المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
920. ذكر آية الساعة
قیامت کی نشانیوں سے متعلق آیت کا بیان
حدیث نمبر: 6664
أخبرني إسماعيل بن علي الخُطَبي، حدثنا محمد بن العبّاس المؤدِّب، حدثنا عُبيد بن إسحاق العطَّار، حدثنا محمد بن فُضيل، عن أَشعَث بن سَوَّار، عن عبد الملك بن مَيسَرة، عن أبي الطُّفَيل، عن حُذيفة بن أَسِيد الغِفاري قال: قال رسول الله ﷺ:"تَجيءُ الريحُ التي يقبضُ الله فيها نفسَ كلِّ مؤمن، ثم طلوعُ الشمس من مَغرِبِها، وهي الآيةُ التي ذَكَرَها الله ﷿ في كتابِه" (4) .
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک ایسی ہوا چلے گی، جس کے چلنے سے تمام مومنین فوت ہو جائیں گے، پھر سورج مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا، یہ وہی نشانی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6664]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6664 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده ضعيف جدًا، عبيد بن إسحاق العطار ضعيف منكر الحديث، وأشعث بن سوار ضعيف أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "سخت ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبید بن اسحاق العطار ضعیف اور منکر الحدیث ہے، اور اشعث بن سوار بھی ضعیف راوی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (3037)، وفي "الدعاء" (2250) عن محمد بن العبّاس المؤدب، بهذا الإسناد. والصحيح في حديث حذيفة بن أَسِيد ما رواه الثقةُ فراتٌ القزّاز، عن أبي الطفيل، عن حذيفة ابن أَسِيد قال: اطَّلع النبي ﷺ علينا ونحن نتذاكر، فقال: "ما تَذاكَرون؟ " قالوا: نذكر الساعة، قال: "إنها لن تقوم حتى ترون قبلَها عشرَ آيات: الدخان، والدجال، والدابّة، وطلوع الشمس من مغربها، ونزول عيسى ابن مريم، ويأجوج ومأجوج، وثلاثة خسوف: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذلك نارٌ تخرج من اليمن تطرُد الناس إلى مَحشَرهم". أخرجه أحمد 26/ (16141)، ومسلم (2901)، وأبو داود (4311)، وابن ماجه (4055)، والترمذي (2183)، والنسائي (11316) و (11418)، وابن حبان (6791) و (6843).
📖 حوالہ / مصدر: اس ضعیف روایت کو طبرانی نے "الکبیر" (3037) اور "الدعاء" (2250) میں محمد بن عباس المؤدب کی سند سے نقل کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں "صحیح" روایت وہ ہے جسے ثقہ راوی فرات القزاز نے ابوالطفیل کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قیامت کی دس نشانیاں (دخان، دجال، دابہ، سورج کا مغرب سے نکلنا، عیسیٰ بن مریم کا نزول، یاجوج ماجوج، تین بڑے خسوف اور یمن کی آگ) ذکر فرمائیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس صحیح روایت کو امام احمد (16141)، مسلم (2901)، ابو داود (4311)، ابن ماجہ (4055)، ترمذی (2183)، نسائی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔