المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
984. ذكر سهيل ابن بيضاء رضي الله عنه
سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6787
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت البُناني، حدثني عمر بن أبي سَلَمة بن عبد الأسد، عن أمِّه أمِّ سلمة، أنَّ أباه أبا سلمة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أصابت أحدَكم مصيبةٌ فليقُلْ: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهمَّ عندك أحتسبُ مُصِيبتي"، وذكر الحديثَ بطوله (1) .
هذا حديث مخرَّج في"الصحيحين"، وإنما خرجتُه لأني لم أجد لأبي سلمة عن رسولِ الله ﷺ حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا (2) . ذكرُ سُهيل (3) ابن بَيضاءَ ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6642 - أخرجاه
هذا حديث مخرَّج في"الصحيحين"، وإنما خرجتُه لأني لم أجد لأبي سلمة عن رسولِ الله ﷺ حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا (2) . ذكرُ سُهيل (3) ابن بَيضاءَ ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6642 - أخرجاه
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو مصیبت پہنچے اس کو چاہیے کہ وہ یوں کہے: انا للہ و انا الیہ راجعون، اللھم عندک احتسب مصیبتی اس کے بعد پوری مفصل حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے، میں نے اس مقام پر اس کو اس لئے درج کیا ہے کہ مجھے اس حدیث کے علاوہ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی کوئی اور مسند حدیث نہیں ملی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6787]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6787 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن سيأتي عند المصنف مطولًا برقم (6912) عن الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل عن السري بن خزيمة بزيادة ابن عمر بن أبي سلمة بين أبيه عمر وثابت البناني، ولم يذكر فيه أبا سلمة. ورواه كرواية الحسن بن يعقوب هذه أبو داود في "سننه" (3119) عن موسى بن إسماعيل.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں آگے چل کر حدیث نمبر (6912) میں یہ تفصیل سے آئے گی، جہاں عمر بن ابی سلمہ اور ثابت بنانی کے درمیان "ابنِ عمر بن ابی سلمہ" کا اضافہ ہے اور وہاں ابو سلمہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابو داود نے بھی اپنی سنن (3119) میں اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وانظر تمام الكلام على الحديث فيما سلف برقم (2769).
📝 نوٹ / توضیح: اس حدیث پر مکمل بحث سابقہ حدیث نمبر (2769) کے تحت ملاحظہ کریں۔
(2) من قوله: هذا حديث مخرج في "الصحيحين" إلى هنا سقط من (ص).
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے قول "یہ حدیث صحیحین میں ہے" سے لے کر یہاں تک کی عبارت نسخہ (ص) سے ساقط ہے۔
(3) في العنوان وبقية أحاديث الباب في (ص) والنسخة المحمودية: سهل، والمثبت من (م) و (ب)، وسهل وسهيل أخوان.
🔍 ناموں کی تحقیق: نسخہ (ص) اور نسخہ محمودیہ کے عنوان اور دیگر احادیث میں یہ نام "سہل" لکھا ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (م) اور (ب) کے مطابق "سہیل" لکھا ہے۔ واضح رہے کہ سہل اور سہیل دونوں بھائی ہیں۔