المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
982. ذكر أبى سلمة بن عبد الأسد المخزومي رضى الله عنه
سیدنا ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6785
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامري، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا موسى بن عُبيدة، عن أخيه عبد الله بن عُبيدة، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن أبيه قال: كان رسولُ الله ﷺ جالسًا بقُباءٍ ومعه نَفَرٌ، فقام مصعب بن عُمير عليه بُرْدة ما تكادُ تواريه، فنَكَسَ القومُ، فجاء فسلَّم فردُّوا عليه، فقال فيه النبيُّ ﷺ خيرًا وأثنى عليه، ثم قال:"لقد رأيتُ هذا عند أبَويهِ بمكة يُكرِمانِه ويُنعِّمانِه وما فتًى من فِتيان قريش مثلَه، ثم خرج من ذلك ابتغاءَ مرضاةِ الله ونُصرةِ رسولِه، أمَا إنه لا يأتي عليكم إلَّا كذا وكذا حتى يُفتحَ عليكم فارسُ والرُّومُ، فيغدو أحدُكم في حُلَّة ويروحُ في حُلَّة، ويُغدَى عليكم بقَصْعةٍ ويُراحُ عليكم بقَصْعة"، قالوا: يا رسولَ الله، نحن اليومَ خيرٌ أو ذلك اليومَ؟ قال:"بل أنتم اليومَ خيرٌ منكم ذلك اليومَ، أما لو تعلمون من الدنيا ما أعلمُ، لاستراحَتْ أنفسُكم منها" (1) . ذكرُ أبي سَلَمة بن عبد الأسد المخزومي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6640 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6640 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں اپنے صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، ان پر ایک چادر تھی، جو ان کو پوری طرح چھپا نہیں رہی تھی، لوگوں نے اپنے سر جھکا لئے، انہوں نے آ کر سلام کیا، لوگوں نے ان کے سلام کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں بہت اچھی گفتگو فرمائی، اور ان کی تعریف کی، پھر فرمایا: میں نے اس کو اس کے والدین کے ہاں دیکھا ہے وہ اس کی بہت عزت کیا کرتے تھے اور انہوں نے بہت ناز و نعمت میں اسے پالا ہے، پورے قریش میں اس جیسا کوئی نوجوان نہیں تھا۔ پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول کی مدد کے لئے نکل پڑا، اب یہ تمہارے پاس اس حالت میں آیا ہے، اور عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دے گا، پھر تم صبح کے وقت ایک قیمتی لباس پہنو گے اور شام کے وقت دوسرا۔ ناشتہ الگ کھانے سے کرو گے اور شام کے لئے الگ کھانا ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آج بہتر ہیں یا ان دنوں میں بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس دن سے آج بہتر ہو، اگر تم دنیا کے بارے میں وہ کچھ جان لو! جو میں جانتا ہوں تو اس دنیا سے (لاتعلقی اختیار کر کے) تمہارے دلوں کو سکون مل جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6785]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6785 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل موسى بن عبيدة، وهو الربذي، والحديث عند من أخرجه إنما هو من مرسل عروة، ليس فيه أبوه الزبير.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، تاہم یہ مخصوص سند موسیٰ بن عبیدہ الربذی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: دیگر محدثین کے ہاں یہ روایت "مرسل عروہ" کے طور پر ہے، جس میں ان کے والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه تامًا ومختصرًا المعافى بنُ عمران في "الزهد" (211)، وابن أبي الدنيا في "الزهد" (507)، وفي "ذم الدنيا" (428)، وفي "الأولياء" (78)، وابن سَمعون الواعظ في "الأمالي" (158)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9846) و (9847) من طرق عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے معافی بن عمران نے "الزہد" (211)، ابن ابی الدنیا نے "الزہد" (507)، "ذم الدنیا" (428) اور "الاولیاء" (78) میں، ابن سمعون نے "الامالی" (158) اور بیہقی نے "شعب الایمان" (9846، 9847) میں زید بن الحباب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ مکمل اور مختصر طور پر روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث علي عند الترمذي (2476) وغيره، وإسناده حسن في المتابعات والشواهد، وحسنه الترمذي.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو سنن ترمذی (2476) وغیرہ میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: متابعات و شواہد کی بنیاد پر اس کی سند حسن ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
ويشهد لقصة مصعب بن عمير حديث إبراهيم بن محمد العبدري عن أبيه مرسلًا فيما سلف برقم (4965)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے قصے کی شاہد ابراہیم بن محمد العبدری عن ابیہ کی "مرسل" روایت ہے جو پہلے حدیث نمبر (4965) پر گزر چکی ہے، اگرچہ اس کی سند ضعیف ہے۔
وانظر حديث طلحة النصري السالف برقم (4336)، وذكرنا عنده أحاديث الباب.
📝 نوٹ / توضیح: اس باب کی دیگر احادیث کے لیے حضرت طلحہ النصری رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث نمبر (4336) ملاحظہ فرمائیں۔