المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
980. ذكر مصعب بن عمير العبدري رضي الله عنه
حضرت فضالہ بن وہب لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6782
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو ابن عون الواسطي، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيلي، عن عبد الله بن فَضَالة اللَّيثي، عن أبيه قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ، فكان فيما علَّمني قال:"حافِظْ على الصَّلوات الخمس"، فقلتُ: إنَّ هذه ساعاتٌ لي فيها أشغالٌ، فمُرْني بأمرٍ جامعٍ إذا أنا فعلته أجزأَ عنِّي، قال: فقال:"حافِظْ على العَصرَين"، قلتُ: وما العصرانِ؟ قال:"صلاةٌ (1) قبلَ طلوع الشمس، وصلاةٌ قبل غروبها" (2) . ذكرُ مُصعَب بن عُمير العَبْدري (3) ﵁-
عبداللہ بن فضالہ لیثی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے تعلیم دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: نمازوں کی حفاظت کیا کر، میں نے کہا: ان اوقات میں مجھے بہت مصروفیت ہوتی ہے، اس لئے آپ مجھے کوئی ایسا جامع حکم ارشاد فرما دیں کہ میں اس پر عمل کر لوں تو میرے لئے وہی کافی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصرین کی حفاظت کر لیا کر، میں نے پوچھا: عصرین کون سی نمازیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج طلوع ہونے سے پہلے کی نماز اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6782]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6782 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظ "صلاة" سقط من (م)، وسقط من (ص): "صلاة قبل"، والمثبت من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "صلاۃ" نسخہ (م) سے ساقط ہے، جبکہ نسخہ (ص) سے "صلاۃ قبل" کے الفاظ ساقط ہیں، ہم نے نسخہ (ب) کے مطابق اسے درج کیا ہے۔
(2) إسناده حسن. وقد سلف الكلام عليه برقم (51).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے اور اس پر بحث پہلے حدیث نمبر (51) کے تحت گزر چکی ہے۔
وأخرجه أبو داود (428) عن عمرو بن عون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود نے (428) میں عمرو بن عون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) في النسخ الخطية: العبدي، وإنما العبدي نسبة إلى عبد القيس من ربيعة بن نزار كما في "اللباب" لابن الأثير 2/ 314، وأثبتنا الجادة، وهي النسبة إلى عبد الدار.
🔍 ناموں کی تحقیق: قلمی نسخوں میں "العبدی" لکھا ہے، جبکہ العبدی کی نسبت ربیعہ بن نزار کے قبیلے عبد القیس کی طرف ہوتی ہے (جیسا کہ ابن اثیر کی "اللباب" 2/ 314 میں ہے)۔ ہم نے اسے معروف طریقے پر "العبدری" (قبیلہ عبد الدار کی نسبت سے) ثابت کیا ہے۔