🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
888. ذكر عقيل بن أبى طالب رضى الله عنه
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور یہ کہ شرف و نسب کے اعتبار سے ان کا ذکر ان کے بھائیوں کے قریب ہونا چاہیے تھا مگر روایت کی کمی کی وجہ سے مؤخر ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6603
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن عُيَينة، أخبرني عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عبّاس قال: قام عمرُ على المِنبَر فقال: أُذكِّرُ امْرَأً سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَضَى في الجَنِينَ، فقام حَمَلُ بن مالك بن النابغة الهُذَلي فقال: يا أميرَ المؤمنين، كنت بين جارتَينِ (1) -يعني ضَرَّتَين- فجَرَحَت- أو ضربَت - إحداهما الأخرى بعمودِ ظُلَّتِها، فقتلَتْها وقتلتْ ما في بطنها، فقَضَى النبيُّ ﷺ في الجَنِين بغُرَّةٍ: عبدٍ أو أمةٍ، فقال عمر: الله أكبر، لو لم نَسمَعْ بهذا قَضَينا (2) بغيرِه (3) . ذكرُ عَقِيل بن أبي طالب ﵁- وكان من حقِّ شَرَفه ونَسَبِه أن يُقرَّبَ ذِكرُه من إخوته وعَشيرته، وإنما تأخَّر لقِلَّة روايتِه وذكره في مسانيد الأئمَّة ﵃.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا کسی شخص کو یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا تھا؟ سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے امیرالمومنین! دو لونڈیاں حاملہ تھیں، ان میں سے ایک نے اپنی چھتری کی ڈنڈی دوسری کو ماری جس کی وجہ سے وہ عورت بھی مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ حمل کے بدلے میں ایک غلام یا ایک لونڈی دی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ نہ سنتے تو اس کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6603]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6603 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في (ص) و (م)، وفي (ب): جاريتين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ "ص" اور "م" میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ "ب" میں "جاریتین" (دو لونڈیاں) کے الفاظ ہیں۔
(2) في (ب): ما قضينا. وهو خطأ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ "ب" میں "ما قضینا" لکھا ہے جو کہ غلط ہے۔
(3) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو الدَّبَري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد "الدَّبَری" ہیں۔
وهو في "مصنف عبد الرزاق" (18343)، ومن طريقه أخرجه الطبراني في "الكبير" (3482)، والدارقطني في "السنن" (3209)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2303).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مصنف عبد الرزاق" (18343) میں موجود ہے، اور انہی کے واسطے سے طبرانی (3482)، دارقطنی (3209) اور ابونعیم نے "معرفة الصحابة" (2303) میں اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الشافعي في "الأم" 7/ 264، ومن طريقه البيهقي في "السنن" 8/ 114، و "معرفة السنن والآثار" (16333)، والخطيب البغدادي في "الفقيه والمتفقه" (351) عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وأخرجه بنحوه أحمد 5/ (3439) و 27 / (16729)، وأبو داود (4572)، وابن ماجه (2641)، والنسائي (6915)، وابن حبان (6021) من طريق أبن جريج، عن عمرو بن دينار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام شافعی نے "الام" (7/ 264) میں روایت کیا، اور ان کے واسطے سے بیہقی (8/ 114)، "معرفة السنن والآثار" (16333) اور خطیب بغدادی نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے نقل کیا ہے۔ نیز امام احمد (5/ 3439)، ابوداؤد (4572)، ابن ماجہ (2641)، نسائی (6915) اور ابن حبان نے ابن جریج عن عمرو بن دینار کے طریق سے اسی کے ہم معنی روایت نکالی ہے۔