🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1055. كَانَتْ مَيْمُونَةُ أَتْقَانَا لِلَّهِ وَأَوْصَلَنَا لِلرَّحِمِ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6966
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْوٍ، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا كثير بن هشام قال: جعفر بن بُرْقان: حدثنا يزيد بن الأصم ابن أخت ميمونة قال: تلقيتُ عائشة ﵂ وهي مُقبلةٌ من مكة أنا وابن الطلحة بن عبيد الله، وهو ابن أختها، وقد كنَّا وَقَعْنا في حائط من حيطان المدينة، فأصبنا منه، فبلغها ذلك، فأقبلت على ابن أختها تلومُه وتَعدُلُه، وأقبلت عليّ فوعظتني موعظة بليغة، ثم قالت: أما علمت أن الله تعالى ساقك حتى جعلك في أهل بيت نبيه؟! ذهبَتْ والله ميمونةٌ ورُميَ برَسَنِكَ على غاربكَ، أما إنها كانت من أتقانا الله ﷿ وأوصلنا للرَّحِم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6799 - على شرط مسلم
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے یزید بن اصم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور طلحہ بن عبید اللہ کے صاحبزادے (جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے) مکہ سے آتی ہوئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملے، ہم مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہو گئے تھے اور وہاں سے کچھ پھل وغیرہ کھا لیے تھے، جب انہیں یہ بات پہنچی تو وہ اپنے بھانجے کو ملامت کرنے اور ڈانٹنے لگیں، پھر میری طرف متوجہ ہو کر مجھے بڑی بلیغ نصیحت فرمائی اور کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کھینچ کر اپنے نبی کے اہل بیت میں لے آیا ہے؟ اللہ کی قسم! میمونہ تو رخصت ہو گئیں اور اب تمہاری رسی تمہاری پیٹھ پر ڈال دی گئی ہے (یعنی اب تمہارا کوئی نگران نہیں رہا)، خبردار! وہ ہم سب میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والی اور صلہ رحمی (رشتہ داروں سے اچھا سلوک) کرنے والی تھیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6966]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، كما قال الحافظ ابن حجر في الإصابة" 8/ 128. وقال الذهبي في "التلخيص": فيه دليل على أن ميمونة ماتت قبل عائشة ﵂، فبطل قول من قال: ماتت سنة إحدى وستين.» [ترقيم الرساله 6966] [ترقيم الشركة 6887] [ترقيم العلميه 6799]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6966 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح كما قال الحافظ ابن حجر في الإصابة" 8/ 128. وقال الذهبي في "التلخيص": فيه دليل على أن ميمونة ماتت قبل عائشة ﵂، فبطل قول من قال: ماتت سنة إحدى وستين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (8/ 128) میں فرمایا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حافظ ذہبی "التلخیص" میں فرماتے ہیں: اس میں دلیل ہے کہ سیدہ میمونہ کی وفات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے پہلے ہوئی، لہٰذا ان لوگوں کا قول باطل ہو گیا جو کہتے ہیں کہ وہ سن 61 ہجری (سیدہ عائشہ کے بعد) میں فوت ہوئیں۔
وهو في مسند الحارث" كما في بغية الباحث" (455).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند الحارث" میں موجود ہے جیسا کہ "بغیۃ الباحث" (455) میں ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 134، وابن أبي شيبة 6/ 88، وأبو نعيم في الحلية" 4/ 97 من طريق كثير بن هشام، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 134)، ابن ابی شیبہ (6/ 88) اور ابو نعیم نے "الحلیہ" (4/ 97) میں کثیر بن ہشام کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر 65/ 126 من طريق محمد بن سليمان الحراني، عن جعفر بن برقان به. وأخرجه مختصرًا أبو زرعة الدمشقي في تاريخه ص 495 من طريق ميمون بن مهران، عن يزيد بن الأصم أنه سمع عائشة ﵂ تقول: كانت ميمونة أتقانا الله، وأوصلنا للرحم. وقال أبو زرعة عقبه: فدلنا قول عائشة ﵂ هذا: "كانت ميمونة"، أنها تقدمتها بالموت، وهي وحفصة توفيتا قبل عائشة ﵂.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (65/ 126) نے محمد بن سلیمان الحرانی عن جعفر بن برقان کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اور ابو زرعہ دمشقی نے اپنی تاریخ (ص 495) میں مختصراً یزید بن الاصم کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا: "میمونہ ہم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی تھیں"۔ ابو زرعہ اس کے بعد فرماتے ہیں: سیدہ عائشہ کا یہ فرمانا کہ "میمونہ تھیں" (صیغہ ماضی)، اس بات کی دلیل ہے کہ میمونہ ان سے پہلے فوت ہوئیں، وہ اور حفصہ دونوں عائشہ سے پہلے فوت ہوئیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6966 in Urdu