المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1038. رؤية أم سلمة النبى بعد شهادة الحسين
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھنا
حدیث نمبر: 6921
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني حَبيب بن أبي ثابت، أنَّ عبد الحميد بن [أبي] عمرو والقاسم بن محمد أخبراه، أنهما سمعا أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يُخبر، أنَّ أمَّ سلمة زوجَ النَّبِيِّ ﷺ أخبرتهم: أنها ابنةُ أبي أُمية بن المغيرة فكذَّبوها، وقالوا: ما أكذب الغريبَ! حتَّى أنشأ ناسٌ إلى الحجَّ، فقيل لها: تكتبينَ إلى أهلك؟ فكتبَتْ معهم، فازدادوا لها كرامةً. قالت أمِّ سلمة: فلما وضعتُ زينب تزوَّجني رسولُ الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6766 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6766 - حذفه الذهبي من التلخيص
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ مدینہ منورہ آئیں، تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ ابی امیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں، تو لوگوں نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا اور اس بات کو سراسر جھوٹ سمجھے، حتیٰ کہ حج کے لئے قافلے جانا شروع ہو گئے، لوگوں نے ان سے کہا: تم اپنے گھر والوں کی طرف خط لکھو، انہوں نے خط لکھ کر ان لوگوں کے حوالے کر دیا، جب حاجیوں کے قافلے واپس آئے تو انہوں نے ان کی تصدیق کی، حاجیوں کی اس تصدیق کے بعد ان لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت بہت بڑھ گئی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زینب کی پیدائش کے بعد میری شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6921]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6921 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين، عبد الحميد بن عبد الله بن أبي عمرو والقاسم بن محمد - وهو ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام المخزومي - تفرَّد بالرواية عنهما حبيب بن أبي ثابت، وذكرهما ابن حبان في "الثقات"، فيتقوى أحدهما بالآخر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔ عبدالحمید بن عبداللہ بن ابی عمرو اور القاسم بن محمد (ابن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی)—ان دونوں سے روایت کرنے میں حبیب بن ابی ثابت منفرد ہیں، اور ابن حبان نے ان دونوں کو "الثقات" میں ذکر کیا ہے، لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔
وأخرجه مطولًا بأوضح ممّا هنا أحمد (44/ 26619) و (26620)، والنسائي (8877)، وابن حبان (4065) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26619، 26620)، نسائی (8877) اور ابن حبان (4065) نے ابن جریج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ طویل اور یہاں سے زیادہ واضح الفاظ میں روایت کیا ہے۔