المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
960. ذكر وابصة بن معبد الأسدي رضى الله عنه
سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6748
حدثنا أبو النضر الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا قَبيصة ابن عُقبة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن سِنان، عن ضِرار بن الأزوَر قال: مرَّ بي رسولُ الله ﷺ وأنا أحلُبُ، فقال:"دَعْ داعيَ اللَّبن" (1) . ذكرُ وابِصة بن مَعبَد الأسَدي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت دودھ دوہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” داعی اللبن “ چھوڑ دیا کرو۔ داعی اللبن کی تشریح حدیث نمبر 5042 کے تحت جلد نمبر 4 میں گزر چکی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6748]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6748 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن خالف فيه سفيان الثوريُّ أصحابَ الأعمش، حيث جعل شيخَ الأعمش فيه عبدَ الله بن سنان -وهو الأسدي ثقة- عن ضرار، مكانَ يعقوب بن بحير -وهو مجهول- عن ضرار. قال أبو حاتم في "العلل" لابنه (2225): خالف الثوريُّ الخلقَ في هذا الحديث، وقال غيرُ سفيان: الأعمش عن يعقوب بن بحير عن ضرار بن الأزور. وصحَّح هو وأبو زرعة روايةَ الجماعة على رواية الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کے راوی قوی ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام سفیان ثوری نے یہاں اعمش کے دیگر تلامذہ کی مخالفت کی ہے؛ انہوں نے اعمش کے استاد کا نام "عبد اللہ بن سنان" (جو ثقہ ہیں) بتایا ہے، جبکہ دیگر تمام حضرات نے "یعقوب بن بحیر" (جو مجہول ہیں) کا نام لیا ہے۔ امام ابو حاتم اور ابو زرعہ نے جمہور کی روایت کو سفیان ثوری کی روایت پر ترجیح دیتے ہوئے اسے ہی صحیح قرار دیا ہے۔
وأخر -أحمد 31/ (18792) و (18982) عن عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/ 18792 اور 18982) نے عبد الرحمن بن مہدی عن سفیان ثوری کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔