المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1140. ذكر بيعة النساء
خواتین سے بیعت لینے کا بیان
حدیث نمبر: 7124
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: أُميمة بنت رُقَيقةَ ورُقَيقةُ أمُّها، وأبوها عبدُ الله بن بِجاد بن عُمير بن الحارث بن حارثة بن سعد بن تَيْم بن مُرَّة، وأمُّها رُقَيقةُ بنتُ خُوَيلد بن أسد بن عبد العُزَّى أختُ خديجةَ بنت خُوَيلد بن أسد بن عبد العزَّى زوج النبيِّ ﷺ، واغتَرَبتْ (1) أُمَيمةُ فتزوَّجها حبيبُ بن كُعَيب بن عُتير الثَّقفي، فولدت له، وعاشت أُميمةُ بنت رُقيقةً بعدَ رسولِ الله ﷺ، وروَتْ عنه.
محمد بن عمر فرماتے ہیں: امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا۔ رقیقہ، ان کی والدہ ہیں، اور ان کے والد کا نام ” عبداللہ بن بجاد بن عمیر بن حارث بن حارثہ بن سعد بن تیم بن مرہ “ ہے۔ ان کی والدہ ” رقیقہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ “ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں، ان کے شوہر کے انتقال کے بعد، حبیب بن کعب بن عتیر ثقفی سے ان کی شادی ہوئی، ان کے ہاں ” نہدیہ “ پیدا ہوئیں، سیدنا امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد زندہ رہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کی۔ مذکورہ حدیث کی صحت کے حوالے سے ابوعبداللہ واقدی کی درج ذیل حدیث مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7124]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7124 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قال الجوهري في "الصحاح" 1/ 191: اغترب فلانٌ: إذا تزوَّج إلى غير أقاربه.
📝 نوٹ / توضیح: جوہری نے "الصحاح" 1/ 191 میں کہا ہے: "اغترب فلان" کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ داروں سے باہر (اجنبیوں میں) شادی کرے۔