🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
953. ذكر جابر بن سمرة السوائي رضى الله عنه
سیدنا جابر بن سمرة سوائی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6729
أخبرني أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أبو تَوبة الربيعُ بن نافع الحلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، حدثنا العبّاس بن سالم، عن أبي سلَّام، عن أبي أُمامة الباهلي، عن عمرو بن عَبَسَة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ أولَ ما بُعث وهو يومئذ مُستخفٍ، فقلتُ: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ"، قلتُ: وما نبيٌّ؟ قال:"رسولُ الله"، قلتُ: اللهُ أرسلَك؟ قال:"نعم"، قلتُ: بما أرسلَك؟ قال:"بأن تَعبُدوا اللهَ، وتَكسِروا الأوثانَ، وتَصِلُوا الأرحامَ"، قلتُ: نِعمَّا أرسلَك، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال:"حرٌ وعبدٌ"؛ يعني أبا بكر وبلالًا -فكان عمرو بن عَبَسة يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبعُ الإسلام- فأسلمتُ، ثم قلتُ: أتبعُك يا رسولَ الله؟ قال:"لا، ولكن الحَقْ بأرضِ قومِك، فإذا ظهرتُ فأتِني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جابر بن سَمُرة السُّوَائي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6584 - صحيح
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے اوائل میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا تعارف پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا رسول۔ میں نے کہا: کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، بتوں کو توڑ دیں، اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں۔ میں نے کہا: آپ کتنا اچھا پیغام لائے ہیں، آپ کے پیغام پر کتنے لوگ آپ پر ایمان لائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام یعنی ابوبکر اور بلال۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے میرا خیال ہے کہ میں چوتھے نمبر پر اسلام لانے والا شخص ہوں۔ پھر میں نے اسلام قبول کر لیا، میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کے ہمراہ رہ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ابھی تم اپنے قبیلے میں چلے جاؤ، جب میں ظاہر ہو جاؤں تو چلے آنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6729]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6729 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وسلف مطولًا برقم (593).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت تفصیلاً پہلے حدیث نمبر (593) کے تحت گزر چکی ہے۔