن علی" سے مراد محمد بن علی بن ابی طالب ہیں، جو "ابن الحنفیہ" کے نام سے مشہور ہیں۔
وهذا الأثر أخرجه عبد الله بن أحمد في "الفضائل" (1897)، والخطيب في "تاريخ بغداد" 1/ 525 من طريقين عن سفيان بن عيينة، عن سالم بن أبي حفصة، عن منذر الثوري، عن محمد ابن الحنفية.
🧩 متابعات و شواہد: یہ اثر عبداللہ بن احمد نے "فضائل" (1897) اور خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (1/ 525) میں سفیان بن عیینہ کے دو طرق سے، انہوں نے سالم بن ابی حفصہ سے، انہوں نے منذر الثوری سے اور انہوں نے محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مسندًا برقم (6443) من طريق أشعث عن ابن الحنفية.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے چل کر رقم 6443 پر اشعث کے طریق سے ابن الحنفیہ کے واسطے سے مسنداً بیان ہوگی۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6417M1
قال (1) : وحدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد قال: ما رأيتُ مثل ابن عبّاس قطُّ، ولقد مات يومَ مات وهو حبرُ هذه الأمة (2) .
مجاہد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسی شخصیت کبھی نہیں دیکھی۔ جس دن ان کا انتقال ہوا، وہ اس امت کے عالم تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6417M1]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6417M2
وقال محمد بن عليٍّ يومَ مات ابنُ عبّاس: اليوم مات ربّانيُّ هذه الأمّة (3) .
جس دن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا، اس دن محمد بن علی (یعنی محمد بن حنفیہ) نے کہا: آج اس امت کا ایک عالم ربانی وصال کر گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6417M2]