المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1139. ذِكْرُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا -
سیدہ اُمیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7123
حدَّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن المُنكدر، عن أُميمة بنت رُقَيقة التميمية قالت: بايعتُ رسولَ الله ﷺ في النِّسوة من المسلمين، فقلنا له: جئناك يا رسولَ الله نبايعُك على أن لا نُشرِكَ بالله شيئًا، ولا نَسرِقَ، ولا نزنيَ، ولا نقتُلَ أولادَنا، ولا نأتيَ ببُهتانٍ نفتريه بين أيدينا وأرجلِنا، ولا نَعصيَك في معروفٍ، فقال رسولُ الله ﷺ:"فيما استطعتُنَّ وأطقتُنَّ" فقلنا: الله ورسولُه أرحمُ بنا من أنفسِنا، فقلنا: بايِعْنا يا رسولَ الله، قال:"اذهبْنَ، قد بايعتُكنَّ، إنما قولي لامرأةٍ واحدةٍ كقَولي لمئةِ امرأةٍ"، وما صافحَ رسولُ الله ﷺ منَّا أحدًا (4) .
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ تمیمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے مسلمان خواتین کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات پر بیعت کرنے آئی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی اور کسی نیک کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کاموں میں جن کی تم میں طاقت اور استطاعت ہو“، ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہماری اپنی جانوں سے بھی زیادہ مہربان ہیں، پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم سے بیعت لیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تم سے بیعت لے لی ہے، میرا ایک عورت سے کلام کرنا ویسا ہی ہے جیسا سو عورتوں سے کلام کرنا“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے کسی خاتون سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7123]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وابن إسحاق» [ترقيم الرساله 7123] [ترقيم الشركة 7041]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7123 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وابن إسحاق - وهو محمد - قد صرَّح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) نے یہاں سماع کی تصریح (تحدیث) کر دی ہے، لہذا ان کے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (27007) من طريق إبراهيم بن سعد، عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد. وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد (27006) و (27008) و (27009) و (27010)، وابن ماجه (2874)، والترمذي (1597)، والنسائي (7756) و (7765) و (8660) و (8672) و (9196) و (11525)، وابن حبان (4553) من طرق عن محمد بن المنكدر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 44/ (27007) میں ابراہیم بن سعد از محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے مکمل اور مختصراً امام احمد (27006، 27008، 27009، 27010)، ابن ماجہ (2874)، ترمذی (1597)، نسائی (7756، 7765، 8660، 8672، 9196، 11525) اور ابن حبان (4553) نے محمد بن المنکدر کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7123 in Urdu