المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1047. رُؤْيَا جُوَيْرِيَةَ سُقُوطَ الْقَمَرِ فِي حِجْرِهَا
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ چاند ان کی گود میں آ گرا
حدیث نمبر: 6948
قال ابن عمر: وحدثني حزام بن هشام، عن أبيه قال: قالت جُويرية بنت الحارث: رأيتُ قبل قُدومِ النبيِّ ﷺ بثلاثِ ليالٍ كأنَّ (2) القمر أقبلَ يسيرُ من يثربَ حتى وقع في حَجْري، فكرهتُ أن أخبرَ بها أحدًا من الناس، حتى قَدِمَ رسولُ الله ﷺ، فلما سُبِينا رجوتُ الرؤيا، فلما أعتقني وتزوّجني، والله ما كلَّمتُه في قومي حتى كان المسلمون هم الذين أرسَلُوهم، وما شَعَرتُ [إلَّا] بجارية من بنات عمِّي تُخبِرني الخبرَ، فَحَمِدتُ الله ﷿ (3) .
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے تین رات پہلے میں نے خواب دیکھا کہ گویا چاند یثرب سے چل کر آیا اور میری گود میں آ گرا، میں نے یہ بات کسی کو بتانا پسند نہ کیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، جب ہم قید ہوئے تو مجھے اپنے خواب کی تعبیر کی امید ہوئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد کر کے مجھ سے نکاح فرما لیا تو اللہ کی قسم! میں نے اپنی قوم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ مسلمانوں نے خود ہی انہیں رہا کر دیا، مجھے تو اس وقت پتا چلا جب میری ایک چچا زاد لڑکی نے آ کر مجھے یہ خبر دی، جس پر میں نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6948]
تخریج الحدیث: «من فوق الواقديّ لا بأس بهم.» [ترقيم الرساله 6948] [ترقيم الشركة 6868]
الحكم على الحديث:
من فوق الواقديّ لا بأس بهم.
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6948 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: كأنه، إلَّا (ب)، ففيها: كأنهن، والمثبت من النسخة المحمودية، وهو الموافق لما في مصدري التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (سوائے نسخہ 'ب' کے) لفظ "کأنہ" ہے، جبکہ 'ب' میں "کأنھن" ہے۔ ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جو تخریج کے مصادر کے موافق ہے۔
(3) من فوق الواقديّ لا بأس بهم.
⚖️ درجۂ حدیث: واقدی سے اوپر والے راوی "لا بأس بھم" (قابل قبول) ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 50 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (4/ 50) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6948 in Urdu