المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
961. ذكر خريم بن فاتك الأسدي رضى الله عنه
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6750
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا الحسين بن عبد الله الرَّقِّي، حدثنا علي بن مَعْبَد الرَّقِّي، حدثنا بقيّة بن الوليد، حدثنا مبشِّر بن عُبيد، عن الحجَّاج بن أَرْطاةَ، عن الفُضيل بن عمرو، عن سالم بن أبي الجعد، عن وابصةَ ابن مَعبَد قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"لا تتَّخِذوا ظهورَ الدوابِّ منابرَ، وشرُّ هذه الدوابِّ الثَّعَلُ (1) " (2) . ذكرُ خُرَيم بن فاتِك الأسَدي (1) ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6605 - حديث واهي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6605 - حديث واهي
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جانوروں کی پیٹھوں کو منبر مت بناؤ، اور ان جانوروں میں سب سے برا ” خچر “ ہے (منزل پر پہنچ کر جانور کے اوپر ہی نہیں بیٹھے رہنا چاہیے بلکہ اس سے اتر جانا چاہیے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6750]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6750 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحف في النسخ الخطية إلى: البغل.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں کتابت کی غلطی سے "البغل" (خچر) لکھ دیا گیا ہے۔
(2) إسناده تالف؛ مبشر بن عبيد -وهو القرشي الحمصي- متهم بالكذب. وضعفه جدًا أبو القاسم البغويُّ والحافظ ابن حجر في "الإصابة"، ووهّاه الذهبي في "التلخيص".
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "تالف" (ناقابلِ اعتبار) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی مبشر بن عبید القرشی الحمصی پر کذب (جھوٹ) کی تہمت ہے۔ امام بغوی اور حافظ ابن حجر نے انہیں شدید ضعیف کہا ہے اور علامہ ذہبی نے "التلخیص" میں اسے واہی (بالکل کمزور) قرار دیا ہے۔
وسالم بن أبي الجعد كذا نُسب في روايتي الحاكم والطبراني، بينما نسب في كتب "الصحابة": سالم بن وابصة، وذكروا هذا الحديثَ في ترجمته، وكلٌّ من سالم بن أبي الجعد وسالم بن وابصة يروي عن وابصة كما ذكر المزي في ترجمة وابصة من "التهذيب" 30/ 393، لكن سالم بن وابصة هو الأشهر في الرواية عن أبيه وابصة، انظر "الجرح والتعديل" 4/ 188، و"تاريخ الرقة" للحافظ أبي علي الحراني ص 28 - 29.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم اور طبرانی کی روایت میں اسے "سالم بن ابی الجعد" منسوب کیا گیا ہے، جبکہ کتبِ صحابہ میں یہ "سالم بن وابصہ" ہے اور انہی کے ترجمہ میں یہ حدیث ذکر کی گئی ہے۔ علامہ مزی کے بقول دونوں ہی وابصہ سے روایت کرتے ہیں، مگر ان کے بیٹے سالم بن وابصہ اپنے والد سے روایت کرنے میں زیادہ مشہور ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 22/ (389) عن المقدام بن داود المصري، عن علي بن معبد الرقي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (22/ 389) میں مقدام بن داود المصری عن علی بن معبد الرقی کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج شطره الثاني في ترجمة سالم بن وابصة: أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (1059)، وابن قانع في "معجم الصحابة" 3/ 185، وابن عدي في "الكامل" 6/ 418 و 418 - 419 (في ترجمة مبشر)، وابن منده في "معرفة الصحابة" 2/ 719، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3446) من طرق عن بقية بن الوليد، عن مبشر بن عبيد، عن الحجاج، عن الفضيل، عن سالم بن وابصة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ألا إنَّ شرَّ هذه السباع الأثعلُ"، وقال البغوي عقبه: ولا أحسب فضيل بن عمرو سمع من سالم بن وابصة، والذي حدَّث بهذا الحديث بقيةُ عن مبشر بن عبيد، ومبشر ضعيف جدًا، ولا أعلم بهذا الإسناد غير هذا الحديث. وقال ابنُ منده وأبو نعيم: سالم بن وابصة مجهول.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کا دوسرا حصہ بغوی، ابن قانع، ابن عدی، ابن مندہ اور ابو نعیم نے بقیہ بن ولید عن مبشر بن عبید کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: مبشر بن عبید انتہائی ضعیف ہے اور اس سند سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث معلوم نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بغوی کے بقول فضیل بن عمرو کا سماع سالم بن وابصہ سے ثابت نہیں، جبکہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے سالم بن وابصہ کو "مجہول" قرار دیا ہے۔
وفُسِّر "الأثعل" عند البغوي وابن قانع وأبي نعيم بالثعالب، ولم يُذكر اسمُ من فسَّره بذلك، وهذا التفسير مخالف للمعروف في كتب اللغة.
📝 نوٹ / توضیح: بغوی، ابن قانع اور ابو نعیم کے ہاں لفظ "الاثعل" کی تفسیر "لومڑی" (ثعالب) سے کی گئی ہے، مگر اس مفسر کا نام معلوم نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ تفسیر لغت کی مشہور کتابوں کے خلاف ہے۔
قلنا: والمقصود به: الحيوان المفترس الشديد الافتراس كالضَّبُع والذئب ونحوهما.
📌 اہم نکتہ: تحقیق یہ ہے کہ "الاثعل" سے مراد وہ درندہ ہے جو بہت زیادہ چیر پھاڑ کرنے والا ہو، جیسے لکڑ بگھڑا (ضبع) یا بھیڑیا وغیرہ۔
وفي باب النهي عن اتخاذ الدوابِّ منابرَ عن أبي هريرة عند أبي داود (2567) بلفظ: "إياي أن تتخذوا ظهورَ دوابِّكم منابر؛ فإن الله إنما سخَّرها لكم لتُبلغكم إلى بلدٍ لم تكونوا بالغيه إلا بشقِّ الأنفس، وجعل لكم الأرضَ، فعليها فاقضوا حاجاتِكم"، وإسناده حسن. وانظر شرحَه والتعليقَ عليه هناك.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: جانوروں کی پیٹھ کو منبر (مسلسل بیٹھنے کی جگہ) بنانے کی ممانعت کے باب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جانوروں کی پیٹھ کو منبر نہ بناؤ، اللہ نے انہیں تمہارے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ تمہیں دور دراز شہروں تک پہنچائیں، اور تمہارے لیے زمین بنائی ہے، پس اپنی ضرورتیں (بیٹھ کر) زمین پر ہی پوری کیا کرو"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے (ابو داود: 2567)۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الأزدي، وصوابه بالسين المفتوحة، فهو من أسد بن خزيمة ابن مدركة المضري.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "الازدی" (ز کے ساتھ) تحریف ہو گئی ہے، درست لفظ "الاسدی" (س کے ساتھ) ہے، جو کہ اسد بن خزیمہ (مضری قبیلہ) کی طرف نسبت ہے۔