المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1062. ذكر نكاح الكلابية وطلاقها
سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور طلاق کا ذکر
حدیث نمبر: 6985
قال: وذكر هشام بن محمد: أنَّ ابنَ الغَسِيل حدثه عن حمزة بن أبي أسيد الساعدي، عن أبيه، وكان بدريًا قال: تزوّج رسول الله ﷺ أسماء بنت النعمان الجونيّة، فأرسلني فجئتُ بها، فقالت حفصة لعائشة: اخضبيها أنتِ، وأنا أمشُطُها، ففعلتا، ثم قالت لها إحداهما: إن النَّبيّ ﷺ يعجبه من المرأة إذا دخلت عليه أن تقول: أعوذُ بالله منك، فلما دخلت عليه أغلق الباب وأرخى السِّترَ مدَّ يده إليها، فقالت: أعوذُ بالله منك، فقال رسول الله ﷺ بكُمِّه على وجهه، فاستَتَرَ به، وقال:"عُذتِ مَعَاذًا" ثلاث مرات. قال أبو أسيد: ثم خرج عليَّ فقال:"يا أبا أسيد، ألحقها بأهلها، ومتِّعها برازِقِيَّين" يعني كِرباسين، فكانت تقول: ادعُونِي الشَّقيَّة (1) . قال ابن عمر قال هشام بن محمد: فحدثني زهير بن معاوية الجعفي: أنها ماتت كَمَدًا.
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں، آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بنت نعمان جونیہ کے ساتھ نکاح کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لینے کے لئے مجھے بھیجا تھا، میں جا کر ان کو لے آیا، (جب وہ آ گئیں تو) ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں اس کو خضاب لگاؤں گی اور تو اس کو کنگھی کرنا: پھر ان دونوں نے یہ کام کیا۔ اس کے بعد ان میں سے ایک (اسماء سے) کہنے لگی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی بیوی ان کے پاس جائے تو وہ کہے ” اعوذ باللہ منک “۔ (میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں)۔ جب اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں داخل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کیا، اور پردے لٹکا دئیے، اور اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تو اس نے کہہ دیا ” اعوذ باللہ منک “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین کے ساتھ اپنا چہرہ چھپایا، اس سے پردہ کر لیا اور اس سے فرمایا: تجھے پناہ دی گئی ہے، یہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے۔ سیدنا ابواسید فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: اے ابواسید! تم اس کو اس کے گھر والوں تک پہنچا دو، اور اس کو دو رازقین یعنی دو کرباس حق مہر دے دو۔ اسماء بنت نعمان کہا کرتی تھیں: مجھے ” شقیہ “ (بدبخت) کہہ کر پکارا کرو۔ زہیر بن معاویہ جعفی کہتے ہیں: وہ دل کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6985]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6985 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف واه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، هشام بن محمد - وهو الكلبي - متروك. ابن الغسيل: هو عبد الرحمن بن سليمان بن عبد الله بن حنظلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف واہی" (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی ہشام بن محمد (الکلبی) "متروک" ہے۔ "ابن الغسیل" سے مراد عبد الرحمن بن سلیمان بن عبد اللہ بن حنظلہ ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 140 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 614 - عن الواقدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 140) میں اور ان کے طریق سے طبری نے "تاریخ" (11/ 614) میں واقدی سے روایت کیا ہے۔
الكرباس: ثوب من قطن أو كتان أبيض.
📚 لغت / توضیح: "کرباس" سے مراد سوتی یا کتان کا سفید کپڑا ہے۔