المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
877. من قرأ سورة الإخلاص غفر له ذنبه
جو سورۂ اخلاص پڑھے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 6569
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدِّمشقي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن المُقاتِلي (2) ، حدثتني أسماء بنت واثلة بن الأسقَع قالت: كان أبي إذا صلَّى الصبحَ جلس مستقبلَ القِبْلة حتى تَطلُعَ الشمسُ، فربما كلَّمتُه في الحاجة فلا يكلِّمُني، فقلت: ما هذا؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن صلَّى الصبحَ، ثم قرأ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ مئةَ مرّةٍ قبل أن يتكلَّمَ، فكلَّما قرأ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ غُفِرَ له ذَنْبُ سنةٍ" (3) .
سیدہ اسماء بنت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے والد محترم نماز فجر سے فارغ ہو کر طلوع آفتاب تک قبلہ رو ہو کر بیٹھ جاتے، کئی دفعہ میں کسی کام کے لئے ان سے بات کرتی تو وہ میرے ساتھ کلام نہ کرتے، میں نے ایک دفعہ پوچھا: یوں خاموش رہنے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو شخص نماز فجر پڑھ کر 100 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے اور اس دوران کسی سے بات چیت نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6569]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6569 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا وقع في نسخنا الخطية، ويغلب على ظننا أنَّ هذه النسبة محرَّفة عن: المقدسي، فإنَّ سليمان بن عبد الرحمن يروي عن محمد بن عبد الرحمن القشيري نزيل بيت المقدس.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح درج ہے، مگر ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ یہ نسبت "المقدسی" سے تحریف شدہ ہے، کیونکہ سلیمان بن عبد الرحمن، محمد بن عبد الرحمن القشیری سے روایت کرتے ہیں جو بیت المقدس کے رہائشی تھے۔
(3) إسناده تالف من أجل محمد بن عبد الرحمن، فقد اتهمهوه بالكذب.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن عبد الرحمن کی وجہ سے یہ سند تالف (ناکارہ) ہے، کیونکہ محدثین نے اس پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 22 / (232)، وابن السني في "عمل اليوم والليلة" (143)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 30 - 31 من طرق عن أبي أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (22/ 232)، ابن السنی نے "عمل الیوم واللیلہ" (143) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (69/ 30-31) میں ابوایوب سلیمان بن عبد الرحمن الدمشقی کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔