🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
897. دعوة بجير إلى أخيه كعب للإسلام
سیدنا بجیر رضی اللہ عنہ کی اپنے بھائی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا اور قصیدہ بانت سعاد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6620
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمَّد بن عُبيد بن عبد الملك الأَسَديُّ بهَمَذانَ، حدثنا إبراهيم بن الحُسين بن دِيزِيلَ، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني الحَجَّاج بن ذي الرُّقَيبة بن عبد الرحمن ابن كعب بن زُهَير بن أبي سُلْمى المُزَني، عن أبيه، عن جدِّه قال: خرج كعبٌ وبُجَيرٌ ابنا زهير حتى أتَيا أَبرَقَ العَزَّافِ، فقال بُجَير لكعب: اثبُتْ في عَجَل (2) هذا المكان حتى آتيَ هذا الرجلَ - يعني رسولَ الله ﷺ فَأَسْمَعَ ما يقول، فَثَبَتَ كعبٌ وخرج بُجَير فجاء رسولَ الله ﷺ فعرض عليه الإسلامَ، فأسلمَ، فبلغ ذلك كعبًا، فقال: ألَا أبلِغا عني بُجيرًا رسالةً … على أيِّ شيءٍ وَيْبَ غَيرِك دَلَّكَا على خُلُقٍ لم تُلفِ أمًّا ولا أبًا … عليهِ ولم تُدرِكُ عليه أخًا لَكَا سَقَاكَ أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا فلما بلغ الأبياتُ رسولَ الله ﷺ أهدَرَ دمَه، فقال:"مَن لقيَ كعبًا فليَقتُلْه". فكتَبَ بذلك يُجَيرٌ إلى أخيه يَذكُر له أنَّ رسول الله ﷺ قد أهدَرَ دَمَه، ويقول له: النَّجَاءَ، وما أُراك تَنفلِتُ، ثم كتب إليه بعد ذلك: اعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ لا يأتيه أحدٌ يَشْهَدُ أن لا إله إلَّا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلَّا قَبلَ ذلك وأسقَطَ ما كان قبلَ ذلك، فإذا جاءك كتابي هذا فأسلمْ وأَقبِلْ. فأسلَمَ كعبٌ، وقال القصيدةَ التي يَمدَحُ فيها رسولَ الله ﷺ، ثم أقَبَل حتى أناخ راحلتَه بباب مسجدِ رسول الله ﷺ، ثم دخل المسجدَ ورسولُ الله ﷺ مع أصحابه مكانَ المائدةِ من القوم، مُتحلِّقون معه حَلْقةً دونَ حَلْقَةٍ، يلتفتُ إلى هؤلاء مرةً فيحدِّثُهم، وإلى هؤلاء مرةً فيحدِّثُهم، قال كعب: فأنَحْتُ راحِلَتي بباب المسجد، فعَرَفتُ رسولَ الله ﷺ بالصِّفَة، فتخطَّيتُ حتى جلستُ إليه فأسلمتُ، فقلت: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأنك رسولُ الله، الأمانَ يا رسول الله، قال:"ومَن أنتَ؟" قلت: أنا كعبُ بن زُهَير، قال:"الذي يقولُ"، ثم الْتفَتَ إلى أبي بكر فقال:"كيف قالَ يا أبا بكرٍ؟" فأنشَدَه أبو بكر: سَقَاكَ أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا قال: يا رسول الله، ما قلتُ، هكذا، قال: و"كيف قلت؟" قال: إنما قلتُ: سَقَاَك أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمورُ منها وعَلَّكَا فقال رسول الله ﷺ:"مأمورٌ واللهِ". ثم أنشَدَه القصيدة كلَّها حتى أَتى على آخرِها. وأمْلاها عليَّ الحجّاجُ بن ذي الرُّقَيبة حتى أتى على آخرها؛ وهي هذه القصيدةُ: بانَتْ سُعادُ فقلبي اليومَ مَتْبولُ … متيَّمٌ عندَها لم يُفدَ مَغلولُ وما سعادُ غَدَاةَ البَيْنِ إِذْ ظَعَنوا … إِلَّا أَغَنُّ غَضِيضُ الطَّرْفِ مكحولُ تَجْلُو عَوارِضَ ذِي ظُلْمٍ إِذا ابْتَسمَتْ … كأَنها مُنهَلٌ بالكأسِ معلولُ سَحَّ السُّقاةُ عليها ماءَ مَحنِيةٍ … من ماءِ أبطَحَ أَمْسَى وهُوَ مشمولُ تَنفي الرياحُ القَذَى عنه وأفرَطَهُ … من صَوْبِ غادَيةٍ بِيضٌ يَعاليلُ سَقْيًا لها خُلَّةً لو أنها صَدَقَت … مَوعودَها ولَوِ انَّ النُّصح مقبولُ لكنَّها خُلّةٌ قد سِيطَ من دمِها … فَجْعٌ ووَلْعٌ وإخلافٌ وتبديلُ فما تدومُ على حالٍ تكونُ بها … كما تلوَّنُ في أثوابها الغُولُ فلا تَمسَّكُ بالوَصل الذي زَعَمَت … إلّا كما يُمِسكُ الماءَ الغَرابيلُ كانت مَواعيدُ عُرقُوبٍ لها مَثَلًا … وما مواعيدُها إلَّا الأباطيلُ فلا يَغُرَّنْكَ ما مَنَّت وما وَعَدَت … إنَّ الأمانيَّ والأحلامَ تضليلُ أمسَتْ سعادُ بأرضٍ ما يُبلِّغُها … إلّا العِتاقُ النَّجيباتُ المَراسيلُ ولنْ يُبلِّغَها إلَّا عُذافِرةٌ … فيها على الأَيْنِ إرقالٌ وتَبْغيلُ مِن كل نصَّاحَةِ الذِّفْرَى إِذا عَرِقَت … عُرضَتها طامسُ الأعلامِ مجهولُ يَمشي القُرَادُ عليها ثمَّ يُزلِقُهُ … عنها اللَّبَانُ وأقرابٌ زَهاليلُ عَيْرانةٌ قُذِفَت بِالنَّحْضِ عن عُرضٍ … ومِرفَقٌ عن ضُلوعِ الزَّوْرِ (1) مفتولُ كأنما فاتَ عينَيها ومَذبَحَها … من خَطْمِها ومن اللَّحْيينِ بِرطِيلُ تُمِرُّ مِثلَ عَسِيبِ النَّخل ذا خُصَلٍ … في غارِزٍ لم تَخَوَّنهُ الأَحاليلُ قنْواءُ في حُرَّتَيها للبَصيرِ بها … عِتقٌ مُبِينٌ وفي الخدَّينِ تسهيلُ تَخْذي على يَسَراتٍ وَهْيَ لاهِيَةٌ … ذَوابِلُ وَقْعُهُنَّ الأرضَ تحليلُ حَرْفٌ أبُوها أخُوها من مُهجَّنةٍ … وعمُّها خالُها قَوْداءُ شِمْليلُ سُمْرُ العُجَايَاتِ يَترُكنَ الحَصَا زِيَمًا … ما إنْ يَقِيهِنَّ حَدَّ الأُكمِ تنعيلُ يومًا تَظَلُّ حِدَابُ الأَرضِ يَرفَعُها … من اللوامِعِ تخليطٌ وتَزْيلُ كأَنَّ (1) أَوْبَ يَدَيها بعدما نَجِدَت … وقد تَلَفَّعَ بالقُورِ العَساقيلُ أَوْبُ يَدَيْ ثاكِلٍ شَمْطَاءَ مُعْوِلةٍ … قامت تُجاوِبُها شُمْطٌ مَثَاكِيلُ نوَّاحةٌ رِخْوةُ الصَّبْعَينِ ليس لها … لمَّا نَعَى بِكْرَها النَّاعُونَ معقولُ تَسعَى الغُوَاةُ بِدَفَّيها وقِيلُهُمُ … بأنَّكَ ابنَ أبي سُلْمى لمقتولُ خَلُّوا طَريقَ يَدَيها لا أبالكمُ … فكلُّ ما قَدَّرَ الرحمنُ مفعولُ كلُّ ابنِ أُنثى وإن طالتْ سَلَامتُهُ … يومًا على آلةٍ حَدْباءَ محمولُ أُنبِئتُ أنَّ رسولَ الله أوعَدَني … والعفوُ عند رسولِ الله مأمولُ فقد أَتيتُ رسولَ الله معتذرًا … والعُذُر عند رسولِ الله مقبولُ مَهلًا رسولَ الذي أعطاك نافلةَ الـ … ـقُرآنِ فيه مواعيظٌ وتفصيلُ لا تأخُذَنِّي بأقوالِ الوُشَاةِ ولمْ … أُجرِم ولو كَثرَت عنّي الأقاويلُ لقد أقومُ مَقامًا لو يقومُ لهُ … أَرى وأَسمعُ مالو يسمعُ الفِيلُ لظَّلَّ يُرعِدُ إلّا أن يكونَ لهُ … عند الرسولِ بإذنِ الله تنويلُ حتى وَضَعتُ يميني لا أُنزِعُهُ … في كفِّ ذي نَقِماتٍ قولُه القِيلُ فكان أخوَفَ عندي إذْ أُكلِّمُهُ … إذقيلَ إنّك منسوبٌ ومسؤولُ مِن خادِرٍ شَبِكِ الأنيابِ طاعَ لَهُ … ببَطْنِ عَثَّرَ غِيلٌ دونَهُ غِيلُ يَعْدُو فيَلحَمُ ضِرغامَينِ عندَهما (2) … لحمٌ من القومِ منثورٌ خَرَاديلُ منه تَظَلُّ حَميرُ الوَحْشِ ضامِرةً (3) … ولا تُمشِّي بِوادِيهِ الأَراجيلُ ولا يَزالُ بِواديهِ أخو ثِقَةٍ … مُطرَّحُ البَزِّ والدِّرْسانِ مأكولُ إنَّ الرسولَ لنورٌ يُستضاءُ بهِ … وصارمٌ من سيوفِ الله مسلولُ في فِتْيةٍ من قريشٍ قال قائلُهمْ … ببَطنِ مكةَ لمَّا أسلَموا زُولُوا زالُوا فما زالَ أَنكاسٌ ولا كُشُفٌ … عند اللِّقاءِ ولا مِيلٌ مَعَازيلُ شُمُّ العَرَانِينِ أبطالٌ لِباسهمُ … من نَسْجِ داودَ في الهَيْجا سَرابيلُ بِيضٌ سَوابغُ قد شُكَّتْ لها حَلَقٌ … كأنها حَلَقُ القَفْعاء مجدولُ يَمشُون مَشْيَ الجِمالِ البُزْلِ يَعصِمُهُمْ … ضَرْبٌ إِذا عَرَّدَ السُّودُ التَّنابيلُ لا يَفرَحُون إذا نالَت (1) رِماحُهمُ … قومًا وليسوا مَجازيعًا إذا نِيلُوا ما يَقَعُ الطَّعَنُ إلَّا في نُحورِهُم … وما لهمْ عن حِيَاضِ الموتِ تَهليلُ (2)
حجاج بن ذی رقیبہ بن عبدالرحمن بن کعب بن زہیر بن ابی سلمی المزنی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ زہیر کے دونوں بیٹے کعب اور بجیر نکلے اور ابرق العزاف کے پاس پہنچے، بجیر نے کعب سے کہا: تم اس جگہ ٹھہر کر بکریوں کی نگہبانی کرو، میں اس شخص یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں اور اس کی تعلیمات سن کر آتا ہوں چنانچہ کعب وہیں ٹھہر گئے اور بجیر آگے چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کی دعوت دی، انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس بات کی خبر کعب تک پہنچی تو اس نے کہا: * اے قاصد بجیر کو میرا یہ پیغام دے کہ کس وجہ سے تو نے غیر کا دین اختیار کیا، وہ دین جس پر نہ تو نے اپنے ماں باپ کو دیکھا نہ بہن بھائیوں کو، ابوبکر نے تجھے بہت بری تعلیم دی ہے، جس سے تو ہلاکت میں پڑ گیا ہے۔ جب ان اشعار کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون مباح کر دیا اور فرمایا: جو شخص بھی کعب کو پائے وہ اس کو قتل کر دے، بجیر نے اپنے بھائی کعب کی جانب ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا خون جائز کر دیا، اور اس کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اپنا بچاؤ کر لو، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بچ نہیں پاؤ گے۔ امابعد جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس بات کی گواہی دے دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ اس کی گواہی کو قبول کر لیتے ہیں، اس لئے جیسے ہی میرا یہ خط تم تک پہنچے، تم فوراً اسلام قبول کر لو، یہاں چلے آؤ، چنانچہ سیدنا کعب نے بھی اسلام قبول کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ایک قصیدہ بھی لکھا، پھر وہ وہاں سے چلے اور مدینہ منورہ میں آ گئے، مسجد نبوی کے باہر اپنا اونٹ باندھا اور مسجد کے اندر آ گئے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان دسترخوان پر بیٹھے تھے، تمام صحابہ کرام حلقہ در حلقہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک حلقہ کی جانب متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرماتے اور کبھی دوسرے حلقہ کی جانب متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز سے میں سمجھ گیا کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں کھسکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا، میں نے اپنا اسلام ظاہر کیا اور عرض کی: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے امان عطا فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کی: میں کعب بن زہیر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہی ہو جس نے فلاں فلاں اشعار کہے ہیں؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے ابوبکر اس نے کون سا شعر کہا ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھ کر سنایا: سَقَاكَ أَبُو بَكْرٍ بِكَأْسٍ رَوِيَّةٍ ... وَانْهَلَكَ الْمَأْمُورُ مِنْهَا وَعَلَّكَا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ الفاظ تو نہیں کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کون سے اشعار کہے ہیں تو نے؟ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور! میں نے تو یہ اشعار کہے ہیں۔ سَقَاكَ أَبُو بَكْرٍ بِكَأْسٍ رَوِيَّةً ... وَأَنْهَلَكَ الْمَأْمُونُ مِنْهَا وَعَلَّكَا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تو امان میں ہے۔ اس کے بعد کعب رضی اللہ عنہ نے پورا قصیدہ سنایا، اس کے آخر میں یہ اشعار تھے، یہ قصیدہ حجاج بن ذی رقیبہ کو املاء کروایا، وہ قصیدہ یہ ہے: * سعاد بچھڑ گئی اور میرا دل آج خستہ حال ہے جو اس کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے پھرتا ہے اور ایک ایسے قیدی کی مانند ہے جس کا فدیہ نہ دیا گیا ہو۔ * جدائی کی صبح جب ان لوگوں نے کوچ کیا اور وقت سعاد ایک ہرنی کی مانند تھی جس نے نگاہیں جھکائی ہوئی تھیں اور اس کی آنکھیں سرمگیں تھیں۔ * جب وہ مسکراتی تھی تو چمکدار دانتوں والے رخسار یوں چمکا دیتی تھی جیسے وہ پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ پلایا گیا مشروب ہو۔ * ایک ایسا مشروب جس میں وادی کے کنارے سے آنے والے پانی کو ملا دیا گیا ہو، وہ پانی جو صاف ہو، کھلی وادی کا ہو، صبح کے وقت لیا گیا ہو اور اس پر شمال کی طرف سے آنے والی ہوا گزر چکی ہو۔ * ہواؤں نے خس و خاشاک کی اس پانی سے دور کر دیا ہو اور سفید بادل کی بارش نے اس میں سفید بلبلے بنا دیے ہوں۔ * وہ محبوبہ کتنی اچھی ہوتی اگر وہ اپنے وعدے کو پورا کر دیتی یا پھر عذر ہی قبول کر لیتی لیکن وہ تو ایسی محبوبہ ہے کہ اس کے خون میں فرقت کا درد، جھوٹ، وعدہ خلافی اور تبدیلی رچے بسے ہوئے ہیں۔ * اسی لیے وہ کسی ایک حالت پر باقی نہیں رہتی ہے اور یوں بدلتی ہے جیسے غول رنگ بدلتا ہے۔ * اس نے جو عہد کیا ہوتا ہے اسے مضبوطی سے نہیں تھامتی ہے بلکہ یوں پکڑتی ہے جیسے چھلنی پانی کو پکڑتی ہے۔ * عرقوب (عہد شکنی میں ضرب المثل شخص) کے وعدوں کی مانند اس محبوبہ کے وعدے ہوتے ہیں اور اس کے وعدے صرف جھوٹے ہوتے ہیں۔ * تو وہ جو مہربانی کرے اور جو وعدہ کرے وہ تمہیں کسی غلط فہمی کا شکار نہ کرے کیونکہ یہ آرزوئیں اور یہ خواب صرف گمراہ کرتے ہیں۔ * مجھے یہ امید ہے اور مجھے یہ آس ہے کہ اس کی محبت قریب ہو جائے گی اور مجھے تیری عنایات کی اپنے لیے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ * سعاد شام کے وقت ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں صرف عمدہ نسل کا تیز رفتار اونٹ پہنچا سکتا ہے۔ * اس تک صرف کوئی مضبوط اونٹنی ہی پہنچا سکتی ہے جو تھکاوٹ کے باوجود رفتار کم نہیں ہونے دیتی۔ * ایسی اونٹنی کہ جب اسے پسینہ آئے تو وہ کان کے پیچھے والے حصے کو پسینے میں شرابور کر دے لیکن اس کا قصد انجانے راستوں اور مٹے ہوئے نشانات کی طرف ہو۔ * (اس اونٹنی کا جسم اتنا چکنا ہو) کہ اگر کوئی جوں اس پر چلے تو وہ جسم اسے پھسلا کر گرا دے اس اونٹنی کا سینہ اور پہلو ہموار اور چکنے ہوں۔ * اس کی مثال ایک ایسی نیل گائے کی مانند ہو جس سے گوشت کو دور کر دیا گیا ہو اور اس کی کہنیاں اس کی پسلیوں سے دور ہٹی ہوئی ہوں۔ * گویا کہ اس اونٹنی کی لکیر والی جگہ (یعنی ناک اور نیچے والے جبڑے) سے اس کی دو آنکھوں اور اس کے ذبح کی جگہ (یعنی حلق) ایک مستطیل لمبے پتھر کی مانند ہوں۔ * وہ اونٹنی کھجور کے تنے جیسی دم، جو بالوں والی ہے، اسے اپنے تھوڑے دودھ والے پستانوں پر پھیرتی ہے۔ * اس کی ناک خمدار ہے اور جو شخص (اونٹنی کی خوبی) سے آگاہ ہو اس کے لیے اس اونٹنی کے دونوں کانوں میں اصیل پن واضح ہو گا اور دونوں رخساروں میں لطافت واضح ہو گی۔ * وہ تیز تیز چلتی ہے، ہلکے پاؤں پر اور وہ جا کر مل جاتی ہے (اپنے سے آگے نکلی ہوئی اونٹنیوں سے) اور اس کی خشک ٹانگیں چھوٹے نیزوں کی مانند ہیں جو قسم پوری کرنے کے لیے زمین کو چھوتی ہیں۔ * گویا وہ موڑتی ہے اپنے آگے والے دو پاؤں، ان کے پسینہ ہو جانے کے بعد اور اس وقت چھوٹی پہاڑیاں اور سطح مرتفع سراب کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہیں۔ * (وہ سفر کرتی رہتی ہے) ایک ایسے دن میں جو گرم ہو اور اس دن میں گرگٹ بھی جلتا ہوا محسوس ہوتا ہو اور اس اونٹنی کے جسم کے دھوپ کے سامنے آنے والے حصے گویا ریت میں بھنی ہوئی روٹی کے مانند ہوتے ہیں۔ * وہ بہت زیادہ نوحہ کرنے والی ہے اور ڈھلیے بازوؤں والی ہے جب اس کے اکلوتے بیٹے کی موت کی خبر کسی نے اسے دی تو اس کے حوش و حواس رخصت ہو گئے۔ * چغل خور اس کے دونوں طرف گھوتے پھرتے ہیں اور اس سے چغلیاں کرتے ہیں، اور وہ یہ کہتے ہیں: اے ابوسلمہ کے بیٹے! تو مارا جائے گا۔ * اس کے آگے کا راستہ چھوڑ دو تمہارا باپ نہ رہے، رحمن (یعنی اللہ تعالیٰ) نے جو مقدر میں لکھ دیا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔ * ہر مؤنث کا بیٹا خواہ وہ کتنے ہی طویل عرصے تک سلامت رہے، اسے ایک نہ ایک دن میت کے تختے پر ضرور اٹھایا جاتا ہے۔ * مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول نے میرے بارے میں وعید سنائی ہے حالانکہ اللہ کے رسول سے معافی کی توقع ہی کی جا سکتی ہے۔ * اسی لیے میں عذر پیش کرتے ہوئے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور اللہ کے رسول کی بارگاہ میں عذر قبول کیا جاتا ہے۔ * اے رسول! آپ میرے بارے میں نرمی سے کام لیجیے وہ رسول جسے اس ذات نے بھیجا ہے، جس نے آپ کو قرآن عطا کیا ہے۔ جس میں وعظ و نصیحت اور تفصیلات ہیں۔ * آپ میرے بارے میں چغل خوروں کے اقوال قبول نہ کریں، اگرچہ میرے بارے میں بہت سی باتیں کہی گئی ہیں لیکن میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ * میں ایک ایسی جگہ کھڑا ہوں اور وہ کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں کہ اگر ہاتھی اسے سن لیتا۔ * تو وہ بھی کانپنے لگتا البتہ اگر اسے رسول کی طرف سے اللہ کے حکم کے تحت معافی مل جاتی تو (اس کا خوف ختم ہو جاتا) * یہاں تک کہ میں نے اپنا دایاں ہاتھ رکھ دیا ہے (یعنی اسلام قبول کر لیا ہے) اس ذات کی ہتھیلی پر جو (بے دینوں سے) بدلہ لینے والی ہے اور جن کی بات ہی سچی بات ہے۔ * آپ میرے نزدیک اس وقت زیادہ با رعب تھے جب میں نے آپ کے ساتھ بات چیت شروع کی اور کہا یہ گیا تھا کہ تمہاری طرف (جرائم) منسوب کیے گئے ہیں اور تم سے حساب لیا جائے گا ۔ * (تو آپ میرے نزدیک) کچھار کے شیر سے زیادہ (با رعب تھے) جو عثر کے مقام پر رہتے ہیں اور ان کے اردگرد درختوں کے جھنڈ ہوتے ہیں۔ * وہ شیر صبح کے وقت اپنے بچوں کو گوشت کھلاتا ہے، اور ان کا گزارہ ہی لوگوں کے گوشت پر ہوتا ہے جو مٹی میں لتھڑا ہوا ہو اور ٹکڑوں کی شکل میں ہو۔ اس شیر سے نیل گائے (جیسے طاقتور جانور بھی) دبکے رہتے ہیں۔ اور پیدل لوگ اس شیر کی وادی سے گزر بھی نہیں سکتے ہیں۔ * اور اس شیر کی وادی میں اپنی بہادری پر نازاں شخص کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کا اسلحہ ایک طرف پڑا ہوتا ہے، کپڑوں کے ٹکڑے ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ خود شیر کی خوراک بن چکا ہوتا ہے۔ * بے شک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا نور ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بے نیام ہندی تلوار ہیں۔ * آپ کو قریش کے ایسے نوجوانوں میں مبعوث کیا گیا کہ جب مکہ کے درمیان میں انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان میں سے ایک نے یہ کہا: روانہ ہو جاؤ (یعنی مدینہ کی طرف ہجرت کر جاؤ)۔ * تو وہ لوگ روانہ ہو گئے حالانکہ وہ لوگ کمزور یا بے ڈھال یا بے تیغ یا بے ہتھیار نہیں تھے۔ * وہ اونچی ناکوں والے بہادر لوگ تھے اور ان کا لباس سیدنا داؤد علیہ السلام کی تیار کی ہوئی زرہیں تھیں جو جنگ میں استعمال ہوتی ہیں۔ * وہ زرہیں سفید، چمکدار اور لمبی تھیں اور ان کے حلقے ایک دوسرے میں یوں پیوست تھے کہ جیسے قفعاء نامی بوٹی کے حلقے ایک دوسرے میں پیوست ہوتے ہیں۔ * وہ سفید، خوبصورت اونٹوں کی طرح (میدان جنگ میں) چلتے ہیں اور ان کی شمشیر زنی اس وقت (اپنے ساتھیوں کی) حفاظت کرتی ہے، جب چھوٹے قد کے سیاہ فام لوگ جنگ سے منہ موڑنے لگتے ہیں۔ * وہ لوگ جب ان کے نیزے کسی قوم پر غالب آ جائیں تو وہ لوگ زیادہ مسرت کا اظہار نہیں کرتے اور اگر وہ خود مغلوب ہو جائیں تو زیادہ جزع و فزع نہیں کرتے۔ * (دشمن کے) نیزے ان کے سینوں پر لگتے ہیں اور یہ لوگ موت کے حوض میں (کودنے سے) ہچکچاتے نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6620]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا في رواية المصنف وعنه البيهقي في "الدلائل" 5/ 207، والعَجَل: الطّين والحَمْأة، ولعلها كانت صفة الأرض، فإنَّ أبرق العزّاف ماءٌ بين المدينة والرَّبَذة على عشرين ميلًا منها به آبار غليظة الماء كما في "وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى" للسمهودي 4/ 6، والأبرق في اللغة: الموضع المرتفع ذو الحجارة والرمل والطين.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کی روایت میں اسی طرح ہے اور انہی کے واسطے سے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" 5/ 207 میں روایت کیا ہے۔ "العَجَل" کے معنی مٹی اور کیچڑ کے ہیں۔ غالباً یہ اس زمین کی صفت تھی، کیونکہ "أبرق العزّاف" مدینہ اور ربذہ کے درمیان بیس میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے جہاں کھارے پانی کے کنویں ہیں، جیسا کہ سمہودی کی "وفاء الوفا" 4/ 6 میں مذکور ہے۔ لغت میں "الأبرق" اس بلند جگہ کو کہتے ہیں جہاں پتھر، ریت اور مٹی ملی جلی ہوں۔
وفي رواية ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2706): اثبت في غنمنا في هذا المكان.
🧾 تفصیلِ روایت: ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثانی" (2706) والی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "ہماری بکریوں کے ساتھ اسی جگہ ٹھہرے رہو"۔
No matching content found
📝 نوٹ / توضیح: یہاں کوئی متعلقہ عبارت نہیں ملی۔
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى الدور، والمثبت من (ب)، وهو الصواب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "الدور" میں تحریف ہو گئی تھی، جبکہ نسخہ (ب) سے جو لفظ ہم نے متن میں درج کیا ہے وہی درست ہے۔
والزَّور: أعلى الصدر، وقيل: وسطه. انظر "شرح قصيدة بانت سعاد" لابن هشام النحوي ص 246 بتحقيق عبد الله الطويل.
📝 نوٹ / توضیح: "الزَّور" سینے کے اوپری حصے کو کہتے ہیں، اور ایک قول کے مطابق یہ سینے کا درمیانی حصہ ہے۔ تفصیل کے لیے ابن ہشام نحوی کی "شرح قصیدہ بانت سعاد" ص 246 (تحقیق عبد اللہ الطویل) ملاحظہ فرمائیں۔
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: كل، والمثبت من (ب)، وهو الصواب. وهو الموافق لما عند ابن هشام ص 259.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "کل" تحریف شدہ تھا، جبکہ نسخہ (ب) میں موجود لفظ ہی صحیح ہے اور یہی ابن ہشام (ص 259) کے ہاں بھی موجود ہے۔
(2) كذا في نسخنا الخطية: عندهما، وعند ابن هشام: عَيشُهما. أي: قُوتُهما. والخراديل: القِطَع.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے خطی نسخوں میں "عندهما" لکھا ہے، جبکہ ابن ہشام کے ہاں "عیشُہما" ہے، جس کا مطلب "ان دونوں کی خوراک" ہے۔ "الخراديل" کے معنی ٹکڑوں کے ہیں۔
(3) وضع فوق الراء منها في (ص) علامة إهمال، يريد أنها راءٌ، والمعنى: أنها ضامرة البطون من الجوع. وعند ابن هشام: ضامزة، بالزاي، أي: ساكتة ساكنة. والأراجيل: جمع أَرجال، وأرجال: جمع رَجْل، ورَجُل: اسم جَمْع راجِلٍ، وهو الذي يمشي على رجليه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) میں راء کے اوپر علامتِ اہمال لگائی گئی ہے تاکہ واضح ہو کہ یہ راء ہی ہے، اس کے معنی بھوک کی وجہ سے پیٹ کے پچک جانے کے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن ہشام کے ہاں یہ لفظ زاء کے ساتھ "ضامزة" ہے، جس کے معنی خاموش اور ساکن کے ہیں۔ "الأراجيل" ارجال کی جمع ہے، ارجال رجل کی جمع ہے اور رجل "راجل" کے لیے اسمِ جمع ہے، یعنی وہ شخص جو پیدل چل رہا ہو۔
(1) تحرَّف في النسخة الخطية إلى: زالت، والتصويب من "السيرة "لابن هشام 2/ 513، و"جمهرة أشعار العرب" لأبي زيد القرشي ص 641.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخہ میں لفظ "زالت" میں تحریف ہوئی ہے، اس کی درستگی ابن ہشام کی "السیرہ" 2/ 513 اور ابوزید قرشی کی "جمہرۃ اشعار العرب" ص 641 سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف لجهالة الحجاج بن ذي الرقيبة وأبيه وجدّه، لكن شهرة هذه القصة والقصيدة عند أهل السير والمغازي تغني عن تطلُّب الإسناد لها، والله تعالى أعلم. وشيخ المصنف وإن كان فيه ضعف متابَعٌ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حجاج بن ذی الرقیبہ، ان کے والد اور ان کے دادا کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: تاہم، اہلِ سیر اور مغازی کے ہاں اس قصے اور قصیدے کی شہرت اس کے لیے سند کی تلاش سے بے نیاز کر دیتی ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ اگرچہ بذاتِ خود ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 10/ 243 - 244، و "الدلائل" 5/ 207 - 209 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. مختصرًا ولم يسقه بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام بیہقی نے "السنن" 10/ 243-244 اور "دلائل النبوۃ" 5/ 207-209 میں ابوعبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے اور اسے مکمل ذکر نہیں کیا۔
والخبر بطوله في "جزء ابن ديزيل" برواية أبي الحسن أحمد بن نيخاب الطيبي عنه برقم (15). وأخرجه مختصرًا ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2706)، وابن منده في "معرفة الصحابة" ص 292، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1249) و (5833) من طرق عن إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، به.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ خبر پوری تفصیل کے ساتھ "جزء ابنِ ديزيل" (نمبر 15) میں ابوالحسن احمد بن نیخاب الطیبی کی روایت سے موجود ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً ابن ابی عاصم (2706)، ابن مندہ کی "معرفۃ الصحابہ" ص 292، اور ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (1249) اور (5833) میں ابراہیم بن منذر الحزامی کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وذكر القصة بنحوها مع القصيدة محمد بن إسحاق كما سيأتي لاحقًا عند المصنف، وفيه ما يشعر أنه رواها عن عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري مرسلًا. وعاصم هذا ثقة عالم عارف بالمغازي، وكان ابن إسحاق يعتمد عليه كثيرًا في "مغازيه". وكذا ذكرها موسى بن عقبة الإمام الثقة -كما سيأتي لاحقًا- وكان بصيرًا بالمغازي والسيرة النبوية، وهو أول من صنف في ذلك.
📌 اہم نکتہ: محمد بن اسحاق نے بھی یہ قصہ اور قصیدہ اسی طرح ذکر کیا ہے جیسا کہ آگے مصنف کے ہاں آئے گا، اس میں اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے اسے عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ عاصم ثقہ عالم اور مغازی کے ماہر تھے، اور ابن اسحاق اپنی "مغازی" میں ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ اسی طرح اسے امام ثقہ موسیٰ بن عقبہ نے بھی ذکر کیا ہے، جو مغازی اور سیرتِ نبوی کے بہت بڑے ماہر تھے اور اس فن میں سب سے پہلے تصنیف کرنے والے ہیں۔