المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
929. تكريم المسلم بإلقاء الوسادة وقت اللقاء
مسلمان سے ملاقات کے وقت تکیہ پیش کر کے اس کی عزت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6686
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي وإسماعيل بن أبي أُويس، قالا: حدثنا ابن أبي فُدَيك، عن كَثير بن عبد الله المُزَني، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَّ الخندقَ عامَ حرب الأحزاب حتى بَلَغ المذاحج (2) ، فقطع لكلِّ عشرةٍ أربعينَ ذراعًا، فاحتجَّ المهاجرون: سلمانُ مِنَّا، وقالت الأنصارُ: سلمانُ مِنَّا، فقال رسول الله ﷺ:"سلمانُ مِنَّا أهل البيت" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6541 - سنده ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6541 - سنده ضعيف
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6686]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6686 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هكذا وقع في النسخ الخطية، ويغلب على ظننا أنه محرَّف عن المذاد، فقد نقل ياقوت الحموي في "معجم البلدان" 5/ 88 عن ابن الأعرابي أنه قال: هو موضع بالمدينة حيث حفر الخندقَ النبيُّ ﷺ، قال كعب بن مالك:
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہ لفظ اسی طرح (المزاد) واقع ہوا ہے، مگر ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ یہ "المذاد" (دال کے ساتھ) کی تحریف ہے؛ 📖 حوالہ / مصدر: کیونکہ یاقوت حموی نے "معجم البلدان" 5/ 88 میں ابن الاعرابی سے نقل کیا ہے کہ یہ مدینہ منورہ میں وہ مقام ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے خندق کھودی تھی، حضرت کعب بن مالک کا شعر بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔
فليأتِ مأسدةً تسلُّ سيوفَها … بين المَزاد وبين جَزْع الخندقِ
📝 نوٹ / توضیح: (کعب بن مالک کے شعر کا ترجمہ: "وہ اس کچھار میں آئے جہاں تلواریں سونت لی گئی ہیں، جو 'مذاد' اور خندق کے موڑ کے درمیان ہے")۔
وكذلك قال أبو عبيد البكري في "معجم ما استعجم" 4/ 1202.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی صراحت ابو عبید البکری نے "معجم ما استعجم" 4/ 1202 میں بھی کی ہے۔
(3) إسناده ضعيف جدًا، كثير بن عبد الله -وهو ابن عمرو بن عوف بن زيد المزني- متروك متهم، وقال ابن حبان: روى عن أبيه عن جده نسخةً موضوعةً لا يحلُّ ذكرها في الكتب، ولا الرواية عنه إلَّا على جهة التعجب. وبه ضعَّفه الذهبي في "التلخيص". وأبوه عبد الله بن عمرو لم يرو عنه سوى ولده كثير، وهو مجهول الحال. ابن أبي فديك: هو إسماعيل بن مسلم المدني. وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (6040) عن مسعدة بن سعد العطار المكي، عن إبراهيم ابن المنذر الحزامي وحده، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کثیر بن عبد اللہ (کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف المزنی) متروک اور متہم (جس پر جھوٹ کی تہمت ہو) راوی ہے؛ ابن حبان کے بقول اس نے اپنے والد اور دادا کے واسطے سے ایک من گھڑت (موضوع) نسخہ روایت کیا ہے جسے کتب میں ذکر کرنا جائز نہیں سوائے تعجب کے طور پر۔ امام ذہبی نے بھی "التلخیص" میں اسی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کے والد عبد اللہ بن عمرو سے صرف ان کے بیٹے کثیر نے روایت کی ہے، لہٰذا وہ "مجہول الحال" ہیں۔ ابن ابی فدیک سے مراد اسماعیل بن مسلم المدنی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (6040) میں ابراہیم بن منذر الحزامی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 4/ 76 و 9/ 320 - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 21/ 408 - وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3347)، وفي "أخبار أصبهان" 1/ 54 - ومن طريقه ابن عساكر أيضًا -من طريق دحيم، كلاهما (ابن سعد ودحيم) عن إسماعيل بن أبي فديك به. وسقط دحيم من مطبوع "معرفة الصحابة".
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" 4/ 76 اور 9/ 320 میں، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 21/ 408 میں، اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (3347) اور "اخبار اصبہان" 1/ 54 میں دحیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن سعد اور دحیم دونوں اسے اسماعیل بن ابی فدیک سے روایت کرتے ہیں، تاہم "معرفۃ الصحابہ" کے مطبوعہ نسخے میں دحیم کا نام گر گیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أيضًا الطبري في "تفسيره" 21/ 133 - 134، وأبو الشيخ في "طبقات المحدثين بأصبهان" (6)، والبيهقي في "الدلائل" 3/ 418 - 420 من طريق محمد بن خالد بن عثمة، عن كثير بن عبد الله، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی "تفسیر" 21/ 133-134 میں، ابو الشیخ نے "طبقات المحدثین باصبہان" (6) میں اور بیہقی نے "الدلائل" 3/ 418-420 میں محمد بن خالد بن عثمہ عن کثیر بن عبد اللہ کی سند سے مطول اور مختصر دونوں طرح روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن أنس بن مالك والحسين بن علي وزيد بن أبي أوفى، وأسانيدها لا يفرح بها.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت انس، حضرت حسین بن علی اور حضرت زید بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی مرویات ہیں، لیکن ان کی اسناد معتبر نہیں ہیں۔
أما حديث أنس؛ فيرويه جعفر بن سليمان الضبعي عن النضر بن حميد الكندي، عن سعد
🔍 فنی نکتہ / علّت: حضرت انس کی روایت کو جعفر بن سلیمان الضبعی نے نضر بن حمید الکندی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
الإسكاف، عن محمد بن علي، عن أنس عند البزار في "مسنده" (6534)، والنضر بن حميد
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مسند بزار (6534) میں موجود ہے۔
وسعد الإسكاف متروكا الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نضر بن حمید اور سعد الاسکاف دونوں "متروک الحدیث" (سخت ضعیف) راوی ہیں۔
وأما حديث الحسين؛ فيرويه أيضًا جعفر بن سليمان، عن النضر بن حميد الكندي، عن سعد الإسكاف، عن أبي جعفر محمد بن علي، عن أبيه، عن جده، الحسين عند أبي يعلى في "مسنده" (6772)، وعنه أبو الشيخ (5). وإسناده إسناد سابقه.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت حسین کی روایت مسند ابی یعلیٰ (6772) اور ابو الشیخ (5) کے ہاں ہے؛ اس کی سند بھی پچھلی سند کی طرح (نضر اور سعد کی وجہ سے) ساقط ہے۔
وأما حديث زيد بن أبي أوفى؛ فيرويه عبد المؤمن بن عباد العبدي، عن يزيد بن معن، عن عبد الله ابن شرحبيل، عن رجل من قريش، عنه، عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2707)، والطبراني في "الكبير" (5146)، وابن عدي في "الكامل" 3/ 206 - 207، وأبو نعيم في "المعرفة" (3020). ولم يذكر ابن عدي في إسناده: "رجل من قريش". هكذا وقع الإسناد عندهم. ووقع إسناده عند البخاري في "التاريخ الكبير" 3/ 386، وفي "الأوسط" 3/ 9: حدثنا حسان ابن حسان، حدثنا إبراهيم بن بشر أبو عمرو الأزدي، عن يحيى بن معن المدني، حدثني إبراهيم القرشي، عن سعد بن شرحبيل، عن زيد بن أبي أوفى. قال البخاري في "الأوسط": هذا إسناد مجهول لا يتابع عليه، ولا يعرف سماع بعضهم من بعض، ورواه بعضهم عن إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الله بن أبي أوفى، عن النبي ﷺ، ولا أصل له. وقال أبو حاتم كما في "العلل" (2598): حديث منكر، وفي إسناده مجهولين. وقال الذهبي في "السير": زيد لا يعرف إلَّا في هذا الحديث الموضوع. وقال ابن حجر في "للسان" في ترجمة إبراهيم بن بشر الأزدي: عن يحيى بن معن، وعنه حسان بن حسان، لا ندري من هو وكذلك شيخه، قال أبو حاتم: هما مجهولان، انتهى. وكذلك سعد بن شرحبيل، قال الذهبي في "الميزان" في ترجمة يحيى بن معن المدني: عن سعد ابن شراحيل، مجهول، وكذلك شيخه. وعدَّ الذهبيُّ في "السير" 1/ 141 هذا الحديث موضوعًا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "موضوع" (من گھڑت) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ابی عاصم، طبرانی، ابن عدی اور ابو نعیم کے ہاں اس کی سند میں "رجل من قریش" کے الفاظ ہیں جو کہ مجہول ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام بخاری کے بقول یہ سند مجہول ہے، اس کی کوئی متابعت نہیں اور راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت نہیں۔ ابو حاتم نے اسے "منکر" اور اس کے راویوں کو "مجہول" قرار دیا۔ امام ذہبی کے مطابق زید نامی راوی صرف اسی من گھڑت حدیث میں پایا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے "لسان المیزان" میں ابراہیم بن بشر الازدی اور ان کے شیخ دونوں کو مجہول قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: علامہ ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" 1/ 141 میں اسے صراحت کے ساتھ "موضوع" قرار دیا ہے۔
وقد روي هذا الخبر من كلام علي بن أبي طالب من وجوهٍ موقوفًا عليه، وإسناد كل واحد منها لا يخلو من مقال، وبمجموعها يمكن تحسينه؛ فأخرج ابن سعد 2/ 298 - 299، وابن أبي شيبة 12/ 148 من طريق أبي البختري، قال: قالوا لعلي: أخبرنا عن سلمان، قال: أدرك العلم الأول والعلم الآخر، بحر لا ينزح قعره، منا أهلَ البيت. ورجاله ثقات لكن أبا البختري -وهو سعيد ابن فيروز- لم يدرك عليًا كما قال علي بن المديني وأبو حاتم الرازي.
📌 اہم نکتہ: یہ خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اپنے کلام (موقوف) کے طور پر بھی مختلف طریقوں سے مروی ہے، جن میں سے ہر ایک میں کلام ہے لیکن مجموعی طور پر اسے "حسن" قرار دیا جا سکتا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (2/ 298) اور ابن ابی شیبہ (12/ 148) نے ابوالبختری کی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا: "سلمان نے پہلا اور پچھلا تمام علم پا لیا ہے، وہ ایسا سمندر ہے جس کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا، وہ ہم اہلِ بیت میں سے ہیں"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوالبختری (سعید بن فیروز) ثقہ ہیں مگر ان کا حضرت علی سے سماع ثابت نہیں ہے، لہٰذا سند منقطع ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (6041) من طريق علي بن عابس، عن الأعمش، عن عمرو بن مرة. وعن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قالا (عمرو بن مرة وقيس): سئل علي عن سلمان، فقال: أدرك العلم الأول والعلم الآخر، بحر لا ينزح، منا أهلَ البيت. وسنده ضعيف من أجل علي بن عابس، والطريق الأولى عمرو بن مرة روايته مرسلة عن علي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (6041) میں علی بن عابس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند علی بن عابس کی وجہ سے ضعیف ہے، اور عمرو بن مرہ کی حضرت علی سے روایت "مرسل" (منقطع) ہے۔
وأخرجه الطبراني ضمن الحديث (6042) -وعنه أبو نعيم في "الحلية" 1/ 187، وفي "المعرفة" (3349) - من طريق حبان بن علي العنزي، عن ابن جريج، عن أبي حرب بن أبي الأسود، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (6042)، ابو نعیم (الحلیہ 1/ 187) اور "معرفۃ الصحابہ" (3349) میں حبان بن علی العَنزی کی سند سے روایت کیا گیا ہے۔
وعن رجل، عن زاذان الكندي، كلاهما (أبو الأسود وزاذان) عن علي. وسنده ضعيف من أجل حبان ابن علي، وفي الطريق الثانية أيضًا رجل مبهم. وانظر له "علل الدارقطني" (366).
🔍 فنی نکتہ / علّت: حبان بن علی کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مزید یہ کہ دوسری سند میں ایک راوی "مبہم" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس کی فنی علت کے لیے "علل الدارقطنی" (366) ملاحظہ کریں۔