المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1016. تزوج النبى عائشة - رضي الله عنها -
نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا
حدیث نمبر: 6862
قال ابن عمر: فحدثنا موسى بن محمد بن عبد الرحمن، عن رَيْطة، عن عَمْرة، عن عائشة أنها سُئلت: متى بَنَى بكِ رسولُ الله؟ فقالت: لما هاجرَ رسولُ الله ﷺ إلى المدينة خلَّفَنا وخلَّف بناتِه، فلما قَدِمَ المدينة بعث إلينا زيدَ بن حارثة وبعث معه أبا رافعٍ مولاه، وأعطاهم بعيرَينِ وخمسَ مئة درهم أخذَها رسولُ الله ﷺ من أبي بكر يشتريان بها ما يحتاجانِ إليه من الظَّهْر، وبعث أبو بكر معهما عبدَ الله بن أُريقط الدِّيلي ببعيرين أو ثلاثةٍ، وكتب إلى عبد الله بن أبي بكر يأمُرُه أن يحملَ أهلَه: أمَّ رُومان وأنا وأختي أسماءَ امرأةَ الزُّبير، فخرجوا مُصطحِبِينَ. فلما انتهوا إلى قُديد اشترى زيدُ بن حارثة بتلك الخمسِ مئة درهم ثلاثةَ أبعرة، ثم دخلوا مكةَ جميعًا، وصادفوا طلحةَ بن عبيد الله يريدُ الهجرةَ بآلِ أبي بكر، فخرجنا جميعًا، وخرجَ زيدُ بن حارثة وأبو رافع بفاطمةَ وأمِّ كلثوم وسَوْدةَ بنت زَمْعة، وحمل زيدٌ أمَّ أيمنَ وأسامةَ بن زيد، وخرج عبدُ الله بن أبي بكر بأمِّ رُومان وأختيه، وخرج طلحةُ بن عبيد الله، واصطحبنا جميعًا، حتَّى إذا كُنَّا بالبَيْض من تمنِّي (1) نفَرَ بعيري وأنا في مِحَفَّة معي فيها أُمِّي، فجعلَتْ أمِّي تقول: وابِنتاهُ واعَرُوساهْ! حتَّى أُدرك بعيرنا وقد هَبطَ من لَفْت (2) فَسَلِمَ. ثم إنَّا قَدِمنا المدينة فنزلتُ مع عِيالِ أبي بكر، ونزل آلُ (3) رسولِ الله ﷺ وهو يومئذٍ يبني المسجدَ وأبياتَنا حولَ المسجد، فأنزل فيها أهلَه، ومكثنا أيامًا في منزلِ أبي بكر. قال أبو بكر: يا رسولَ الله، ما يمنعُك أن تَبنيَ بأهلِك؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"الصَّدَاق"، فأعطاه أبو بكر اثنتي عشرةَ (4) أوقيّةً ونَشًّا، فبعث [بها] رسولُ الله ﷺ إلينا، وبَنَى بي رسول الله ﷺ في بيتي هذا الذي أنا فيه، وهو الذي توفِّي فيه رسولُ الله ﷺ ودُفِنَ فيه، وجَعَلَ رسولُ الله ﷺ لنفسِه بابًا في المسجد وِجاهَ باب عائشةَ. قالت: وبَنَى رسول الله ﷺ بسَوْدة في أحدِ تلك (1) البيوت التي إلى جنبي، وكان رسولُ الله ﷺ يكونُ عندها. قال: وتُوفِّيَت عائشة ﵂ سنةَ ثمانٍ وخمسين في شهر رمضانَ (2) .
سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ کی رخصتی کب ہوئی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر گئے تو آپ کی صاحبزادیوں کو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں اور اہل و عیال کو مکہ ہی میں چھوڑ گئے تھے۔ جب آپ مدینہ منورہ پہنچ گئے تب آپ نے ہماری طرف سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ہمراہ اپنے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا، ان لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اونٹ اور 500 درہم دیئے، تاکہ اس سے وہ اپنی ضرورت کی سواری خرید لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب مدینہ منورہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن اریقط دیلی رضی اللہ عنہ کو دو یا تین اونٹ دے کر بھیجا اور سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی جانب خط لکھ کر حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی ” ام رومان “ کو، مجھے اور میری بہن اسماء زوجہ زبیر کو ساتھ لے کر مدینہ شریف آ جائیں، یہ لوگ صبح سویرے وہاں سے نکل پڑے، مقام قدید میں پہنچ کر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان 500 درہموں کے تین اونٹ خریدے، پھر سب لوگ مکہ میں آ گئے، ادھر طلحہ بن عبیداللہ بھی ہجرت کے ارادے سے آل ابوبکر کے پاس آ گئے، چنانچہ ہم سب اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لیا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ” ام ایمن “ کو اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا، سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ” ام رومان اور اپنی دونوں بہنوں کو ساتھ لیا۔ اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ بھی ساتھ ہی روانہ ہو گئے، جب ہم منیٰ سے مقام بیض میں پہنچے تو میرا اونٹ بھاگ گیا اور میں پالکی میں موجود تھی میرے ساتھ میری والدہ بھی تھی، میری والدہ ” وابنتاہ “ اور ” واعروساہ “ کی آوازیں لگانے لگی، پھر ہمارا اونٹ مل گیا وہ لفت پہاڑی سے نیچے گر گیا تھا لیکن (کسی چوٹ وغیرہ سے) سلامت رہا۔ پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال کے ہمراہ ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مسجد اور اس کے ساتھ حجرے تعمیر فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو ان میں ٹھہرایا، ہم تھوڑا عرصہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں ہی ٹھہرے۔ ایک دفعہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابھی تک رخصتی نہ لینے کی وجہ دریافت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق مہر (نہ ہونے) کی وجہ سے میں رخصتی نہیں لے رہا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو 12 اوقیہ اور ایک نش (ایک نش نصف اوقیہ کا ہوتا ہے، اس کی مالیت 500 درہم ہوتی ہے۔ شفیق) بطور تحفہ دے دیئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب ہماری طرف (بطور حق مہر) بھیجا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس حجرے میں سلسلہ ازدواج شروع فرمایا۔ یہ وہی حجرہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور اسی میں آپ کی تدفین بھی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے سامنے مسجد میں دروازہ رکھا، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پہلو میں جو تین حجرے ہیں، ان میں سے ایک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ازدواج کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس ہوا کرتے تھے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وصال رمضان المبارک میں سن 58 ہجری کو ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6862]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6862 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: بالبيض، قال صاحب "مراصد الاطلاع" 1/ 243: بالفتح، من منازل بني كِنانة بالحجاز.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قولِ راوی "بالبیض": صاحبِ "مراصد الاطلاع" 1/ 243 نے کہا: "بَریض" (فتحہ کے ساتھ) حجاز میں بنو کنانہ کی منزلوں میں سے ایک ہے۔
وقال 1/ 275: "تمنِّي" بفتحتين وتشديد النون وكسرها: أرض إلى المدينة دون ثنيَّة هَرْشَى (في طريق مكة قريبة من الجُحفة، تُرى من البحر) بها جبالٌ يُقال لها: البَيض.
📝 نوٹ / توضیح: اور 1/ 275 میں فرمایا: "تَمَنِّی" (دو فتحہ اور نون کی تشدید و کسرہ کے ساتھ): مدینہ کی طرف ایک زمین ہے جو "ثنیۃ ہرشیٰ" سے پہلے ہے (مکہ کے راستے میں جحفہ کے قریب، جو سمندر سے نظر آتی ہے)، وہاں پہاڑ ہیں جنہیں "البیض" کہا جاتا ہے۔
(2) لفت: قال في "المراصد" 3/ 1206: هي ثنيّة بين مكّة والمدينة. ونقل عن القاضي عياض في ضبطها ثلاثة أوجه: بفتح اللَّام وسكون الفاء، وبالتحريك، وبكسر اللَّام وسكون الفاء.
📝 نوٹ / توضیح: (2) "لفت": صاحبِ "المراصد" 3/ 1206 نے کہا: یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک گھاٹی (ثنیہ) کا نام ہے۔ اور قاضی عیاض سے اس کے اعراب (ضبط) میں تین طریقے نقل کیے ہیں: لام کے فتحہ (زبر) اور فاء کے سکون کے ساتھ (لَفْت)، متحرک (لَفَت)، اور لام کے کسرہ (زیر) اور فاء کے سکون کے ساتھ (لِفْت)۔
(3) في النسخ الخطية: إلى، ومثله في "ذيل المذيل" للطبري، ولم ترد في (ص)، والمثبت من "طبقات ابن سعد".
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں "إلی" (تک) لکھا ہے، اور طبری کے "ذیل المذیل" میں بھی ایسے ہی ہے، جبکہ نسخہ (ص) میں یہ نہیں آیا، اور جو یہاں ثابت کیا گیا ہے وہ "طبقات ابن سعد" سے لیا گیا ہے۔
(4) في (ز) و (ب): اثني عشر، والمثبت من (ص).
📝 نوٹ / توضیح: (4) نسخہ (ز) اور (ب) میں "اثنی عشر" (بارہ) ہے، جبکہ یہاں نسخہ (ص) سے متن ثابت کیا گیا ہے۔
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: ثلاث، وأثبتناه على الصواب من "طبقات ابن سعد".
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "ثلاث" (تین) بن گیا تھا، جسے ہم نے "طبقات ابن سعد" سے درست کرکے یہاں ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف، وسبق الكلام على إسناده إلى محمد بن عمر الواقدي عند الحديث السالف برقم (4060)، وموسى بن محمد بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن حارثة بن النعمان، وأبوه المعروف بأبي الرّجال، فهو معروف النسب، لكن لم نقف له على ترجمة، وكذا ريطة لم نعرفها.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمر الواقدی تک اس کی سند پر کلام حدیث نمبر (4060) کے تحت گزر چکا ہے۔ اور موسیٰ بن محمد بن عبد الرحمن: یہ ابن عبد اللہ بن حارثہ بن نعمان ہیں، اور ان کے والد "ابو الرجال" کے نام سے معروف ہیں، پس وہ معروف النسب ہیں لیکن ہمیں ان کا ترجمہ (حالاتِ زندگی) نہیں ملا، اور اسی طرح ریطہ کو بھی ہم نہیں پہچان سکے۔
وأخرجه ابن سعد في الطبقات" 10/ 62 - 6 والطبري كما في "المنتخب من ذيل المذيل" 11/ 601 - 602 من طريق الواقدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 10/ 62-66 میں اور طبری نے جیسا کہ "المنتخب من ذیل المذیل" 11/ 601-602 میں ہے، واقدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 23/ (60)، وابن عبد البر في ترجمة أم رومان من "الاستيعاب" ص 951 - 952 من طريق محمد بن الحسن بن زيالة المخزومي، عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة بنحوه. وابن زبالة متهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" 23/ (60) میں، اور ابن عبد البر نے "الاستیعاب" ص 951-952 میں ام رومان کے ترجمہ میں محمد بن حسن بن زبالہ المخزومی کے طریق سے، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی الزناد سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور ابن زبالہ متہم (جس پر جھوٹ کی تہمت ہو) ہے۔
وقصة الصداق سلفت مختصرة بسياق آخر عند المصنّف برقم (2799).
🧾 تفصیلِ روایت: اور مہر (صداق) کا قصہ مختصر طور پر دوسرے سیاق کے ساتھ مصنف کے ہاں نمبر (2799) پر گزر چکا ہے۔