🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
886. إِيذَاءُ الْحَجَّاجِ أَنَسًا وَتَوْعِيدُ عَبْدِ الْمَلِكِ لِلْحَجَّاجِ
حجاج کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایذا دینا اور عبد الملک کا حجاج کو دھمکانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6597
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا زياد ابن أيوب وأبو كُريب قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش قال: كَتَبَ أَنسُ ابنُ مالك إلى عبد الملك بن مَرْوان: يا أميرَ المؤمنين، إني قد خَدَمتُ رسول الله ﷺ عشرَ سنين، وإنَّ الحجّاج يَعُدُّني من حَوَكِةِ البصرة، فقال عبد الملك: اكتَبْ إلى الحجَّاج يا غلامُ، فكتب إليه: وَيلَكَ، قد خَشِيتُ أن لا يَصلُحَ على يدك أحدٌ، فإذا جاءَك كتابي هذا فقُمْ حتى تَعتِذرَ إلى أنس بن مالك (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6454 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
اعمش سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا: ”اے امیر المؤمنین! میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے اور حجاج مجھے بصرہ کے عام جولاہوں کی طرح سمجھتا ہے،“ تو عبدالملک نے اپنے منشی سے کہا: حجاج کو لکھو، اور اسے یہ پیغام بھیجا: ”تیری ہلاکت ہو، مجھے ڈر ہے کہ تیرے ہاتھ پر کوئی بھی بھلائی باقی نہیں رہے گی، جب میرا یہ خط ملے تو فوراً کھڑے ہو جاؤ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے معذرت کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6597]
تخریج الحدیث: «إسناده إلى الأعمش حسن، من أجل أبي بكر بن عيّاش والأعمش لم يثبت له سماع من أنس ابن مالك.» [ترقيم الرساله 6597] [ترقيم الشركة 6518] [ترقيم العلميه 6454]

الحكم على الحديث:
إسناده إلى الأعمش حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6597 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده إلى الأعمش حسن من أجل أبي بكر بن عيّاش والأعمش لم يثبت له سماع من أنس ابن مالك.
⚖️ درجۂ حدیث: الاعمش تک یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ ابوبکر بن عیاش ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: الاعمش کا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سننا (سماع) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 373 من طريق أبي صاعد، عن زياد بن أيوب وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاريخ دمشق" (9/ 373) میں ابو صاعد کے واسطے سے، انہوں نے تنہا زیاد بن ایوب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والحوكة: جمع حائك، وهو الذي ينسج الثياب، والحَوَكة جمع على غير القياس، وجمع حائك: حاكَةٌ.
📝 نوٹ / توضیح: "الحوكة" لفظ "حائک" کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے کپڑا بننے والا (جولاہا)۔ "الحوكة" خلافِ قیاس جمع ہے، جبکہ "حائک" کی قیاسی جمع "حاکَة" آتی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6597 in Urdu