🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1146. ذكر فضل المهاجرين
مہاجرین کی فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7139
حدَّثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدَّثنا حماد بن زيد، حدَّثنا حجَّاج الصوَّاف، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ الطُّفيل بن عمرو قال للنبيِّ ﷺ: هل لكَ في حِصْنٍ ومَنَعَةٍ، حِصْنِ دَوْس؟ فأبى رسولُ الله ﷺ لِمَا ذُخِرَ للأنصار، قال: فهاجرَ الطُّفيل وهاجَرَ معه رجلٌ من قومِه، فمَرِضَ الرجلُ، قال: فضَجِرَ - أو كلمةً شبيهة - فجاء إلى قَرَنٍ فأخذَ مِشقَصًا فقطع رواجِبَه فمات، فرآه الطُّفيل في المَنام، فقال: ما فُعلَ بكَ؟ قال: غُفِرَ لي بهجرتي إلى النبيِّ ﷺ، فقال: ما شأنُ يديكَ؟ قال: قيل لي: إنَّا لن نُصلِحَ منكَ ما أفسدتَ مِن نفسِك. قال: فقَصَّها الطُّفيلُ على النبيِّ ﷺ، فقال:"اللهمَّ ولِيدَيهِ فَاغفِرُ"، ورفعَ يَدَيْهِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6963 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کیا آپ دوس کے قلعہ اور اس کے چوکیداروں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے فضائل کی بناء پر اس بات سے انکار کر دیا۔ راوی نے فرمایا: طفیل نے ہجرت کی اور اس کے ہمراہ اس کی قوم کے ایک آدمی نے ہجرت کی، وہ آدمی بیمار ہو گیا، اور بہت بے قرار ہوا۔ (اس مقام پر بے قراری کے لئے ضجر یا اس سے ملتا جلتا کوئی لفظ بولا) پھر وہ قرن میں چلا گیا اور وہاں پر اس نے چھری کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹ لئے انگلیاں کاٹ لیں، جس کی وجہ سے وہ مر گیا، طفیل نے اس کو خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب میری ہجرت کی برکت سے مجھے بخش دیا ہے، انہوں نے پوچھا: تیرے ہاتھوں کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: مجھے کہا گیا: جس چیز کو تم نے خود ناقص کر لیا ہے ہم اس کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ سیدنا جابر فرماتے ہیں: اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قصہ سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی اے اللہ اس کے ہاتھوں کی بھی بخشش فرما دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7139]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7139 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14982)، ومسلم (116) من طريق سليمان بن حرب، عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 23/ (14982) اور امام مسلم نے (116) میں سلیمان بن حرب از حماد بن زید کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اسے اپنی کتاب میں بطورِ استدراک لانا ان کا "ذہول" (بھول/چوک) ہے (کیونکہ یہ پہلے ہی مسلم میں موجود ہے)۔
وأخرجه ابن حبان (3017) من طريق إسماعيل بن عليّة، عن حجاج بن أبي عثمان الصواف، به. ووقع في رواية البخاري في "الأدب المفرد" (614): فقطع وَدَجَيهِ فمات.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان (3017) نے اسماعیل بن علیہ از حجاج صواف کی سند سے روایت کیا ہے۔ امام بخاری کی "الادب المفرد" (614) میں یہ الفاظ ہیں: "اس نے اپنی رگیں کاٹ لیں اور مر گیا"۔
وسياق حديث جابر بن سمرة يؤيده: أنَّ رجلًا كانت به جراحة، فأتى قرنًا له فأخذ مشقصًا، فذبح به نفسه، فلم يصل عليه النبي ﷺ. أخرجه مسلم (978)، وابن حبان (3095) والسياق له. وقد سلف بنحوه عند الحاكم (1363).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت جابر بن سمرہ کی روایت اس کی تائید کرتی ہے کہ ایک شخص زخمی تھا، اس نے تیردان سے چوڑا پھل نکالا اور اپنا گلا کاٹ لیا، تو نبی ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔ (مسلم 978، ابن حبان 3095)۔
القَرَنُ: هو الجَعْبة، والمِشقص: هو نصلٌ طويل حاد.
📝 نوٹ / توضیح: "القرن" کا مطلب ہے تیر رکھنے والا ترکش (تیردان)، اور "المشقص" کا مطلب ہے تیر کا لمبا اور چوڑا تیز دھار پھل۔
والرواجب، قال في "النهاية": هي ما بين عقد الأصابع من داخل، واحدُها: راجبة، والبراجم: العقد المتشنجة في ظاهر الأصابع.
📝 نوٹ / توضیح: "الرواجب" انگلیوں کے جوڑوں کے اندرونی حصوں کو کہتے ہیں (واحد: راجبہ)، اور "البراجم" انگلیوں کی پشت پر جو جوڑ ابھرے ہوئے ہوتے ہیں انہیں کہا جاتا ہے۔