🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1064. ذكر سراري رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - فأولهن مارية القبطية أم إبراهيم .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈیوں کا ذکر جن میں سب سے پہلی سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا تھیں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی والدہ تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6987
أخبرني مَخلَد بن جعفر الباقرحي، حدثنا محمد بن جرير، قال: قال أبو عبيدة معمر بن المثنى: ثم تزوج رسول الله ﷺ حينَ قَدِمَ عليه وفد كِندة: قتيلة بنت قيس أخت الأشعث بن قيس في سنة عَشْرٍ، ثم اشتكى في النصف من صفر، ثم قبض يوم الاثنين ليومين مَضَيَا من شهر ربيع الأول، ولم تكن قَدِمَتْ عليه ولا دخل بها. ووَقَّتَ بعضُهم وقتَ تزويجه إياها، فزعم أنه تزوجها قبل وفاته بشهرين (1) . وزعم آخرون أنه تزوجها في مرضه. وزعم آخرون أنه أوصى أن تُخيَّر قتيلة، فإن شاءت [ضُرِبَ عليها الحجابُ وتَحرُمُ على المؤمنين، وإن شاءت فلتَنكِحْ مَن شاءت] (2) فاختارت النكاح، فتزوجها عكرمة بن أبي جهل بحضرموت، فبلغ أبا بكر، فقال: لقد هَمَمتُ أن أُحرِّقَ عليهما، فقال عمر بن الخطاب: ما هي من أمهات المؤمنين، ولا دخَلَ بها النَّبيّ ﷺ، ولا ضرَبَ عليها الحِجاب. وزعم بعضُهم أنها ارتدت (3) . ذكرُ سَرَارِيِّ رسول الله ﷺ فأولُهنَّ ماربَةُ القِبطية أم إبراهيم
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کندہ کا وفد آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعث بن قیس کی بہن قتیلہ بنت قیس کے ساتھ نکاح کیا، یہ سن 10 ہجری کی بات ہے، پھر ماہ صفر کے درمیان حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، اور اسی سال 12 ربیع الاول، سوموار کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا، قتیلہ نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہمبستری فرمائی۔ بعض محدثین نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا وقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک مہینہ پہلے اس سے نکاح کیا تھا۔ دیگر محدثین کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں اس سے نکاح کیا تھا۔ کچھ محدثین کا یہ موقف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ قتیلہ کو اختیار دیا جائے، اگر وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو اس کو کرنے دیا جائے، چنانچہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل نے حضرموت میں اس سے نکاح کیا۔ اس بات کی اطلاع سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: میرا تو ارادہ ہے کہ ان دونوں کو جلا ڈالوں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ امہات المومنین میں سے تو نہیں ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہمبستری کی ہے۔ نہ اس پر پردے کے احکام نافذ فرمائے ہیں۔ بعض محدثین تو کہتے ہیں کہ وہ مرتد ہو گئی تھی۔ (العیاذ باللہ) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6987]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6987 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى بشهر، والمثبت من كتاب "أزواج النَّبيّ ﷺ" لأبي عبيدة ص 272، ومن "دلائل النبوة" للبيهقي 7/ 288، حيث أورده عن الحاكم نفسه عن أبي عبيدة.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بشہر" لکھا گیا ہے۔ درست متن ابو عبیدہ کی کتاب "ازواج النبی ﷺ" (ص 272) اور بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (7/ 288) سے لیا گیا ہے، جہاں انہوں نے اسے خود حاکم سے (ابو عبیدہ کے واسطے سے) نقل کیا ہے۔
(2) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، وأثبتناه من "الدلائل" للبيهقي، وهو بنحوه في كتاب أبي عبيدة المذكور.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط ہے، ہم نے اسے بیہقی کی "الدلائل" سے ثابت کیا ہے، اور یہی مضمون ابو عبیدہ کی مذکورہ کتاب میں بھی موجود ہے۔
(3) وأخرج إسحاق بن راهويه (959)، والبزار (2444 - كشف الأستار)، والطحاوي في "شرح المشكل" (653)، وابن الأعرابي في "معجمه" (1071)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7481) من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن داود بن أبي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ تزوج قتيلة أخت الأشعث بن قيس، فمات قبل أن يخيرها، فبرأها الله منه. ورجاله ثقات، لكن اختلف على داود في وصله وإرساله كما سيأتي.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج اسحاق بن راہویہ (959)، بزار (2444 - کشف الاستار)، طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (653)، ابن الاعرابی نے "معجم" (1071) اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7481) میں عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ کے طریق سے کی ہے، وہ داود بن ابی ہند سے، وہ عکرمہ سے، اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: کہ رسول اللہ ﷺ نے قتیلہ (اشعث بن قیس کی بہن) سے نکاح کیا، لیکن آپ ﷺ اسے اختیار دینے (یا رخصتی) سے قبل وفات پا گئے، تو اللہ نے اسے آپ سے بری کر دیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال (راوی) ثقہ ہیں، لیکن داود (بن ابی ہند) پر اس روایت کو "موصول" یا "مرسل" بیان کرنے میں اختلاف ہوا ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
وأخرجه أبو زرعة الدمشقي في "تاريخه"ص 491، والطحاوي (654) من طريق عباد بن العوام، عن داود بن أبي هند، به بلفظ: أن رسول الله ﷺ تزوج قتيلة، فارتدت مع قومها ولم يخيرها رسول الله ﷺ ولم يحجبها، فبرأه الله منها.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابو زرعہ الدمشقی نے اپنی "تاریخ" (ص 491) اور طحاوی (654) نے عباد بن العوام کے طریق سے، داود بن ابی ہند سے ان الفاظ کے ساتھ کی ہے: "رسول اللہ ﷺ نے قتیلہ سے نکاح کیا، پھر وہ اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہو گئی، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے (ابھی) اختیار نہیں دیا تھا اور نہ ہی اسے پردہ کروایا تھا، پس اللہ نے آپ کو اس سے بری کر دیا۔"
وأخرجه مرسلًا الطحاوي (654 م) من طريق حماد بن سلمة - واللفظ له - وأبو نعيم (7482) من طريق عبد الوهاب بن عبد المجيد، كلاهما عن داود، عن الشعبي: أنَّ نبي الله ﷺ تزوج قتيلة بنت قيس ومات عنها، ثم تزوجها عكرمة بن أبي جهل، فأراد أبو بكر أن يقتله، فقال له عمر: إن النَّبيّ ﷺ لم يحجبها، ولم يقسم لها، ولم يدخل بها، وارتدت مع أخيها عن الإسلام، وبرئت من الله ومن رسوله، فلم يزل به حتى تركه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طحاوی (654 م) نے حماد بن سلمہ کے طریق سے (الفاظ انہی کے ہیں) اور ابو نعیم (7482) نے عبد الوہاب بن عبد المجید کے طریق سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔ یہ دونوں داود سے، اور وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ: 🧾 تفصیلِ روایت: نبی کریم ﷺ نے قتیلہ بنت قیس سے نکاح کیا اور (رخصتی سے قبل) وفات پا گئے۔ پھر اس سے عکرمہ بن ابی جہل نے شادی کر لی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (غصے میں) عکرمہ کو قتل کرنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "نبی کریم ﷺ نے نہ اسے پردہ کروایا، نہ اس کی باری مقرر کی، نہ اس سے دخول فرمایا، اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ اسلام سے مرتد ہو کر اللہ اور اس کے رسول سے بری ہو گئی تھی۔" حضرت عمر مسلسل سمجھاتے رہے یہاں تک کہ ابو بکر نے اسے چھوڑ دیا۔
وأخرجه ابن سعد 10/ 142 من طريق وهيب، عن داود بن أبي هند، فذكره معضلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 142) نے وہیب کے طریق سے داود بن ابی ہند سے روایت کیا، اور اسے "معضل" (سند میں کٹاؤ کے ساتھ) ذکر کیا۔