🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
938. ذكر سواد بن قارب الأزدي رضى الله عنه
سیدنا سواد بن قارب ازدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6702
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة عبد الرحمن بن عَمرو الدِّمشقي، حدثنا أحمد (4) بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن حُذافة الأزدي، عن جُنادة بن أبي أُميَّة، قال: دخلتُ على رسول الله ﷺ في نَفَرٍ من الأزد يومَ الجُمعة، فدعانا رسولُ الله ﷺ إلى طعام بينَ يديه، فقلنا: إنا صِيامٌ، فقال:"صمتُم أمسِ؟" قلنا: لا، قال:"أفتصومون غدًا؟ قلنا: لا، قال:"فأفطِروا"، ثم قال:"لا تصوموا يومَ الجُمعة مُفردًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ سَوَاد بن قارِب الأزدي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ازد قبیلے کے ایک وفد کے ہمراہ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا لگا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی کھانے کی دعوت دی، ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تم آئندہ کل روز رکھو گے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آج کا روزہ بھی توڑ دو، پھر فرمایا: اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6702]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6702 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) في النسخ الخطية: محمد، والمثبت من "إتحاف المهرة" لابن حجر (3980)، ومثله في رواية الطبراني (2173) عن أحمد بن عبد الوهاب الحَوطي عن أحمد بن خالد. وكلٌّ من محمد وأحمد أخوانِ، لكن المعروف بالرواية عن ابن إسحاق وعنه أبو زرعة هو أحمد، كما في عدة مواضع من هذا الكتاب، وكلاهما لا بأس به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "محمد" لکھا ہے، لیکن درست "احمد" ہے جیسا کہ ابن حجر کی "اتحاف المہرہ" (3980) اور طبرانی (2173) میں احمد بن عبد الوہاب الحوطی کی روایت میں ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: محمد اور احمد دونوں بھائی ہیں، لیکن محمد بن اسحاق سے روایت کرنے میں اور ان سے ابو زرعہ کے روایت کرنے میں احمد بن خالد ہی معروف ہیں، جیسا کہ اس کتاب میں کئی مقامات پر ہے، اور دونوں بھائیوں میں "لا بأس بہ" (کوئی حرج نہیں) ہے۔
(1) النهي عن صوم الجمعة مفردًا صحيح لغيره، وحذافة كذا وقع عند المصنف، ومثله في رواية الطبراني المذكورة، والذي في مصادر التخريج ومصادر ترجمته: حذيفة، وهو الأزدي -ويقال: البارقي- وتفرَّد بالرواية عنه مرثد بن عبد الله اليزني، لذا قال الذهبي عنه في "الميزان": مجهول، روى في كراهية صوم الجمعة ومحمد بن إسحاق -وإن كان مدلسًا وقد عنعنه- قد توبع، وجنادة الأزدي مختلف في صحبته.
⚖️ درجۂ حدیث: جمعہ کے دن کا تنہا روزہ رکھنے کی ممانعت کی حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف اور طبرانی کے ہاں نام "حذافہ" واقع ہوا ہے، لیکن تخریج اور تراجم کی کتب میں درست نام "حذیفہ" الازدی (البارقی) ہے۔ ان سے روایت کرنے میں مرثد بن عبد اللہ الیزنی (ابو الخیر) منفرد ہیں، اسی لیے امام ذہبی نے "المیزان" میں انہیں مجہول کہا ہے۔ محمد بن اسحاق اگرچہ مدلس ہیں اور یہاں "عن" سے روایت کر رہے ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: جنادہ الازدی کے صحابی ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 39 / (24009/ 4) قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: أخبرنا محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد. ووقع عنده حذيفة الأزدي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 24009/ 4) نے یزید بن ہارون عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے، اور ان کے ہاں نام "حذیفہ الازدی" ہی مذکور ہے۔
وأخرجه النسائي (2787) من طريق محمد بن سلمة الحراني، عن ابن إسحاق، به. وليس فيه مرثد بن عبد الله وهو مخالف لما رواه أصحاب ابن إسحاق كما قال المزي في "تحفة الأشراف" 2/ 438.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (2787) نے محمد بن سلمہ الحرانی کے طریق سے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں مرثد بن عبد اللہ کا ذکر نہیں ہے، اور جیسا کہ علامہ مزی نے "تحفۃ الاشراف" (2/ 438) میں کہا، یہ ابن اسحاق کے دیگر شاگردوں کی روایت کے مخالف ہے۔
وأخرجه النسائي (2786) من طريق الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير مرثد، عن حذيفة البارقي، عن جنادة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (2786) نے لیث بن سعد عن یزید بن ابی حبیب عن ابی الخیر مرثد عن حذیفہ البارقی کے طریق سے حضرت جنادہ سے روایت کیا ہے۔
وصحَّ النهي عن إفراد الجمعة بالصوم عن غير واحد من الصحابة، منهم جابر عند البخاري (1984)، ومسلم (1143)، وأبو هريرة عند البخاري (1985)، ومسلم (1144)، وجويرية بنت الحارث عند البخاري (1986).
🧩 متابعات و شواہد: جمعہ کے دن کا اکیلے روزہ رکھنے کی ممانعت کئی صحابہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، جن میں حضرت جابر (بخاری 1984، مسلم 1143)، حضرت ابو ہریرہ (بخاری 1985، مسلم 1144) اور ام المؤمنین جویریہ بنت الحارث (بخاری 1986) شامل ہیں۔