المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1132. ذِكْرُ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا -
سیدہ صفیہ بنت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7115
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُبيد الله بن عبد الله بن أبي ثَوْر، عن صفيَّةَ بنتِ شَيْبة بن عثمان قالت: والله لكأنِّي أنظُرُ إلى نبيِّ الله ﷺ لتلك الغداةَ حينَ دخلَ الكعبةَ، ثم خرَجَ منها ووَقَفَ على بابها، وإِنَّ في يده لحمامةٌ من عَيْدانٍ كانت في الكعبة، فكسرَها، فخرَجَ بها حتى إذا كان على باب الكعبة رَمَى بها (2) . ذكرُ فاطمةَ بنت أبي حُبَيش ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6938 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6938 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ صفیہ بنت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! گویا میں اس صبح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے، پھر وہاں سے نکل کر اس کے دروازے پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتر کی مورتی تھی جو کعبہ میں رکھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا اور جب کعبہ کے دروازے پر آئے تو اسے باہر پھینک دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7115]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن.» [ترقيم الرساله 7115] [ترقيم الشركة 7033] [ترقيم العلميه 6938]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7115 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2947) عن محمد بن عبد الله بن نمير، عن يونس بن بكير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (2947) میں محمد بن عبداللہ بن نمیر عن یونس بن بکیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وزاد في أوله: لما اطمأن رسول الله ﷺ عام الفتح، طافَ على بعير يستلمُ الرُّكن بمحجن بيده.
🧾 تفصیلِ روایت: اس کے شروع میں یہ اضافہ ہے کہ: "جب فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو اطمینان نصیب ہوا تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی (محجن) سے حجرِ اسود (رکن) کا استلام کیا"۔
وهذه الزيادة أخرجها وحدَها أبو داود (1878) دون بقية الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: یہ مذکورہ بالا اضافہ اکیلا امام ابوداؤد (1878) نے روایت کیا ہے، باقی حدیث ذکر نہیں کی۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7115 in Urdu